انسانی حقوق: فطرت کی آواز اور خدائی ہدایت...ایف اے مجیب

انسانی حقوق کسی تہذیب یا قوم کی ایجاد نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ اسلام انہیں خدائی ہدایت سے جوڑتے ہوئے عدل، مساوات، رحم اور احساسِ جواب دہی کے ذریعے ان کے تحفظ کی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

دنیا کی تاریخ میں انسان نے بہت سے نظریات تخلیق کیے، تہذیبیں بنائیں، سلطنتیں قائم کیں اور زندگی گزارنے کے مختلف طریقے اختیار کیے، لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس پر زمانوں، علاقوں اور تہذیبوں کے اختلافات کبھی غالب نہیں آ سکے۔ یہ حقیقت انسان کی جان، عزت، آزادی، انصاف اور بنیادی حقوق کا احترام ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں، کسی بھی تہذیب کا مطالعہ کریں یا کسی بھی دور کے انسانی معاشرے کو دیکھیں، چند بنیادی اخلاقی اصول ہر جگہ مشترک نظر آئیں گے۔ بے گناہ کا قتل برا ہے، ظلم قابلِ مذمت ہے، کسی کا مال چھیننا غلط ہے، والدین کا احترام ہونا چاہیے، بچوں کی حفاظت ضروری ہے، کمزور کی مدد ہونی چاہیے اور انصاف سب کے ساتھ یکساں ہونا چاہیے۔ ان اصولوں کو سمجھنے کے لیے نہ کسی خاص زبان کی ضرورت ہے، نہ کسی مخصوص تہذیب کی اور نہ ہی کسی مذہبی شناخت کی۔ یہ انسانی فطرت کی وہ آواز ہے جسے تقریباً ہر انسان اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کے مختلف خطوں میں آباد انسانوں کے درمیان بنیادی اخلاقی اصولوں کی یہ یکسانیت کیوں پائی جاتی ہے؟ جب انسانوں کی زبانیں الگ ہیں، رہن سہن مختلف ہے، تہذیبیں جدا ہیں، تاریخی تجربات مختلف ہیں اور زندگی کے بارے میں نظریات میں بھی اختلاف ہے تو پھر بنیادی انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار میں اتنی مماثلت کیسے ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ بے گناہ کے قتل، ظلم، خیانت اور ناانصافی کو اچھا نہیں سمجھتا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ انسانوں کے درمیان یہ بنیادی اتفاق کسی مشترک حقیقت کے بغیر وجود میں آ گیا ہو؟ اس سوال کا ایک فطری جواب یہ ہے کہ انسان جہاں بھی پیدا ہوا، جس ماحول میں بھی پروان چڑھا اور جس تہذیب کا بھی حصہ بنا، اس کی بنیادی انسانی ساخت ایک جیسی ہے۔ اس کے اندر اچھائی اور برائی کا شعور، محبت اور نفرت کا احساس، انصاف کی خواہش اور ظلم سے نفرت کا جذبہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انسان اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو جس طرح محسوس کرتا ہے، دوسرے انسان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو بھی اصولی طور پر غلط سمجھتا ہے۔ اگرچہ عملی زندگی میں مفادات، تعصبات اور طاقت کے نشے میں انسان اپنے ہی تسلیم شدہ اصولوں سے انحراف کرتا رہتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصول بدل گئے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان اپنے فطری شعور کے خلاف عمل کر رہا ہے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی فطرت اور خدائی ہدایت کا تعلق سمجھ میں آتا ہے۔ اگر انسان کو پیدا کرنے والی ہستی نے اسے ایک خاص فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے تو اس فطرت میں خیر و شر، عدل و ظلم اور درست و غلط کی بنیادی تمیز کا موجود ہونا ایک فطری بات ہے۔ انسان کی جسمانی ساخت، اس کی بنیادی ضروریات اور اس کے جذبات میں جس طرح ایک خالق کی حکمت اور یکسانیت دکھائی دیتی ہے، اسی طرح اس کے اخلاقی شعور میں بھی ایک مشترک نظام کی جھلک نظر آتی ہے۔ گویا انسانی حقوق کے بنیادی اصول کسی خاص قوم، نسل یا تہذیب کی ایجاد نہیں، بلکہ انسانی تخلیق کے ساتھ وابستہ ایک فطری حقیقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان اصولوں کو محض انسانی اتفاقِ رائے کے بجائے خدائی رہنمائی کا مظہر سمجھنا زیادہ بامعنی معلوم ہوتا ہے..

اگر اس زاویے سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے مختلف ادوار میں بنیادی اخلاقی تعلیمات کسی نہ کسی صورت موجود رہی ہیں۔ مختلف علاقوں اور قوموں میں آنے والے انبیاء اور مصلحین نے انسان کو ایک دوسرے کے حقوق کا احترام، سچائی، دیانت، عدل، رحم، عہد کی پابندی، والدین کی خدمت اور کمزوروں کی مدد کی تعلیم دی۔ ان تعلیمات کی زبان اور بعض عملی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا بنیادی پیغام ایک دوسرے سے قریب نظر آتا ہے۔ اس یکسانیت کو اس حقیقت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انسانیت کا خالق ایک ہے اور انسانی فطرت کا سرچشمہ بھی ایک ہی ہے۔ جب خالق ایک ہے تو اس کی مخلوق کے لیے بنیادی اخلاقی رہنمائی میں وحدت ہونا بھی قابلِ فہم ہے۔

یہاں اسلام کا تصور ایک نئے اور وسیع تناظر میں سامنے آتا ہے۔ اسلام کسی مخصوص قوم، نسل یا جغرافیے سے شروع ہونے والا محدود مذہبی تصور نہیں، بلکہ وہ عالمگیر دینِ فطرت ہے جس کی بنیادی دعوت پہلے انسان حضرت آدمؑ سے چلی اور مختلف زمانوں اور قوموں میں انبیاء کے ذریعے انسانیت تک پہنچتی رہی۔ اس دعوت کا بنیادی پیغام ایک خدا کی بندگی، انسانی فطرت کی پاکیزگی، نیکی، انصاف اور حقوق کی ادائیگی تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اسی دین کی آخری اور مکمل صورت عطا کی گئی۔ اس اعتبار سے اسلام کی تکمیل صرف عبادات اور عقائد کی تکمیل نہیں بلکہ انسانی زندگی کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور اجتماعی اصولوں کی جامع رہنمائی بھی ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے اسلام کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے ان حقوق کو کسی بادشاہ، حکومت یا طاقتور طبقے کی عطا قرار نہیں دیا، بلکہ انہیں خالق کی مقرر کردہ ذمہ داریوں اور حدود سے وابستہ کیا۔ انسان کی جان، مال اور عزت کا احترام، خواتین اور بچوں کے حقوق، والدین اور رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں اور ضرورت مندوں کی کفالت، مزدور کی محنت کا حق، پڑوسیوں سے اچھا برتاؤ اور عدل و انصاف کا قیام اسی جامع تصور کے مختلف پہلو ہیں۔ ان تعلیمات کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف کسی مخصوص مذہبی جماعت کے افراد تک محدود نہیں بلکہ انسانی تعلقات کے وسیع دائرے میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اسلام کا تصورِ انسانی حقوق اس لیے بھی منفرد ہے کہ وہ حقوق کو محض مطالبات کی فہرست نہیں بناتا بلکہ ان کے تحفظ کے لیے انسان کے اندر ایک مستقل اخلاقی احساس پیدا کرتا ہے۔ دنیا کے قوانین انسان کو جرم کرنے سے روکنے اور جرم کے بعد سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہر جگہ اور ہر لمحے قانون کا نفاذ ممکن نہیں۔ کوئی شخص کسی کمزور کا استحصال اس وقت بھی کر سکتا ہے جب وہاں کوئی عدالت، پولیس یا گواہ موجود نہ ہو۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اسے ظلم سے کون روکے گا؟ اسلام اس کا جواب انسان کے اندر موجود احساسِ جواب دہی میں تلاش کرتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اعمال سے نہ صرف دوسرے انسان متاثر ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے خالق کے سامنے بھی جواب دہ ہے تو حقوق کی ادائیگی اس کے لیے محض قانونی پابندی نہیں رہتی، بلکہ اس کے ایمان اور کردار کا تقاضا بن جاتی ہے۔


آج انسانی حقوق کے نام پر دنیا بھر میں جو جدوجہد ہو رہی ہے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی منشور، آئین، قوانین اور انسانی حقوق کے ادارے معاشرتی انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود اگر طاقتور کمزور کا استحصال کرتا رہے، دولت مند غریب کا حق مارتا رہے، معاشرے میں عورت، بچے اور بزرگ عدم تحفظ کا شکار رہیں اور ریاستیں اپنے مفادات کے لیے انسانی جانوں کو بے وقعت سمجھتی رہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ صرف قوانین انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان کے اندر اس فطری اخلاقی شعور کو بھی زندہ کیا جائے جو اسے دوسرے انسان کے دکھ، تکلیف اور حق کا احساس دلاتا ہے۔

درحقیقت انسانی حقوق کی پوری بحث ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے: انسان نے حقوق کی ضرورت ایجاد نہیں کی، بلکہ وہ ضرورت اس کی تخلیق کے ساتھ موجود تھی۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں ان اصولوں کی یکسانیت اس بات کا ایک قابلِ غور فطری اشارہ ہے کہ انسانی فطرت کا سرچشمہ مشترک ہے۔ اسلام اسی مشترک فطرت کی خدائی رہنمائی ہے، جو حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنی آخری اور مکمل صورت میں انسانیت کو عطا ہوئی۔ اس لیے انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ صرف حقوق کے مطالبے سے نہیں بلکہ اس خالق کی ہدایت کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے سے ممکن ہے جس نے انسان کو حقوق بھی عطا کیے اور ان کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی سونپی۔