بین الاقوامی اشارتی زبان کا دن: جب اشاروں کی زباں بغیر شور کے کہتی ہے کہانی، دل تک پہنچتا ہے ہر احساس

ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے مطابق دنیا بھر میں 7 کروڑ سے زیادہ بہرے افراد ہیں۔ ان میں 80 فیصد سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ سب مل کر 300 سے زیادہ اشارتی زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بین الاقوامی اشارتی زبان کا دن، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

جب زبان خاموش ہوتی ہے تب بھی باتیں ختم نہیں ہوتیں، بس ان کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ کبھی آنکھوں سے، کبھی مسکراہٹ سے تو کبھی اشاروں سے یہی اشارتی زبان کا وہ اثر ہے جہاں شور نہیں ہوتا مگر احساس دل تک پہنچ جاتا ہے۔ بہرے لوگ بھی ہم اور آپ کی طرح ہنستے ہیں، روتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی دنیا میں آواز کی جگہ اشارے  بولتے ہیں اور ان اشاروں میں ہی امید کے سارے رنگ بسے ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی اشارتی زبان کا دن بہرے افراد کے حقوق اور ان کی شناخت کو یقینی بنانے میں اشارتی زبانوں کے اہم کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ دن ہر سال 23 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کی 2017 کی قرارداد سے متاثر ہے، جو 23 ستمبر کو بین الاقوامی اشارتی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ رواں سال یہ دن ’بہرے افراد کے انسانی حقوق کا اعلان‘ کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔


بین الاقوامی اشارتی زبان کا دن پہلی بار 2018 میں بہرے لوگوں کے بین الاقوامی ہفتے کے حصے کے طور پر منایا گیا تھا۔ تب سے ہر سال 23 ستمبر کو دنیا بھر میں بین الاقوامی اشارتی زبان کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہم اسے اشارتی زبان کا دن کہتے ہیں اور 2018 سے ہر سال 23 ستمبر کو مناتے ہیں۔ اشارتی زبان کے دن کے لیے 23 ستمبر کی تاریخ اس لیے بھی منتخب کی گئی، کیونکہ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف (ڈبلیو ایف ڈی) کی بنیاد 1951 میں اسی دن رکھی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق اشارتی زبان کے دن سے متعلق قرارداد میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اشارتی زبان اور اس سے متعلق خدمات تک ابتدائی رسائی بہرے افراد کی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر طے شدہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس میں لسانی اور ثقافتی تنوع کے ایک حصے کے طور پر اشارتی زبانوں کے تحفظ کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے مطابق دنیا بھر میں 7 کروڑ سے زیادہ بہرے افراد ہیں۔ ان میں 80 فیصد سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ سب مل کر 300 سے زیادہ اشارتی زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔


اقوام متحدہ اشارتی زبانوں کو مکمل طور پر ترقی یافتہ قدرتی زبانیں مانتا ہے، جو ساخت کے لحاظ سے بولی جانے والی زبانوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ ایک بین الاقوامی اشارتی زبان بھی ہے، جس کا استعمال بہرے افراد بین الاقوامی اجلاسوں اور سفر و سماجی میل جول کے دوران غیر رسمی طور پر کرتے ہیں۔ اسے اشارتی زبان کی ایک مخلوط شکل مانا جاتا ہے، جو قدرتی اشارتی زبانوں جتنی پیچیدہ نہیں ہوتی اور اس کا ذخیرۂ الفاظ محدود ہوتا ہے۔

ہندوستان میں یہ دن اشارتی زبان کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں ہندوستانی اشارتی زبان (آئی ایس ایل) کو ایک قدرتی بصری-دستی زبان کے طور پر منایا جاتا ہے، جو بہرے اور سماعت رکھنے والے دونوں طبقات کے درمیان رابطے کو فروغ دیتی ہے۔ آئی ایس ایل ہندی، انگریزی یا ہندوستان میں بولی جانے والی کسی بھی دوسری زبان سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی اپنی ساخت ہے اور یہ کسی بھی بولی جانے والی زبان کا اشاروں کے ذریعے اظہار نہیں ہے۔


بین الاقوامی اشارتی زبان کے دن کے موقع پر وزارت قانون و انصاف کے محکمۂ قانونی امور نے شمولیت، رسائی اور انسانی حقوق کو عملی جامہ پہنانے میں اشارتی زبان کے کردار پر زور دیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف نے کہا کہ ’’بات چیت یا مکالمہ صرف اپنی بات کہنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ معلومات، تعلیم اور انصاف حاصل کرنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اب ایک قدم آگے بڑھ کر اس دنیا کو ایسی جگہ بنانے کا وقت آ گیا ہے جہاں ہر طرح کے اشاروں کا خیال رکھا جائے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ایک حق ہو۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔