گرتے روپے سے حکومت کی چاندی...اجیت راناڈے
روپے کی گرتی قدر نے آر بی آئی کے سرپلس اور حکومت کی مالی گنجائش میں اضافہ کیا لیکن اس کے ساتھ درآمدات، بیرونی مالیات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور طویل مدتی معاشی استحکام سے متعلق سوالات بھی ابھر رہے ہیں

روپے کی قدر میں کمی کو عموماً ایک معاشی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، سرمایہ کار پریشان ہوتے ہیں اور قومی وقار کو بھی دھچکا پہنچتا ہے لیکن ہندوستان کے حالیہ تجربے نے ایک دلچسپ تضاد کو جنم دیا ہے۔ روپے کی وہی کمزوری، جو بیرونی دباؤ پیدا کرتی ہے، مرکزی حکومت کے لیے بڑے مالی فائدے کا سبب بھی بنی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے روپے کو سہارا دینے کے لیے ڈالر فروخت کرنے سے خاطر خواہ منافع حاصل ہوا، جو بعد میں سرپلس کے طور پر مرکزی حکومت کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح آر بی آئی صرف کرنسی کا انتظام نہیں کر رہا بلکہ حکومت کے لیے ایک خزانچی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اس پہلو کو کچھ گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آر بی آئی کے مرکزی بورڈ نے مالی سال 2025-26 کے لیے مرکزی حکومت کو 2 لاکھ 86 ہزار 588 کروڑ روپے کا ریکارڈ سرپلس منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں یہ رقم 2 لاکھ 68 ہزار 590 کروڑ روپے، 2023-24 میں 2 لاکھ 10 ہزار 874 کروڑ روپے اور 2022-23 میں 87 ہزار 416 کروڑ روپے تھی۔ تازہ ترین منتقلی آر بی آئی کی مضبوط آمدنی پر مبنی ہے، جس میں روپے کو سہارا دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈالر فروخت کرنے سے حاصل ہونے والا منافع اور غیر ملکی اثاثوں سے بڑھتی ہوئی آمدنی شامل ہے۔
2.9 لاکھ کروڑ روپے کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی کل محصولات کا تقریباً 8 فیصد بنتی ہے۔ اس سے حکومت کو ٹیکس بڑھائے بغیر، اخراجات میں کمی کیے بغیر یا بازار سے زیادہ قرض لیے بغیر مالی راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ خام تیل کی بلند قیمتوں، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مالی خسارے پر بڑھتے دباؤ کے اس دور میں یہ ایک کارآمد سہارا ہے لیکن تشویش کی بات بھی یہی ہے، کیونکہ ایسا سہارا کب ایک عادت بن جائے، اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اس کا حساب سیدھا ہے۔ آر بی آئی نے کئی برسوں تک اس وقت ڈالر جمع کیے جب روپیہ نسبتاً مضبوط تھا۔ آج جب وہ انہی ڈالروں کو کمزور شرحِ مبادلہ پر فروخت کرتا ہے تو اسے روپے کی صورت میں منافع حاصل ہوتا ہے۔ یہ منافع زرمبادلہ کے ذخائر کی ازسرِ نو قیمت لگانے سے پیدا ہونے والا کاغذی فائدہ نہیں بلکہ حقیقی منافع ہے۔ کرنسی سے متعلق سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی یہ آمدنی آر بی آئی کی کل کمائی میں شامل ہوتی ہے اور پھر اسی کے سرپلس کا حصہ بن کر حکومت تک پہنچتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ روپے کی کمزوری نے حکومت کو غیر متوقع طور پر بڑا مالی فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بات سننے میں کچھ عجیب لگ سکتی ہے لیکن یہی اس تضاد کی اصل تصویر پیش کرتی ہے۔ روپے کی وہی گراوٹ جو درآمد کنندگان کو نقصان پہنچاتی ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے، ڈالر کے حساب سے ہندوستان کی جی ڈی پی کو کم کرتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پریشان کرتی ہے، ڈالر فروخت کیے جانے کی صورت میں آر بی آئی کے منافع میں اضافہ بھی کرتی ہے۔
یہ معاملہ ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے۔ اگر ہندوستان کی نامیاتی (نامینل) جی ڈی پی روپے کے حساب سے 10 فیصد بڑھتی ہے لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 10 فیصد یا اس سے زیادہ گر جاتا ہے، تو ڈالر کے حساب سے جی ڈی پی میں شاید ہی کوئی نمایاں اضافہ نظر آئے۔
کوئی ملک اندرونی طور پر تیزی سے ترقی کر سکتا ہے لیکن اگر کرنسی کی گراوٹ اس ترقی کے اثرات کو ختم کر دے تو بین الاقوامی سطح پر وہ تقریباً جمود کا شکار دکھائی دے سکتا ہے۔ اسی لیے روپے کی مسلسل کمزوری ایک تزویراتی تشویش بن سکتی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ روپے کو ہر قیمت پر بچایا جائے۔ ہندوستان ایک چالو کھاتے کے خسارے (کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ) والی معیشت ہے یعنی وہ جتنا برآمد کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ تیل، سونا، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا درآمد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درمیانی مدت میں ملک کی افراطِ زر کی شرح بھی امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے۔ اس لیے روپے کا کچھ حد تک کمزور ہونا فطری ہے اور بعض اوقات فائدہ مند بھی ثابت ہوتا ہے۔ کمزور کرنسی ایک ’شاک ابزوربر‘ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ برآمدات کی مسابقت کو برقرار رکھتی ہے، غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور معیشت کو بیرونی عدم توازن کے بارے میں خبردار رکھتی ہے۔
خطرہ براہِ راست کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بلکہ بے قابو اور غیر منظم گراوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آر بی آئی کی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ اتار چڑھاؤ پر قابو رکھا جا سکے، گھبراہٹ کو روکا جا سکے اور بازار کی توقعات کو مستحکم بنایا جا سکے لیکن کسی مخصوص سطح کا دفاع کرنا اور اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر بازار کو یقین ہو جائے کہ آر بی آئی ہمیشہ ایک خاص شرحِ مبادلہ کا دفاع کرے گا تو بڑے درآمد کنندگان اور ڈالر میں قرض لینے والے اپنے خطرات کو کم سمجھنے لگیں گے۔ مصنوعی طور پر مضبوط روپیہ درآمدات کو بڑھاتا ہے، برآمدات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور ضروری معاشی ایڈجسٹمنٹ کو مؤخر کر دیتا ہے۔ نتیجتاً بعد میں ہونے والی اصلاح زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔
اس میں مالیاتی اخلاقیات کا ایک پہلو بھی شامل ہے۔ اگر روپے کو سہارا دینے سے آر بی آئی کو بڑا منافع حاصل ہوتا ہے اور اس منافع کی بدولت مرکزی حکومت اپنے مالی خسارے کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو روپے کی قدر میں کمی ایک پوشیدہ مالی فائدے کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے ایک صحت مند ترغیبی ڈھانچہ نہیں ہے۔ کسی حکومت کو مرکزی بینک کی زرمبادلہ سے متعلق سرگرمیوں کو مستقل آمدنی کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
ہندوستان کے مالیاتی نظام میں سرکاری قرض گیری کے لیے پہلے ہی ایک داخلی انتظام موجود ہے۔ اسٹیچوئری لیکویڈٹی ریشو (ایس ایل آر) کے تحت بینکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جمع شدہ رقوم کا ایک بڑا حصہ سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کریں۔ اس طرح سرکاری قرض کے لیے ایک یقینی بازار وجود میں آ جاتا ہے۔ یہ نظام طویل عرصے سے رائج ہے اور ہندوستانی مالیاتی ڈھانچے کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ ایک قسم کا مالیاتی جبر (فنانشل ریپریشن) بھی ہے، کیونکہ ضوابط کے ذریعے گھریلو بچتوں کا ایک حصہ سرکاری قرض کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت آر بی آئی کے بڑے سرپلس انتقالات پر بھی انحصار کرنے لگے تو مالیاتی اختیار اور حکومتی مالی امداد کے درمیان حد فاصل دھندلی ہونے لگتی ہے۔
آر بی آئی وزارتِ خزانہ نہیں ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری قیمتوں کا استحکام، مالیاتی استحکام، کرنسی کا انتظام اور مالیاتی نظام کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ اگرچہ وہ حکومت کا بینکر بھی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ محض حکومت کے لیے آمدنی پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ منتخب حکومتیں فطری طور پر زیادہ اخراجات، کم شرحِ سود پر قرض اور آسان مالی وسائل کو ترجیح دیتی ہیں، لیکن یہی وجہ ہے کہ مالیاتی اداروں کو سیاسی اور بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
روپے کی کہانی ہندوستان کو درپیش بیرونی مالیاتی چیلنجوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی مجموعی آمد اچھی دکھائی دیتی ہے لیکن منافع کی واپسی، سرمایہ نکالنے اور دیگر بیرونی اخراجات کے باعث خالص ایف ڈی آئی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں اور پرائیویٹ ایکویٹی سرمایہ کار بازار سے باہر نکل رہے ہیں۔ ہندوستانی شیئر بازار کسی حد تک اس لیے بلند سطح پر برقرار ہیں کیونکہ گھریلو سرمایہ کاری، خاص طور پر ایس آئی پی کے ذریعے آنے والی رقوم، مسلسل اور مضبوط ہیں۔ یہی مضبوط گھریلو طلب بڑے پیمانے پر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کے انخلا کے باوجود بازار میں شدید گراوٹ کو روک رہی ہے۔
اس سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا گھریلو سرمایہ کار، ایس آئی پی اور آئی پی او میں سرمایہ لگا کر بالواسطہ طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش اخراج کو آسان بنا رہے ہیں؟ حالیہ کئی بڑے آئی پی اوز میں جمع ہونے والی رقم کا بڑا حصہ کمپنی کی نئی سرمایہ کاری کے بجائے موجودہ سرمایہ کاروں کی جانب سے آفر فار سیل کی صورت میں گیا ہے۔ نئے سرمایہ کار مستقبل کے وعدوں پر رقم لگاتے ہیں، جبکہ پرانے سرمایہ کار نقد رقم حاصل کر کے نکل جاتے ہیں۔ یہ کوئی غیر قانونی عمل نہیں، بازار اسی انداز میں کام کرتے ہیں لیکن جب یہ رجحان حد سے زیادہ بڑھنے لگے تو اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
کئی بڑی غیر ملکی کمپنیاں مکمل یا جزوی طور پر ہندوستان سے نکل چکی ہیں، جن میں ہولسِم، فورڈ، ہارلے ڈیوڈسن، سٹی بینک کا ریٹیل کاروبار، میٹرو اے جی، جی ایم، کیرن اور لافارج وغیرہ شامل ہیں۔ ہر کمپنی کے انخلا کی اپنی الگ وجوہات تھیں، لیکن اگر ان تمام واقعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک بڑی معاشی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں: ہندوستان ایک بازار کے طور پر تو پرکشش ہے لیکن یہاں کاروبار قائم کرنا اور اسے طویل مدت تک کامیابی سے چلانا آسان نہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ گوگل کے ڈیٹا سینٹر منصوبے، جیو میں میٹا اور گوگل کی سرمایہ کاری اور دیگر تزویراتی سرمایہ کاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی سرمایہ اب بھی ہندوستان کا رخ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل پیمانے کے منصوبوں کے لیے ہندوستان میں آنا اور گہری مینوفیکچرنگ میں صبر کے ساتھ طویل مدتی سرمایہ لگانا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔ ہندوستان کو ایسی پائیدار ایف ڈی آئی درکار ہے جو مستقل بنیادوں پر صنعت اور پیداوار کو فروغ دے، نہ کہ صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے والی عارضی سرمایہ کاری۔
اس تناظر میں روپیہ محض اسکرین پر نظر آنے والی ایک عدد نہیں ہے۔ یہ تیل پر انحصار، سونے کی درآمدات، بیرونی مالی وسائل کی دستیابی، پورٹ فولیو سرمایہ کاری، گھریلو بازار کی قدروں اور کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ آر بی آئی اس سفر کو نسبتاً ہموار بنا سکتا ہے لیکن وہ راستے کی بنیادی سمت کو ہمیشہ کے لیے تبدیل نہیں کر سکتا۔
(مضمون نگار اجیت راناڈے معروف ماہرِ معاشیات ہیں۔ بشکریہ: بلین پریس)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
