دو ہزار سال پرانی ہے ہندوستان میں جمہوریت کی روایت...راجندر چندرکانت رائے

ہندوستانی جمہوریت کی جڑیں قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ تری پوری کے کلچوری دور میں مقامی اداروں، منتخب ارکان اور عوامی شرکت کے شواہد ملتے ہیں، جو جمہوری روایت کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر اے آئی</p></div>
i

آج کل ہندوستانی جمہوریت سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ جمہوریت کو زخمی کرنے اور اسے بچانے کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی خبروں سے ذرائع ابلاغ بھرے پڑے ہیں۔ ہمارا ملک صدیوں کی غلامی اور ظالم حکمرانوں کے مظالم سے 1947 میں آزاد ہوا۔ آزادی کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کی قیادت میں ملک کو خودمختاری حاصل ہوئی۔ لیکن آزادی کے ساتھ ہی رہنماؤں کے سامنے ایک بڑا سوال بھی کھڑا تھا کہ ملک کے لیے کس قسم کے نظامِ حکومت کا انتخاب کیا جائے۔ بادشاہت، آمریت، فوجی آمریت، یک جماعتی نظام یا وسیع البنیاد جمہوریت؟ ان کے سامنے کئی متبادل موجود تھے۔ اصل سوال ان کی نیت اور ترجیحات کا تھا۔ ان کا ارادہ واضح تھا، اس لیے نہ بادشاہت اختیار کی گئی، نہ آمریت، نہ فوجی حکومت اور نہ ہی یک جماعتی نظام۔ ہندوستان نے عوام کے حقِ رائے دہی سے منتخب ہونے والی حکومت کے قیام کے لیے وسیع البنیاد جمہوریت کا راستہ چنا۔ ایسا جمہوری نظام جس کے دروازے تمام نظریات اور سیاسی فلسفوں کے لیے کھلے ہوں۔ تمام مذاہب، طبقات، ذاتوں، زبانوں اور مختلف خیالات رکھنے والوں کے ووٹ کو یکساں اہمیت دی گئی۔

بیسویں صدی میں کئی دوسرے ممالک بھی آزاد ہوئے۔ چین، ویتنام اور شمالی کوریا نے یک جماعتی نظام اپنایا، جب کہ متحدہ عرب امارات، قطر اور برونائی میں مطلق بادشاہت قائم رہی۔ میانمار نے جمہوریت کا انتخاب کیا، لیکن جلد ہی وہاں فوجی جنتا کی آمریت قائم ہوگئی۔ لیبیا ایک آمریت سے نکل کر دوسری آمریت میں جا پہنچا، جب کہ بیلاروس میں آمرانہ طرزِ حکومت رائج ہے۔ دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں بظاہر جمہوریت ہے، لیکن اقتدار کی اصل باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں ہے۔

ہندوستانی جمہوریت کو قائم ہوئے تقریباً اسی برس ہونے والے ہیں، لیکن دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت کی طاقت کم نہیں ہوئی۔ اس پر مختلف ادوار میں بحران آتے رہے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے، لیکن اس کی بنیادیں گہری ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان بنیادوں کے سراغ آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے تک پہنچتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں دریائے نرمدا کے مشہور آبشار دھواں دھار کے قریب تیور نام کا ایک گاؤں ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں ایک خوش حال شہر آباد تھا، جسے تری پوری کہا جاتا تھا۔ اس کا ذکر پرانوں میں بھی ملتا ہے، لیکن تاریخی اعتبار سے اس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ کلچوری حکمرانوں کی ابتدائی راجدھانی رہا ہے۔ اس قدیم شہر کی تاریخ میں ایک اہم دور پوشیدہ ہے۔


مورخین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ تیور کی جانب مبذول ہوئی تو وہاں تحقیق اور کھدائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنرل کننگھم نے انجینئر یولے سے تیور کے دو مندروں کی تلاش کرنے کو کہا تھا۔ یولے 1860 میں وائسرائے لارڈ کیننگ کے کیمپ کے انتظامات کے سلسلے میں بھیڑھا گھاٹ آیا تھا۔ مندروں کی تلاش کے دوران اسے تری پوری کے ایسے کھنڈرات ملے جن کے بارے میں پہلے معلومات نہیں تھیں۔ 1861 میں شائع ہونے والے جرنل آف دی ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کے مطابق، یولے نے تیور کے دیہرا علاقے میں ایک منڈپ کے آثار دیکھے اور ان کا خاکہ بھی تیار کیا۔ بعد ازاں جنرل الیگزینڈر کننگھم نے 1873-74 میں تری پوری کا دورہ کیا اور وہاں موجود آثار پر ایک رپورٹ مرتب کی، جو آرکیالوجیکل سروے رپورٹ میں شائع ہوئی۔

1952-53 میں ساگر یونیورسٹی نے ڈاکٹر موریشور گنگادھر دکشت کی نگرانی میں کرن بیل کے ہتھیا گڑھ نامی ٹیلے پر محدود پیمانے پر کھدائی کرائی۔ اس کا مقصد تری پوری کی گپتا اور کلچوری ادوار کے درمیان کی تاریخ کے شواہد تلاش کرنا تھا۔ 1953 میں آثارِ قدیمہ کی ایک اہم مہم شروع ہوئی، جس میں مدھیہ پردیش حکومت کے محکمۂ آثارِ قدیمہ، ساگر اور بڑودہ یونیورسٹیوں اور دکن کالج، پونا نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس مہم کی قیادت معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر ہسمکھ دھیرجل لال سانکلیا نے کی۔ اس کام کا دوسرا مرحلہ 1966-67 میں ساگر یونیورسٹی کے شعبۂ قدیم ہندوستانی تاریخ، تہذیب اور آثارِ قدیمہ نے آچاریہ کرشن دت واجپئی کی نگرانی میں مکمل کیا۔

آثار کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تری پوری تقریباً 1000 قبل مسیح میں آباد ہو چکی تھی، یعنی اس کی تاریخ تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے۔ وہاں سے کلچوری دور تک کے آثار ملے ہیں۔ ان میں تانبے اور پتھر کے زمانے کی تہذیب کے شواہد بھی شامل ہیں۔ اس دور کی تہوں سے پتھر کے چھوٹے ہتھیار اور ایسے مٹی کے برتن ملے جن کی سرخ سطح پر سیاہ رنگ سے نقش و نگار بنائے گئے تھے۔

ان شواہد سے پتا چلتا ہے کہ دوسری صدی قبل مسیح میں تری پوری ایک آزاد جن پد ریاست کی راجدھانی بن چکی تھی۔ تری پوری کے سکوں پر حکمرانوں کے نام اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں اس علاقے پر کسی ایک خاندان کی مسلسل حکمرانی نہیں رہی، بلکہ ساتواہنوں، شکوں اور بودھیوں نے بھی اسے اپنے اپنے اقتدار میں شامل کیا۔

کلچوری خاندان کے پہلے حکمران کا نام کرشن راج تھا۔ تقریباً 550 عیسوی سے 1740 عیسوی تک بارہ سو برس کے عرصے میں کلچوری حکمران ہندوستان کے شمالی یا جنوبی علاقوں کے مختلف حصوں پر حکومت کرتے رہے۔ جس طرح شَک کُشانوں نے 78 عیسوی میں اپنا سن قائم کیا تھا، اسی طرح کلچوریوں نے بھی 249 عیسوی سے کلچوری سن کا آغاز کیا۔


پنچایتی راج اور عوامی شرکت پر مبنی نظامِ حکومت کی ابتدائی شکلیں کلچوری دور کی تری پوری میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ شہروں اور دیہات کے مقامی انتظام کے لیے ’پنچ کل‘ نامی ادارے قائم تھے۔ ان میں عموماً پانچ ارکان ہوتے تھے، اگرچہ بعض کتبوں میں ان کی تعداد دس تک بتائی گئی ہے۔ مختلف محکموں کے لیے الگ الگ پنچ کل قائم کیے جاتے تھے۔ اس طرح انتظامی امور میں عوام کی شرکت کو اہمیت حاصل تھی۔ منتخب ارکان کو ’مہتر‘ کہا جاتا تھا۔ یہ پانچ ارکان اپنے درمیان سے ایک سربراہ منتخب کرتے تھے، جسے ’مہتم‘ کہا جاتا تھا۔ بعض کتبوں میں اس عہدے کے لیے ’پانچ کولک‘ کی اصطلاح بھی استعمال ہوئی ہے۔

پانچ کولک راجدھانی میں رہتا تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ مثالی شہری، مذہبی معاملات کا علم رکھنے والا، اپنے فرائض انجام دینے میں ماہر اور اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والا ہو۔ اسے محصولات جمع کرنے، گاؤں کی ترقی پر رقم خرچ کرنے، مالی جرمانے عائد کرنے، عدالتی فیصلے کرنے اور مندروں و زمینوں کے انتظام جیسے اختیارات حاصل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی سطح پر انتظامی اور عدالتی معاملات کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود تھا۔

تری پوری کے بعض قدیم تانبے کے کتبوں میں ’گماگایِک‘ نامی عہدے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ افسر دیہات اور شہروں میں آنے جانے والوں کی نگرانی کرتا تھا۔ ’مہاپرتیہار‘ بادشاہ سے ملاقات کے خواہش مند افراد کو اس کے پاس لے جاتا اور شاہی احکامات متعلقہ حکام تک پہنچاتا تھا۔ راج گرو بادشاہ کو مشورے دیتا تھا اور دربار میں اسے خاصا اثر و رسوخ حاصل تھا۔

کلچوری حکمرانوں کے عطیہ ناموں میں راجن، سامنت، بھوگک، وِشے پتی، راشٹر اور گاؤں کے مہتروں جیسے عہدوں کا ذکر ملتا ہے۔ بڑے صوبوں کے حکمران راجن اور چھوٹے علاقوں کے حکمران سامنت کہلاتے تھے۔ بعض دیگر عہدوں، مثلاً کھنڈوال، کھنڈپال، بلادھیر اور ماکوتک کے درست مفہوم کا تعین نہیں ہو سکا، تاہم کتبوں میں ان کے نام بھی درج ہیں۔


ریاست کی آمدنی کے کئی ذرائع تھے۔ کلچوریوں کے عطیہ ناموں میں ’اُدرنگ‘ اور ’اُپری کر‘ نامی محصولات کا ذکر ملتا ہے۔ اُدرنگ زمین کے لگان اور اُپری کر تاجروں و دست کاروں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس سے متعلق تھا۔ نمک سازی، لوہے کی کانوں، جنگلات، چراگاہوں اور آم و مہوا کے درختوں سے بھی محصول حاصل کیا جاتا تھا۔ سبزیوں اور ہاتھیوں و گھوڑوں جیسے جانوروں کی فروخت پر بھی ٹیکس عائد تھا۔ بلہری سے ملنے والے ایک کتبے کے مطابق، گھوڑے کی خرید و فروخت پر دو ’پور‘ اور ہاتھی پر چار ’پور‘ وصول کیے جاتے تھے۔ خیال ہے کہ پور چاندی کا ایک چھوٹا سکہ تھا۔

جس ملک کی روح میں جمہوریت رچی بسی ہو، وہ کبھی اس کے راستے سے بھٹک تو سکتا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کر سکتا۔ اس کی اصل طاقت اس کے شہریوں میں ہوتی ہے اور اس کی جڑیں تاریخ و تہذیب میں پیوست ہوتی ہیں۔ اگر ایودھیا کے راجا رام ایک عام شہری کے اعتراض پر اپنی اہلیہ سیتا کو ترک کر سکتے ہیں تو اس روایت کے حامل ملک کے شہری بھی جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔