بم گرائے بغیر بھی ایران امریکہ کو دے چکا مات...اشوک سوین
ایران فوجی نقصان کے باوجود سیاسی اور تزویراتی طور پر مضبوط ہو کر ابھرا۔ جنگ نے امریکہ کی حکمت عملی، علاقائی اثر و رسوخ اور فوجی برتری سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے

جنگ صرف وہی نہیں جیتتے جو بم برساتے ہیں اور لوگوں کو مارتے ہیں۔ جنگ وہ بھی جیتتے ہیں جو دشمن کو اس کے مقصد میں کامیاب ہونے سے روک کر اپنے سیاسی اہداف حاصل کر لیتے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایران کب کا امریکہ کے خلاف جنگ جیت چکا ہے، اگرچہ اس نے روایتی معنوں میں امریکہ کو شکست نہیں دی۔
ایران پر بمباری کی گئی، اس کے رہنماؤں کو مار دیا گیا، اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور اس کی فوجی صلاحیت کو کمزور کیا گیا۔ اس کے باوجود ایران اپنی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے قائم ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس نے ڈونالڈ ٹرمپ کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ بچاتے ہوئے خود شروع کی گئی جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ تیاری اور حوصلہ، تباہ کن فوجی طاقت پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ سوچ کر جنگ چھیڑی کہ اچانک اور تیز حملوں کی ان کی حکمتِ عملی ایران کو بے بس کر دے گی۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ مان لیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کر دینے اور اس کی جوہری و فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے وہاں کی "حکومت" بکھر جائے گی۔ لیکن ان کا اندازہ بالکل غلط ثابت ہوا۔ ایرانی نظام مضبوطی سے قائم رہا، مارے گئے اعلیٰ رہنما کی جگہ دوسرے نے لے لی۔ انقلابی گارڈ منتشر نہیں ہوئے۔ عوام نے بھی حکومت گرانے کے لیے بغاوت نہیں کی بلکہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اپنی قیادت کی حمایت کا اظہار کیا۔ جنگ سے پہلے جس حکومت کو کمزور سمجھا جا رہا تھا، وہ بیرونی حملے کے خلاف اتحاد دکھا کر مزید مضبوط ہو گئی۔
امریکہ نے مغربی ایشیا میں یہ غلطی بار بار دہرائی ہے کہ کسی حکومت سے عوام کی ناراضی کو یہ سمجھ لیا جائے کہ لوگ بیرونی حملے کے منتظر بیٹھے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایرانی عوام اپنے اوپر حکمرانی کرنے والے مذہبی طبقے سے ناراض ہوں، ہو سکتا ہے وہ معاشی مسائل سے نجات چاہتے ہوں، لیکن جب کوئی بیرونی طاقت حملہ کرتی ہے تو قومی پرچم سے وابستگی، اندرونی اختلافات پر غالب آ جاتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ ان کی کارروائی اس نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دے گی، لیکن انہوں نے عوام کے ہاتھ میں حب الوطنی کی ڈھال تھما دی۔ اندرونی مخالفت اور بڑے احتجاجوں کا سامنا کرنے والی حکومت کو ایرانی خودمختاری کے محافظ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ایران میں حکومت مخالف آوازوں کو بدنام کرنا اب مزید آسان ہو گیا ہے، جبکہ سخت گیر عناصر کو یہ کہنے کا موقع بھی مل گیا کہ وہ پہلے ہی خبردار کر رہے تھے کہ مغربی طاقتیں ایران کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔
مذاکرات میں طاقت کا توازن اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ جنگ سے پہلے واشنگٹن ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام اور اس کی پالیسیوں کے حوالے سے بہت زیادہ مطالبات کر رہا تھا۔ اب خود ٹرمپ اپنے ووٹروں کے سامنے اس جنگ کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کا راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب ایران پابندیوں میں نرمی، سکیورٹی ضمانتیں، ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ کسی شکست خوردہ ملک کا رویہ نہیں بلکہ اس اعتماد کی عکاسی ہے کہ ایران خود کو فاتح سمجھ رہا ہے۔
کامیابی کا اعلان کرنے کی ٹرمپ کی جلد بازی اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتی کہ جنگ ان کے حق میں جاتی دکھائی نہیں دے رہی اور اس سے انہیں سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ جنگ نے توانائی کو مہنگا کر دیا ہے، بازار غیر مستحکم ہیں، اتحادی ناراض ہیں اور خلیجی شراکت دار خوف زدہ ہیں۔ امریکہ کے اندر بھی سیاسی ماحول ٹرمپ کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔ وسط مدتی انتخابات قریب ہونے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ وہ دھمکیاں دے سکتے ہیں، بڑے دعوے کر سکتے ہیں، لیکن اس سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے، اور اسے طویل زمینی جنگ کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، نہ امریکہ ایسا چاہتا ہے اور نہ اس کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔
اسی وجہ سے سودے بازی میں تہران کا پلڑا بھاری ہے۔ ایران ٹرمپ کی ترجیحات اور وقت کی مجبوریوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ وہ امریکہ کی داخلی سیاست کو واشنگٹن سے بھی بہتر انداز میں جانتا ہے۔ ایران دیکھ سکتا ہے کہ جنگ بندی کی ضرورت وائٹ ہاؤس کو، ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جنگ کی معاشی قیمت ایران کے لیے یقیناً بہت زیادہ ہے، لیکن اس میں اسے برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے، کیونکہ وہ دہائیوں سے پابندیوں اور عالمی تنہائی کے حالات کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز اب فیصلہ کن میدانِ جنگ بن چکی ہے۔ امریکہ اب بھی جہاز تباہ کر سکتا ہے، بمباری کر سکتا ہے، لیکن ایران نے دکھا دیا ہے کہ وہ اس تنگ آبی راستے کو عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے کے ایک طاقتور ہتھیار میں بدل سکتا ہے۔ اس اہم عالمی تجارتی راستے میں رکاوٹ ڈال کر یا اس پر کنٹرول قائم کر کے، بحری آمد و رفت کو خطرات سے دوچار کر کے اور تیل بردار جہازوں پر اضافی دباؤ ڈال کر، تہران نے دنیا کو یاد دلا دیا ہے کہ اصل طاقت جغرافیہ بھی ہوتا ہے۔ کھلے سمندروں پر چاہے امریکہ کی برتری ہو، لیکن دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ پر اثر و رسوخ ایران کے پاس ہے۔
آبنائے ہرمز کو ایک ہتھیار کی شکل دے کر ایران نے کھیل کے اصول ہی بدل دیے ہیں۔ خلیج کے وہ بادشاہتی نظام، جو آزاد تجارت، مستحکم منڈیوں اور بیرونی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک ایک خطرناک صورت حال میں گھر گئے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات اب پہلے سے زیادہ واضح دکھائی دینے لگے ہیں، جبکہ امریکی تحفظ پر ان کا دیرینہ اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ سرمایہ کار دیکھ چکے ہیں کہ میزائل حملوں، ڈرونز اور سمندری رکاوٹوں کی وجہ سے اس خطے کے مالیاتی مراکز کتنی تیزی سے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ ایشیا کے تیل درآمد کرنے والے ممالک بے چینی سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف یورپ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل تنازع میں الجھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ ایران نے یہ دکھا کر برتری حاصل کی ہے کہ اس کی تزویراتی طاقت کو نظر انداز کرنے کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔
اسی لیے اس جنگ میں ایران کے برقرار رہنے کی بازگشت مغربی ایشیا سے باہر بھی سنائی دے رہی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے بیشتر حصوں میں اس جنگ کو جوہری عدم پھیلاؤ یا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے زاویے سے نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ اسے ایک ایسے معاملے کے طور پر دیکھا جائے گا جس میں ایک سپر پاور فوجی طاقت کے زور پر ایک خودمختار ملک کا مستقبل طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بلاشبہ ایران جمہوری ملک نہیں، لیکن ایک سپر پاور کے سامنے اس کے ڈٹ جانے کو سراہا جا سکتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ویتنام کی طرح ایران بھی ایک ایسی مثال بن گیا ہے، جس میں کمزور ممالک خود سے کہیں زیادہ طاقتور قوت کے مقابل کھڑے ہونے کا امکان دیکھتے ہیں۔
سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جنگ ایران کو جوہری صلاحیت کے مزید قریب بھی لے جا سکتی ہے۔ اگر ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ مستقبل کے حملوں کو روکنے کا واحد راستہ جوہری دفاعی صلاحیت ہے، تو اس جنگ کا نتیجہ اس کے اعلان کردہ مقصد کے بالکل برعکس نکل سکتا ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ فوجی برتری کو تزویراتی کامیابی سمجھنے کی غلطی بار بار دہراتا ہے۔ وہ لڑائیاں جیت سکتا ہے، لیکن جنگ ہار سکتا ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو سزا دے سکتا ہے، لیکن انہیں سیاسی طور پر مزید مضبوط بھی بنا سکتا ہے۔ وہ فتح کا اعلان کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے کمزور پوزیشن سے مذاکرات کی میز پر آنا پڑ سکتا ہے۔
طاقت کے بے رحم حساب کتاب میں، اس جنگ سے ایران زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے، جبکہ امریکہ اتنا مضبوط ثابت نہیں ہوا جتنا ٹرمپ شاید سمجھتے ہوں۔ اس جنگ کا آغاز اس خیال کے ساتھ ہوا تھا کہ ایران ٹوٹ جائے گا، لیکن ممکن ہے اس کا اختتام اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر ہو کہ ایران سے بات چیت کرنا ہی ناگزیر ہے۔
(مضمون نگار اشوک سوین، سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات پر تحقیق کے پروفیسر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
