’نہ پڑھوں گا نہ پڑھنے دوں گا!‘

کرن سانگوانن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور ان کے خلاف بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان اکیڈمی کے ذمہ داروں پر سیاسی دباؤ پڑا اور انہوں نے کرن سانگوان کو ملازمت سے برطرف کر دیا

<div class="paragraphs"><p>کرن سانگوان</p></div>

کرن سانگوان

user

سہیل انجم

ایک بار ہم نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ یہ فروغ جہالت کا دور ہے۔ جو جتنی زیادہ جہالت کی باتیں کرے گا اتنا ہی قابل اور ذی علم سمجھا جائے گا۔ اور جو تعلیم و تربیت کو فروغ دینے کی بات کرے گا وہ گویا ایک جرم کرے گا اور اسے اس جرم کی سزا بھی ملے گی۔ ایک تعلیمی ادارے ”اَن اکیڈمی“ سے وابستہ ایک استاد کرن سانگوان کے ایک واقعے نے ہمیں اس کالم کی یاد دلا دی۔ دراصل کرن سانگوان نے بہت بڑا جرم کیا ہے جس کی انھیں سزا مل گئی ہے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے اسٹوڈنٹس کو نصیحت کی کہ اگلی بار جب تم ووٹ دینے جاؤ تو پڑھے لکھے لوگوں کو ووٹ دینا۔ ان لوگوں کو ووٹ مت دینا جو صرف بدلنے میں یقین رکھتے ہوں۔ ان کو اس ”جرم“ کی پاداش میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ واقعہ پورے ملک میں وائرل ہو گیا ہے اور جہاں کچھ لوگ ان کی ملازمت کے خاتمے پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں بہت سے لوگ اس پر خوش ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سانگوان کو سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔

دراصل سانگوان نے حق گوئی سے کام لے لیا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ سچ بولنے والوں اور حق کی حمایت کرنے والوں کو ہمیشہ سزا ملی ہے۔ اگر چہ دنیا نے بہت ترقی کر لی ہے اور ہندوستان چاند پر پہنچ گیا ہے لیکن بہت سے لوگوں کی سوچ اب بھی صدیوں پرانی ہے۔ سانگوان کئی برسوں سے قانون کے طالب علموں کو پڑھا رہے ہیں۔ وہ ان اکیڈمی سے 2001 سے سوابستہ رہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ اپنے یو ٹیوب چینل ”قانون کی پاٹھ شالہ“ پر طلبا کو پڑھاتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں تعزیرات ہند، فوجداری قوانین اور شہادت کے قوانین کو بدلنے کی تجویز رکھی گئی۔ دفعہ302 جو قتل کی دفعہ کی حیثیت سے مشہور ہے اب بدل گئی ہے۔ یعنی اب قتل کے جرم کے لیے اس دفعہ کا استعمال نہیں ہوگا۔ اسی طرح دفعہ 420 کا مطلب ہوتا تھا کسی کو دھوکہ دینا، کسی کے ساتھ چالبازی اور فریب کرنا۔ لیکن اب چار سو بیس کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ اسی طرح اور بھی بہت سی دفعات تبدیل کر دی گئی ہیں۔


سپریم کورٹ نے بارہا کہا ہے کہ انگریزوں کے زمانے کے بغاوت کے قانون کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ لیکن حکومت نے اس قانون کو اور سخت کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قوانین میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے کہ پولیس کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت کے خلاف بولنا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ کسی بھی عمل کے بارے میں حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ دہشت گردی ہے۔ اور پھر دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔ یہاں تک کہ جج حضرات بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔ متعدد ماہرین قانون جہاں اس تبدیلی کی حمایت کر رہے ہیں وہیں ایسے قانون دانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ملک میں ڈکٹیٹر شپ لاگو کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔

کسی بھی استاد کو خاص طور پر اونچی کلاس کے بچوں کو پڑھانے کے لیے نوٹس بنانے پڑتے ہیں۔ ایسے بہت کم اساتذہ ملیں گے جو بغیر نوٹس کے پڑھاتے ہوں۔ نوٹس کی مدد سے اپنی باتیں زیادہ مؤثر اور مفصل انداز میں سمجھائی جا سکتی ہیں۔ کرن سانگوان چونکہ قانون پڑھاتے ہیں اس لیے انھوں نے بھی بہت سے نوٹس بنائے تھے جن میں سابقہ دفعات کا حوالہ ہے۔ لیکن اب ان نوٹس کو ازسرنو بنانا پڑے گا اور قانون کے اسٹوڈنٹس کو بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی حوالے سے انھوں نے بچوں کو نصیحت کی تھی کہ اگلی بار پڑھے لکھے کو ووٹ دینا۔ ایسے لوگوں کو مت دینا جو صرف بدلنے میں یقین رکھتے ہوں۔ ان کی اس نصیحت کو ایک خاص طبقے کے لوگوں نے حکمراں جماعت اور حکمرانوں کے بارے میں تصور کر لیا۔


ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ پھر کیا تھا اس مخصوص طبقے سے وابستہ لوگوں نے ان کی مذمت شروع کر دی۔ ان کے خلاف بیانات دینے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ ان اکیڈمی کے ذمہ داروں پر سیاسی دباؤ پڑا اور انھوں نے کرن سانگوان کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اکیڈمی کا کہنا ہے کہ ان کا ایک ضابطہئ اخلاق ہے جس میں درج ہے کہ کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ کوئی سیاسی نظریہ نہیں پیش کیا جائے گا۔ کرن سانگوان نے ایک سیاسی نظریہ پیش کرکے یا ایک سیاسی بیان دے کر ضابطہئ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ کرن کا استدلال ہے کہ وہ اس ضابطے سے واقف ہیں۔ لیکن اس میں سیاسی نظریے کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اور پھر انھوں نے تو ایک عام بات کہی تھی۔ ان کے بقول ان کا کام اپنے اسٹوڈنٹس کو صرف پڑھانا نہیں ہے بلکہ ان کی تربیت بھی کرنا ہے اور ان کو صحیح سوچ کی طرف گامزن بھی کرنا ہے۔

لیکن ان کی اس نصیحت کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی ڈگری کا تنازعہ پیدا ہوا تھا جس پر ان کی پولیٹیکل سائنس کی ایم اے کی ڈگری دکھائی گئی تھی۔ حالانکہ اس سے قبل انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ ان کی صرف اسکولنگ ہوئی ہے۔ یعنی وہ صرف ہائی اسکول پاس ہیں۔ لیکن جب وہ وزیر اعظم بن گئے تو پھر ان کے پاس اینٹائر پولیٹیکل سائنس کی ڈگری ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ حالانکہ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پولیٹیکل سائنس کا کورس تو ہوتا ہے لیکن اینٹائر پولیٹیکل سائنس کا کوئی سبجکٹ نہیں ہے۔


ان کی ڈگری کے سلسلے میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ جس پر گجرات میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا اور عدالت نے وزیر اعظم کی ڈگری معلوم کرنے کے جرم میں ان کو سزا بھی سنائی۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ وزیر اعظم پڑھا لکھا شخص ہونا چاہیے تاکہ وہ صحیح فیصلے کر سکے۔ ادھر سنگوان کے معاملے پر بھی انھوں نے سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ کسی تعلیم یافتہ شخص کو ووٹ دینے کی اپیل کرنا کہاں کا جرم ہو گیا۔ کانگریس نے بھی اس پر اعتراض کیا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا اس بات پر کسی کو سزا دی جا سکتی ہے کہ اس نے پڑھے لکھے لوگوں کو ووٹ دینے کی بات کی۔

دراصل بہت سے لوگوں کی یہ رائے ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ہندوستان میں ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جس میں تعلیم کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت تعلیمی اداروں کو تباہ کر رہی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ لوگ تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ اگر وہ پڑھے لکھے ہوں گے تو انھیں صحیح اور غلط کا علم ہوگا۔ وہ کسی پر بھی آنکھ بند کرکے یقین نہیں کریں گے بلکہ اپنی عقل کا استعمال کرکے فیصلہ کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو اندھ بھکتوں کا جو ایک گروہ پیدا کر دیا گیا ہے وہ رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گا اور پھر لوگ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھانے لگیں گے۔ اور حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی اس کے فیصلوں پر سوال اٹھائے۔ وہ اسی صورت میں اپنے ایجنڈے پر کام کر سکتی ہے جب کوئی سوال کرنے والا نہ ہو۔ اگر سب پڑھ لکھ لیں گے تو پھر مشکل ہوگی۔ اور اگر تعلیم یافتہ افراد ہی سیاست و حکومت میں آجائیں گے تو اس وقت اور بھی دشواری ہوگی۔


اس سلسلے میں رویش کمار نے اپنے ویڈیو پروگرام میں بتایا ہے کہ ان اکیڈمی کے بانیوں کا جھکاؤ حکمراں جماعت بی جے پی کی طرف ہے۔ بانیوں میں سے ایک نے حکومت اور وزیر اعظم کے حق میں متعدد ٹوئٹس کی ہیں۔ رویش کا کہنا ہے کہ ان کوتو سیاسی باتیں کہنے اور ایک سیاسی جماعت اور اس کے نظریے کی حمایت کا حق حاصل ہے لیکن اگر کوئی استاد ایسی کوئی بات کہتا ہے تو وہ جرم ہو جاتا ہے۔ کرن سنگوان کا کہنا ہے کہ نھوں نے اپنی نصیحت میں کسی کا نام نہیں لیا تو پھر لوگوں نے کیوں اسے اپنے اوپر لے لیا۔ ان کی اس بات پر ہمیں مرحوم راحت اندوری کا سنایا ہوا ایک لطیفہ یاد آگیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک جگہ رات میں مشاعرہ پڑھا اور صبح کو پولیس والوں نے انھیں تھانے میں بلا لیا۔ پولیس والوں نے ان سے کہا کہ تم نے رات مشاعرے میں کہا تھا کہ حکومت چور ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں میں نے کہا تھا کہ حکومت چور ہے۔ لیکن میں نے اپنی حکومت کے بارے میں نہیں بلکہ پاکستان کی حکومت کے بارے میں کہا تھا۔ اس پر پولیس والوں نے کہا کہ تم ہمیں بیوقوف سمجھتے ہیں۔ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ کہاں کی حکومت چور ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔