اسلام-ایک مکمل ہدایت اور انسانی ذمہ داری...ایف اے مجیب
اسلام مکمل اور متوازن نظامِ ہدایت ہے جو قرآن اور سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ یہ انسان سے جزوی نہیں بلکہ مکمل اطاعت کا تقاضا کرتا ہے اور ہر دور میں فکری انتشار سے نکال کر باوقار زندگی کی رہنمائی دیتا ہے

آج کا انسان ایک عجیب فکری کشمکش میں مبتلا ہے۔ ایک طرف روایت سے جڑا رہنے کا دباؤ ہے، اور دوسری طرف جدیدیت کے نام پر ہر چیز کو نئے سانچے میں ڈھال دینے کا رجحان۔ اس انتشار میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ دینِ اسلام کو اس کی اصل، جامع اور متوازن صورت میں سمجھنا ہے—ایسا فہم جو نہ اندھی تقلید کا اسیر ہو اور نہ بے لگام تاویلات کا شکار۔
اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کوئی وقتی یا محدود مذہب نہیں، بلکہ انسان کی ابتدا کے ساتھ ہی اس کا آغاز ہو چکا تھا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر ہر نبی نے انسان کو ایک ہی بنیادی پیغام دیا: ایک اللہ کی بندگی، پاکیزہ اخلاق، اور عدل پر مبنی زندگی۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ تعلیمات وقت کے ساتھ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکیں۔ وہ مخصوص قوموں اور ادوار تک محدود رہیں، اور انسانی مداخلت نے ان میں تبدیلیاں پیدا کر دیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں محمدؐ کی بعثت ایک فیصلہ کن مرحلہ بن کر سامنے آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین نہ صرف مکمل ہوا بلکہ اسے ایک ایسی عالمی اور دائمی شکل دی گئی جو قیامت تک کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ قرآن مجید اس دین کی محفوظ کتاب ہے، اور رسول اللہؐ کی سنت اس کی عملی تعبیر۔ یوں اسلام وہ واحد نظام ہے جہاں “ہدایت” صرف نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ، قابلِ عمل نمونہ بھی ہے۔
یہ امتیاز محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ دیگر مذاہب میں یا تو اصل تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں یا ان کا عملی نمونہ گم ہو گیا، مگر اسلام میں قرآن اور سنت ایک مربوط نظام کی صورت میں آج بھی موجود ہیں۔ ایک مسلمان نہ صرف یہ جان سکتا ہے کہ اللہ کا حکم کیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم پر عمل کیسے کیا جائے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: جب ہدایت اپنی مکمل اور محفوظ شکل میں موجود ہے، تو انسان کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس پیغام کو جزوی طور پر قبول کرے یا اپنی خواہشات کے مطابق اس کی تشریح کرے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کا تقاضا مکمل سپردگی ہے، نہ کہ انتخابی اطاعت۔
آج کے دور میں ایک طبقہ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ صرف قرآن کافی ہے اور سنت کی ضرورت نہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ بات معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ دین کو ایک ادھورا ڈھانچہ بنا دیتی ہے۔ قرآن اصول فراہم کرتا ہے، جبکہ سنت ان اصولوں کی عملی صورت پیش کرتی ہے۔ اصول اور عمل کو جدا کر دیا جائے تو دین ایک مجرد نظریہ بن کر رہ جاتا ہے، جس کا زندگی سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسری طرف کچھ لوگ دین کو محض ایک تاریخی ورثہ سمجھ کر اس کی عملی اہمیت کو کم کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام ایک زندہ اور متحرک نظام ہے۔ محمدؐ کی تعلیمات کسی خاص صدی یا معاشرے تک محدود نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں وہ حکمت اور لچک موجود ہے جو بدلتے حالات میں بھی انسان کو سیدھا راستہ دکھا سکتی ہے—بشرطیکہ اسے صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔
اگر اس پورے تصور کو سمیٹا جائے تو حقیقت نہایت واضح ہو جاتی ہے: ہدایت کا سلسلہ آدم علیہ السلام سے شروع ہوا، مگر اس کی تکمیل محمدؐ پر ہوئی۔ پہلے ادوار میں یہ ہدایت جزوی اور محدود تھی، مگر اب یہ مکمل، محفوظ اور عالمگیر صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جو آج کے انسان کو ایک مضبوط اور واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ ہدایت کہاں سے حاصل کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ موجود ہدایت کو کس حد تک قبول کیا جائے۔ ایک طرف وحی کی مکمل روشنی ہے، اور دوسری طرف انسان کی اپنی خواہشات اور تاویلات۔ کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنی سوچ کو وحی کے تابع کرے، نہ کہ وحی کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
آخرکار، آج کے انسان کے لیے سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ایک مکمل، محفوظ اور عالمگیر ہدایت اس کے سامنے موجود ہے، جو محمدؐ کے ذریعے اپنی آخری شکل میں پہنچی۔ اب اس پیغام کو سمجھنا، قبول کرنا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔ یہی اعتدال انسان کو فکری انتشار سے نکال کر ایک بامقصد، باوقار اور متوازن زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
