کیا ہندوستان اپنے ہی پڑوس میں اچھوت بنتا جا رہا ہے؟...اشوک سوین
ہندوستان کی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کے دعووں کے باوجود جنوبی ایشیا میں چین کا اثر بڑھ رہا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے جھکاؤ نے ہندوستان خارجہ پالیسی کی ناکامی نمایاں کر دی ہے

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کا بیجنگ دورہ، جہاں انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ’سرحدی مذاکرات‘ کیے، 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والی آئندہ برکس سربراہی کانفرنس سے پہلے سفارتی زمین ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ اگر صدر شی جن پنگ کانفرنس میں شریک نہیں ہوتے تو اس کی اہمیت پھیکی پڑ جائے گی، جبکہ اب تک ہندوستان کے پاس ان کی شرکت کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہے۔
متنازع ہمالیائی سرحد پر تزویراتی صورت حال بدلنے کے لیے چین کی جانب سے ہندوستانی علاقے میں منصوبہ بند دراندازی کے چھ برس بعد بھی ہندوستان سرحدی تنازع سے گریز کرتے ہوئے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عالمی سطح پر ایک افسوس ناک تماشہ ہے اور مودی حکومت کی چین پالیسی کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔
ملک کے اندر اگرچہ نریندر مودی کی سخت گیر اور جارحانہ قیادت کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن چین کے معاملے میں ہندوستان کا رویہ انتہائی کمزور اور محتاط رہا ہے۔ 2020 کی گلوان جھڑپ کے بعد، جب چین نے مشرقی لداخ کی وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا ہاٹ اسپرنگس کے علاقوں میں دراندازی کی، وزیر اعظم مودی نے یہ اعلان کر دیا کہ ہندوستانی سرحد میں کوئی داخل نہیں ہوا۔ اس حقیقت پردہ پوشی نے ہندوستان کا موقف کمزور کیا اور بیجنگ کو اپنی جارحانہ کارروائیوں کے لیے سیاسی و سفارتی تحفظ فراہم کیا۔ صورت حال یہ ہے کہ چین آج بھی سرحد پر مسلسل دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
آتم نربھرتا (خود کفالت) کے بلند بانگ دعووں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ہندوستان مشینری، الیکٹرانکس اور صنعتی خام مال کے لیے چین پر خاصا انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارہ 112.16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں ہی یہ خسارہ 67.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔
22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف ہندوستان کے ’آپریشن سندور‘ نے ایک اور خطرناک حقیقت آشکار کی، چین اور پاکستان کے درمیان زمینی سطح پر فوجی تعاون کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔ پاکستان نے چینی طیاروں، میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کا استعمال کیا۔ بعد ازاں ہندوستانی نائب سربراہِ بری فوج نے بیان دیا کہ چین نے پاکستان کو ہندوستانی تزویراتی تنصیبات کے بارے میں براہِ راست معلومات فراہم کی تھیں۔ بیجنگ اگرچہ باضابطہ طور پر سفارتی فاصلے کا مظاہرہ کرتا رہا، لیکن عملاً وہ پاکستان کی کھلی حمایت کر رہا تھا۔
جس دو محاذی خطرے سے نمٹنا ہندوستانی خارجہ پالیسی کی بنیادی ذمہ داری تھی، وہ اب ایک خوفناک حقیقت بن چکا ہے۔ ایک طرف پاکستان کو چین سے جدید ہتھیار، خفیہ معلومات اور سفارتی تحفظ حاصل ہو رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت ہند میڈیا کی سرخیاں سنبھالنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
چینی گھیراؤ کا خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ چین پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ نیپال بھی مسلسل چینی سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کے منصوبوں کی جانب مائل ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک سرمایہ، بنیادی ڈھانچے، منڈیوں اور سفارتی اثر و رسوخ کے لیے تیزی سے چین پر انحصار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ جھکاؤ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوس کو سنبھالنے میں کس حد تک ناکام رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالتے ہی بڑے جوش و خروش سے ’پڑوسی پہلے‘ کی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ بارہ برس بعد صورت حال یہ ہے کہ پڑوسی ممالک ان کی حکومت کی ترجیحات میں تقریباً آخری درجے پر دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ طرزِ عمل یہ ہے کہ کم دوستانہ حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے اور تعلقات خراب ہونے کے بعد معمولی سی امداد دے کر معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی جائے۔ چھوٹے پڑوسی ممالک احترام، اپنی خود مختاری کا اعتراف اور ایک مستحکم و قابلِ اعتماد پالیسی چاہتے ہیں۔ وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کسی تابع یا زیرِ دست ملک جیسا برتاؤ کیا جائے۔
اس کی سب سے نمایاں مثال بنگلہ دیش ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دوطرفہ تعلقات کو مکمل طور پر شیخ حسینہ کے ساتھ جوڑ دیا اور ان کے آمرانہ رجحانات کو نظر انداز کیا، کیونکہ وہ ہندوستان کے سلامتی مفادات کا تحفظ کرتی تھیں۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں جب حسینہ کو ملک چھوڑنا پڑا تو ہندوستان نے انہیں پناہ دے دی۔ نئی دہلی نے ان کی جگہ آنے والی عبوری حکومت پر بھی بداعتمادی کا اظہار کیا۔ نئے وزیر اعظم طارق رحمان نے بہتر تعلقات کے لیے پہل کی، لیکن ان کا ہندوستان کا دورہ فی الحال تعطل کا شکار ہے۔
ڈھاکہ کی ناراضگی اس وقت مزید بڑھی جب ہندوستان نے حسینہ کی حوالگی کے مطالبات پر خاموشی اختیار کیے اور حسینہ نے نئی دہلی سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ سرحد پر باڑ لگانے، لوگوں کو زبردستی ملک بدر کرنے اور بی جے پی رہنماؤں کے ہندوستان مخالف بیانات نے تلخی مزید بڑھا دی۔ رحمان ’مساوی خود مختاری‘ کی بات کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش اب پاکستان کے ساتھ بھی نسبتاً گرمجوشی دکھا رہا ہے اور چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ خطہ میں ہندوستان کے کم ہوتے اثر و رسوخ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
نیپال کے نئے وزیر اعظم بالین شاہ بھی اپنے ملک کی سفارتی ترجیحات ازسرنو طے کر رہے ہیں۔ شاہ نے اب تک ہندوستان کا دورہ نہیں کیا، جبکہ کھٹمنڈو میں ہندوستانی سفیر سے ملاقات کے فوراً بعد چینی سفیر سے ملاقات ان کے سفارتی توازن کا واضح اشارہ ہے۔ نیپال زراعت، صحت، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی چینی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2015 کی اقتصادی ناکہ بندی اور مودی حکومت کے ’بڑے بھائی‘ جیسے رویے کی یادیں آج بھی نیپال میں تازہ ہیں۔ ہندوستان یہ توقع نہیں کر سکتا کہ تاریخ اور جغرافیہ ہمیشہ اس کے لیے وفاداری کی ضمانت بنے رہیں گے۔
سری لنکا کی مثال بھی اہم ہے۔ 2025 میں وزیر اعظم ہرینی امراسوریا نے چند ہی دنوں کے وقفے سے چین اور ہندوستان کا دورہ کیا۔ بیجنگ میں انہوں نے کولمبو پورٹ سٹی، ہمبنٹوٹا بندرگاہ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے چینی تعاون کی کھل کر تعریف کی، جبکہ نئی دہلی میں تعلیم، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں ہندوستان کو اہم شراکت دار قرار دیا۔ سری لنکا کی یہ ’دو طرفہ سفارت کاری‘ چین اور ہندوستان کے درمیان تزویراتی و اقتصادی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے، لیکن چین کا بڑھتا ہوا معاشی وزن اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
مالدیپ میں ’انڈیا آؤٹ‘ مہم کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی محمد معیزو کی حکومت نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات خاصے مضبوط کر لیے ہیں۔ مالدیپ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر سعودی قیادت میں قائم ’کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد‘ میں شمولیت کی تجویز بھی منظور کی ہے۔ اس ابھرتے ہوئے سلامتی ڈھانچے میں ہندوستان کی عدم موجودگی ایک اور واضح اشارہ ہے کہ مالے اب نئی دہلی سے ہٹ کر اپنے تزویراتی راستے تلاش کر رہا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں چین نے بنیادی ڈھانچے اور معاشی اثر و رسوخ کے میدان میں نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ اس کی معیشت بہت بڑی ہے اور اس کے مالی وسائل اور فوجی طاقت بھی ہندوستان سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ وہ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کر سکتا ہے اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھتا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی خطے کے کئی چھوٹے ممالک کی زمینی حقیقتوں سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ بیجنگ خود مختاری اور عدم مداخلت کی زبان بولتا ہے۔
اس کے برعکس مودی حکومت کے داخلی اقدامات اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں نے ہندوستان کے پڑوسیوں کے لیے چین کی پیشکشوں کو مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ حکومت کا اکثریت پسندانہ ایجنڈا، اقلیتوں پر حملوں کے الزامات اور بنگال و آسام میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو زبردستی نکالنے کی کوششوں پر بنگلہ دیش، مالدیپ اور دیگر ممالک میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی تقسیم پسندانہ بیان بازی اور پاکستان و بنگلہ دیش کو ان کے محفوظ ٹھکانوں کے طور پر پیش کرنے والی مہم نے ہندوستان کی عالمی شبیہ کو نقصان پہنچایا اور اس کی سفارتی گنجائش محدود کر دی ہے۔
اجیت ڈووال کا وفد 25 اگست کو سرحدی انتظام سے متعلق بعض یقین دہانیوں کے ساتھ بیجنگ سے واپس آیا، لیکن ابھی تک اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی کہ صدر شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اگر وہ ایک بڑے وفد کے ساتھ آ بھی جاتے ہیں تو اس سے خطے میں طاقت کے بنیادی توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
چین یہ سبق اچھی طرح سیکھ چکا ہے کہ وہ بیک وقت ہمالیہ میں ہندوستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے، ہندوستانی منڈی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، پاکستان کی فوجی طاقت بڑھا سکتا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں اپنے تعلقات گہرے کر سکتا ہے۔ یوں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی نے تزویراتی طور پر چین کو ہندوستان کا گھیراؤ کرنے میں خاصی مدد فراہم کی ہے۔
(اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کے مطالعہ کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
