امام حسینؑ کا قیام، حکمران وقت کے لیے پیغام

واقعۂ کربلا حق، عدل، اصلاحِ معاشرہ اور انسانی اقدار کے تحفظ کی ابدی علامت ہے۔ امام حسینؑ کا قیام حکمرانوں، تاجروں اور عوام کے لیے اخلاص، دیانت اور انصاف کا پیغام دیتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

محرم الحرام کا چاند صرف نئے مہینے کی آمد کی خبر نہیں دیتا بلکہ یہ اعلان کرتا ہے کہ محبت ایک بار پھر کربلا کی گلیوں سے گزر کر شہادت کی منزل تک پہنچنے والی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت کا سب سے حسین پھول شہادت ہے اور شہادت کی سب سے دلکش خوشبو محبت الٰہی ہے۔ کربلا پوری تاریخ انسانیت میں محبت کا سب سے بڑا مدرسہ ہے اور شہادت، محبت کی سب سے بلند تفسیر ہے۔ تاریخ میں وہی لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو کسی عظیم مقصد اور سچی محبت کے لیے جیتے اور اسی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔ اگر دنیا سے محبت نکال دی جائے تو انسانیت مر جائے گی اور اگر محبت کو شہادت تک پہنچا دیا جائے تو انسانیت زندہ ہو جاتی ہے۔

واقعۂ کربلا محبت کے دعوے اور محبت کے عملی ثبوت کے درمیان فرق واضح کرنے والا عظیم درس ہے جہاں نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؑ نے اپنے مقدس خون سے یہ ثابت کر دیا کہ حق سے محبت انسان کی جان سے بھی زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کے درمیان جو چیز واضح نظر آتی ہے وہ ان کی آپس میں محبت ہے۔

حقیقی محبت صرف احساس یا دعوے کا نام نہیں بلکہ محبوب کی رضا کے لیے ہر شے قربان کر دینے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اور یہی کیفیت آگے بڑھ کر شہادت کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اس کا عملی ثبوت 10 محرم 61 ہجری کو عراق کے بیابان میں ملا جسے خانوادۂ رسالت مآبؐ نے اپنی قربانیوں سے کربلا بنا دیا اور پوری دنیا پر چھا گیا۔ اس سر زمین پر رونما ہونے والے کربناک واقعہ نے رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق، عدل، حریت اور اصلاحِ امت کا ایک ابدی منشور ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثاروں نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے انسان کو یہ پیغام دیا کہ معاشرے میں ظلم، ناانصافی، اخلاقی انحطاط اور دینی بے حسی کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ سچائی، امانت، عفو و درگزر، انسان دوستی، عدل اور رحم دلی وہ اوصاف ہیں جنہیں رسولِ خدا نے معاشرے میں فروغ دیا اور امام حسین ؑ نے میدانِ کربلا میں ان اقدار کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے اسباب میں معاشرتی بے حسی، حق سے دوری، ظلم کے سامنے خاموشی، اخلاقی زوال اور دینی اقدار کی کمزوری نمایاں تھے۔ اگر آج کا انسان کربلا کے پیغام کو سمجھ لے تو معاشرے سے نفرت، بدعنوانی، بے انصافی اور اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ محرم کا مقصد اپنے کردار، اخلاق اور معاشرتی رویوں کا محاسبہ بھی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی یاد انسان کو برائیوں سے اجتناب، اچھائیوں کے فروغ، امن و محبت کے قیام اور ایک صالح و مہذب معاشرے کی تشکیل کا درس دیتی ہے۔


امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے اہداف کو سمجھنے کا بہترین طریقہ خود امام حسین کے مکہ سے کربلا تک کے خطبات اور ارشادات کا مطالعہ ہے کیونکہ یہ بیانات، ان کے قیام کے فلسفے کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ آپؑ نے آخری لمحات میں بھی دشمن کی ہدایت کی کوشش کی اور انہیں حق کی بات سننے اور انصاف برتنے کی دعوت دے کر آخری اتمام حجت کیا۔ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موعظہ اور ہدایت، اولیاءِ خدا کا سب سے اہم فریضہ ہے۔

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچ دیا، یہ محض ایک جنگ یا تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک ایسا مکتب فکر ہے جو ہر دور کے انسان کو آزادی، عزت، عدل، حق گوئی اور انسانی اقدار کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے روز عاشورہ کو انسانیت کے لیے ایک دائمی مشعل راہ قرار دیا جاتا ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات پر جو خطبات ارشاد فرمائے ہیں ان میں عاشورہ کے حقیقی مقاصد اور انسانیت کے لیے ابدی پیغامات نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ امام حسین نے مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے قیام کا مقصد واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں نہ سر کشی، غرور اور عیش پرستی کے لیے نکلا ہوں، نہ ظلم کرنے کے لیے اور نہ ہی فساد پھیلانے کے لیے بلکہ میں تو صرف اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔‘‘

امام حسین ؑ کا یہ فرمان درحقیقت اصلاح معاشرہ کا ایک جامع منشور ہے۔ اگر خطبے کے اس حصہ کو فردی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کر دیا جائے تو دنیا کی بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ خطبہ ہمیں اخلاص نیت کا درس دیتا ہے کہ کسی بھی تحریک یا جدوجہد کی کامیابی کا راز اس کی نیت کے خلوص میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو تحریک ذاتی مفادات کے لیے اٹھتی ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتی ہے، لیکن دیرپا اثرات نہیں چھوڑ سکتی۔ اس کے برعکس جو تحریک خدا کی رضا، حق کے قیام اور انسانیت کی خدمت کے لیے ہو، وہ صدیوں بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا آج بھی انسانیت کے لیے ہدایت اور بیداری کا سرچشمہ ہے اور قیامت تک انسانی نسل کی ہدایت کرتا رہے گا اور شاید اسی حقیقت کو پیش نظر رکھ کر رسولؐ نے بھی ارشاد فرمایا تھا کہ ’’بے شک حسین ؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔‘‘ دنیا کے اکثر فتنے، جنگیں اور ظلم اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اقتدار، دولت اور ذاتی مفادات کو مقصد حیات بنا لیا جائے۔

امام حسین ؑ نے واضح فرمایا کہ ان کا قیام ذاتی منفعت یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ اصلاحِ امت کے لیے تھا۔ یہ پیغام آج بھی دنیا کے تمام حکمرانوں کو آواز دے رہا ہے۔ اگر تم اقتدار کو امانت سمجھو گے تو عوام کے حقوق غصب کرنے کے بجائے ان کی خدمت کروگے۔ کربلا تمام تاجروں کو پیغام دے رہا ہے کہ اپنے تجارتی معاملات میں دیانت داری کا پاس و خیال رکھو، اگر تم ایسا کروگے تو معاشی استحصال کم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ انجام دے تو معاشرے میں اعتماد، محبت اور عدل کا ماحول پیدا ہو جائے گا، کرپشن، استحصال اور ناانصافی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔