تہذیب، ثقافت اور جنگ کے بیچ ایران..شیلندر چوہان

ایران کی موجودہ کشمکش کو صرف مذہب یا امریکہ و اسرائیل سے دشمنی کے تناظر میں نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کی تہذیبی میراث، قومی خودمختاری، داخلی آزادی اور علاقائی طاقت کی سیاست بھی اس کہانی کا حصہ ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

ایران کو سمجھنا صرف ایک جدید قومی ریاست کو سمجھنا نہیں ہے۔ یہ اس تہذیب کو سمجھنے کی کوشش بھی ہے جس نے ہزاروں برس تک مغربی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک منفرد ثقافتی دنیا تشکیل دی۔ آج ایران جس سیاسی، معاشی اور عسکری بحران سے گزر رہا ہے، اس کی جڑیں صرف 1979 کے اسلامی انقلاب یا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کی موجودہ کشیدگی میں نہیں ہیں۔ اس کے پس منظر میں قدیم سلطنتوں کی یاد، فارسی زبان و ادب کا تسلسل، اسلامی اور شیعی روایت، نوآبادیاتی مداخلت کا تجربہ، جدید قوم پرستی اور مغربی غلبہ کے تئیں گہرا عدم اعتماد، تاریخ کی یہ تمام پرتیں موجود ہیں۔

قدیم ایران کی سب سے معروف سیاسی صورت ہخامنشی سلطنت تھی، جس کی بنیاد چھٹی صدی قبل مسیح میں سائرس اعظم نے رکھی۔ دارا اوّل کے عہد میں یہ سلطنت وسیع رقبے تک پھیل گئی۔ تختِ جمشید اس کی عظمت اور انتظامی صلاحیت کی علامت بن گیا۔ اس کے بعد سکندر کی یلغار، اشکانی اقتدار اور پھر ساسانی سلطنت نے ایرانی تاریخ کو نئی سمتیں دیں۔ ساسانی دور میں زرتشتی مذہب، شاہی اقتدار اور ثقافتی شناخت کے درمیان گہرا رشتہ قائم ہوا۔ ساتویں صدی میں عرب مسلمانوں کی فتح کے بعد ساسانی سلطنت ختم ہو گئی، لیکن ایرانی تہذیب ختم نہیں ہوئی۔

یہیں ایران کی تاریخ کی ایک اہم ترین خصوصیت سامنے آتی ہے۔ ایران بیرونی اثرات کو جذب کرتا رہا، لیکن اپنی ثقافتی شناخت کو مکمل طور پر مٹنے نہیں دیا۔ اسلام کی آمد کے بعد عربی مذہب اور انتظامیہ کی زبان بنی، لیکن فارسی نے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا اور جلد ہی اسلامی دنیا کی طاقتور ترین ادبی زبانوں میں شامل ہو گئی۔ ابوالقاسم فردوسی کی شاہنامہ اس ثقافتی احیا کی عظیم مثال ہے۔ قدیم ایرانی اساطیر، بادشاہوں اور رزمیہ داستانوں کو فارسی میں نئے انداز سے پیش کر کے فردوسی نے تاریخ کو ثقافتی حافظہ میں تبدیل کر دیا۔

فارسی ادب کی عظمت صرف فردوسی تک محدود نہیں۔ عمر خیام، نظامی، سعدی، حافظ اور رومی نے فارسی ادب کو عالمی ادب کی عظیم روایت بنا دیا۔ سعدی کی انسانی بصیرت، حافظ کی لطیف محبت اور روحانیت اور رومی کی صوفیانہ فکر آج بھی ایرانی ثقافتی زندگی میں زندہ ہے۔ فارسی شاعری میں محبت اور روحانیت کے ساتھ اقتدار پر تنقید، انسانی آزادی اور زندگی کی ناپائیداری بھی نمایاں ہے۔ اس لیے ایران کی ثقافت کو صرف مذہبی قدامت پسندی کے زاویے سے دیکھنا اس کی اصل پیچیدگی کو محدود کردینا ہوگا۔ جدید ایران کی شناخت اسی کثیرالجہتی ورثے سے تشکیل پاتی ہے۔ نوروز کا آج بھی زندہ رہنا اس بات کی مثال ہے کہ سیاسی اقتدار اور مذہبی نظام سے بالاتر بھی ثقافتی حافظے کی اپنی طاقت ہوتی ہے۔


انیسویں صدی میں ایران روس اور برطانیہ کے دباؤ میں تھا۔ غیر ملکی مداخلت اور شاہی مطلق العنانیت کے خلاف 1905-11 میں آئینی انقلاب برپا ہوا، جو جدید ایرانی جمہوری شعور کی تشکیل میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ بعد میں رضا شاہ پہلوی نے ایک مرکزی اور جدید قومی ریاست کی بنیاد مضبوط کی۔

ان کے بیٹے محمد رضا شاہ کے دور میں ایران امریکہ کے مزید قریب ہو گیا۔ 1953 میں وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جانا جدید ایرانی سیاسی حافظہ کا ایک فیصلہ کن واقعہ ہے۔ مصدق نے تیل کی صنعت کو قومیانے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ ان کی برطرفی اور شاہ کے اقتدار کے مستحکم ہونے سے ایرانی معاشرے کے ایک حصے میں یہ تصور مزید مضبوط ہوا کہ مغربی طاقتیں ایران کی سیاسی خودمختاری میں مداخلت کرتی ہیں۔ یہی تاریخی یاد آگے چل کر امریکہ مخالف سیاسی شعور کی ایک اہم بنیاد بنی۔

1979 کے اسلامی انقلاب نے شاہ کو اقتدار سے ہٹا کر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم کی۔ انقلاب کے بعد مذہبی قیادت نے ریاستی اقتدار پر فیصلہ کن گرفت قائم کرلی۔ منتخب صدر اور پارلیمان کے ساتھ رہبرِ اعلیٰ، شورائے نگہبان اور دیگر مذہبی ادارے ایسی سیاسی ساخت تشکیل دیتے ہیں جس میں انتخابات تو ہوتے ہیں، لیکن سیاسی اختیار کی حدود بھی پہلے سے متعین رہتی ہیں۔

ایرانی معاشرے اور ریاست کے درمیان یہی کشمکش گزشتہ کئی دہائیوں کی سیاست کا بنیادی سوال رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور نوجوان نسل جدید تعلیم، انٹرنیٹ اور عالمی ثقافت سے متاثر ہیں۔ 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد اٹھنے والی ’عورت، زندگی، آزادی‘ کی تحریک اس وسیع تر بے چینی کا اظہار تھی، جس کے اندر خواتین کی خودمختاری، شخصی آزادی اور ریاستی جبر کے خلاف احتجاج شامل تھا۔

ایران کی جدید ادبی اور فنکارانہ دنیا نے بھی ان تضادات کو اظہار دیا ہے۔ صادق ہدایت کے ادب میں جدید انسان کی تنہائی اور وجودی بحران دکھائی دیتا ہے۔ فروغ فرخ زاد نے شاعری میں عورت کے تجربے اور شخصی آزادی کے لیے ایک نئی زبان پیدا کی۔ جدید ایرانی ادب اور سنیما نے سیاسی سنسرشپ کے باوجود معاشرے کی گہری بے چینی کو سامنے لایا ہے۔ عباس کیارستمی، اصغر فرہادی اور جعفر پناہی جیسے فلم سازوں نے روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات میں چھپے سماجی اور سیاسی تناؤ کو عالمی سنیما تک پہنچایا۔


ایران کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کو دیکھنا ضروری ہے۔ 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات دشمنی میں بدل گئے۔ اقتصادی پابندیوں، جوہری پروگرام اور علاقائی سیاست نے اس کشیدگی کو مسلسل بڑھایا۔ 2015 کے جوہری معاہدے نے کچھ عرصے کے لیے حل کی امید پیدا کی، لیکن 2018 میں امریکہ کے معاہدے سے الگ ہوجانے کے بعد بحران دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔

اسرائیل کے ساتھ ایران کا تنازع اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان برسوں تک مختلف سطحوں پر بالواسطہ کشمکش جاری رہی۔ غزہ جنگ کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کرگیا اور 2024 میں دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست میزائل اور ڈرون حملوں نے واضح کر دیا کہ یہ کسی بھی وقت کھلی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

لیکن 2026 نے اس تنازعہ کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے۔ جوہری اور عسکری تنصیبات کے ساتھ ایران کی سیاسی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی موت ہوئی۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ جون میں ایک عبوری معاہدے کے ذریعے وسیع تر جنگ روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن جوہری پروگرام، پابندیوں اور تزویراتی اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے سوال پر یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔

18 اگست 2026 تک صورت حال ایک بار پھر انتہائی غیر یقینی ہے۔ جون کا 60 روزہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی صورت حال بھی واضح نہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ پابندیوں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق اس کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ دوسری طرف امریکہ معاہدے کی ناکامی کی ذمہ داری ایران پر عائد کر رہا ہے۔


آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں۔ عالمی توانائی کی تجارت کا ایک اہم حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ اس میں طویل رکاوٹ تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی معیشت تک کو متاثر کرسکتی ہے۔ جنگ اور امن کی غیر یقینی صورت حال کے درمیان تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ جنگ نے ایرانی معاشرے پر بھی شدید معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ پابندیوں سے پہلے ہی کمزور معیشت پر عسکری تنازع، تجارتی رکاوٹوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ یوں جنگ کا حقیقی بوجھ بالآخر عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

امریکہ کے علاقائی عسکری اور معاشی اثر و رسوخ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن ایران کی اپنی علاقائی طاقت کی سیاست، جوہری عزائم اور مسلح اتحادی تنظیموں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی بھی ایک حقیقت ہے۔ اسرائیل کے سلامتی سے متعلق خدشات کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن اس بنیاد پر اس کی فوجی کارروائیوں اور فلسطین میں شہریوں کی وسیع پیمانے پر ہونے والی تکالیف کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس لیے ایران کو محض ’انتہا پسند اسلامی ریاست‘، ’امریکہ مخالف طاقت‘ یا ’اسرائیل کا دشمن‘ قرار دینا اس کے پیچیدہ کردار کو سمجھنے سے گریز کے مترادف ہوگا۔ ایران ایک قدیم تہذیب، ثروت مند ادبی ثقافت، جدید قوم پرستانہ شعور، مذہبی ریاست، بے چین معاشرے اور علاقائی طاقت کے عزائم رکھنے والی ریاست—ان تمام پہلوؤں کا مجموعہ ہے۔

ایران کا مستقبل بالآخر اس سوال سے جڑا ہے کہ اس کی تہذیبی خود آگاہی جدید شہری آزادیوں، معاشی استحکام اور دنیا کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لیے کتنی گنجائش پیدا کرتی ہے، اور بیرونی طاقتیں اس کے خلاف عسکری دباؤ کے بجائے سفارت کاری کو کس حد تک ترجیح دیتی ہیں۔ اگر جنگ، پابندیوں اور غلبے کی سیاست جاری رہی تو ایران کے ساتھ پورا مغربی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہوتا رہے گا۔ لیکن اگر مکالمے اور سفارت کاری کو موقع ملتا ہے تو یہی ایران—جس نے ہزاروں برس تک حملوں، سلطنتوں اور اقتدار کی تبدیلیوں کے درمیان اپنی زبان اور ثقافت کو محفوظ رکھا ہے—ایک بار پھر تصادم کی سیاست سے نکل کر اپنی تہذیبی توانائی کو ایک نئی صورت میں ظاہر کرسکتا ہے۔

ایران کی کہانی اس لیے صرف ماضی کی کہانی نہیں۔ یہ آج بھی تہذیب اور اقتدار، آزادی اور پابندی، مزاحمت اور جنگ، یادداشت اور مستقبل کے درمیان لکھی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔