انسان: ایک زندہ سگنل یا محفوظ ہوتی ہوئی حقیقت؟...ایف اے مجیب

؎اگر کائنات ایک منظم نظام ہے اور انسان ایک شعوری و معلوماتی وجود ہے، تو اس کا ہر عمل اور نیت محفوظ ہو رہی ہے، اور ایک دن یہ سب کچھ اس کے سامنے مکمل طور پر ظاہر کر دیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ایف اے مجیب

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ کیا یہ کائنات محض اتفاق کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی باقاعدہ، بامقصد اور مربوط نظام کارفرما ہے؟ جدید سائنس نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے صدیوں تک تحقیق کی، مگر جوں جوں علم آگے بڑھا، یہ حقیقت مزید واضح ہوتی گئی کہ کائنات ایک بے ترتیب حادثہ نہیں بلکہ ایک نہایت منظم اور قانون کے تابع نظام ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہی بنیادی تصور قرآن صدیوں پہلے پیش کر چکا تھا۔

آج کی کاسمولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا آغاز ایک انتہائی گھنی اور گرم حالت سے ہوا، جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ابتدا میں تمام مادہ اور توانائی ایک نقطے میں مجتمع تھی، پھر اچانک پھیلاؤ شروع ہوا۔ قرآن ایک مقام پر کہتا ہے کہ آسمان اور زمین باہم جڑے ہوئے تھے اور پھر انہیں جدا کیا گیا۔ اگرچہ یہ آیت سائنسی اصطلاحات میں نہیں، مگر اس کا مفہوم کائنات کی ابتدائی وحدت کی طرف اشارہ کرتا محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح جدید سائنس نے یہ بھی دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، جسے ایکسپینڈنگ یونیورس کہا جاتا ہے۔ قرآن میں آسمان کے بارے میں کہا گیا کہ “ہم اسے پھیلانے والے ہیں”۔ یہ ہم آہنگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرآن کائنات کو ایک متحرک اور ارتقائی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ ایک جامد ساخت کے طور پر۔

لیکن قرآن کا اصل کمال صرف کائنات کی بیرونی ساخت تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسان کے اندرونی جہان—یعنی شعور، نیت اور دل—پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔


جدید سائنس نے طویل عرصے تک دماغ کو شعور کا واحد مرکز سمجھا، مگر اب نیوروکارڈیالوجی نے یہ واضح کیا ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان ایک پیچیدہ برقی اور اعصابی تعلق موجود ہے۔ دل میں ہزاروں نیورونز پائے جاتے ہیں اور یہ پورے جسم کے ساتھ مسلسل سگنلز کا تبادلہ کرتا ہے۔ اس سے یہ تصور مضبوط ہوتا ہے کہ انسان ایک بایو الیکٹرک سسٹم ہے، جس میں معلومات صرف دماغ تک محدود نہیں۔

قرآن جب “دل” کو سمجھنے اور غور کرنے کا مرکز قرار دیتا ہے، تو یہ محض شاعرانہ استعارہ نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے—کہ انسان کا شعور ایک جامع نظام ہے جس میں جسم، دماغ اور دل سب شامل ہیں۔

اسی تسلسل میں جدید سائنس کا ایک اور میدان سامنے آتا ہے: نیوروسائنس اور برین سگنل ڈی کوڈنگ۔ آج سائنسدان دماغی لہروں کو پڑھ کر بعض اوقات خیالات یا تصاویر کا اندازہ لگانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی سوچ کوئی غیر مرئی راز نہیں بلکہ ایک میزریبل اور ریکارڈیبل فینومنا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا تصورِ حساب و کتاب ایک نئے زاویے سے سمجھ آتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کا ہر لفظ اور ہر عمل محفوظ کیا جا رہا ہے، اور قیامت کے دن اسے اس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر آج انسان خود ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے جو ڈیٹا کو محفوظ اور دوبارہ پیش کر سکتی ہے، تو یہ تصور بعید نہیں رہتا کہ کائنات کا خالق ایک ایسا مکمل نظام رکھتا ہو جو انسان کی پوری زندگی کو محفوظ کر رہا ہو۔

قرآن یہاں ایک اور حیرت انگیز بات کہتا ہے: انسان اپنے اعمال کو “دیکھے گا”۔ یہ محض پڑھنے یا سننے کا ذکر نہیں بلکہ ایک مکمل وزوئل ایکسپیرئنس کی طرف اشارہ ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں ویڈیو ریکارڈنگ اور ورچوئل ریئلٹی عام ہو چکی ہے، یہ تصور مزید قابلِ فہم ہو جاتا ہے کہ اعمال ایک مکمل حقیقت کے طور پر انسان کے سامنے ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔


اب اگر ہم انسان کی تخلیق کی طرف دیکھیں تو یہاں بھی قرآن اور سائنس کے درمیان ایک دلچسپ ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ جدید ایمبریالوجی نے ثابت کیا ہے کہ انسانی جنین مختلف مراحل سے گزرتا ہے—ابتدائی خلیے سے لے کر پیچیدہ ساخت تک۔ قرآن بھی انسان کی تخلیق کو مختلف مراحل میں بیان کرتا ہے، جو آج کے سائنسی علم کے ساتھ ایک حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح سمندری سائنس نے دریافت کیا کہ گہرے سمندر میں مکمل تاریکی ہوتی ہے اور وہاں مختلف سطحوں پر لہریں موجود ہوتی ہیں جنہیں انٹرنل ویوز کہا جاتا ہے۔ قرآن سمندر کے اندھیروں اور “موج پر موج” کی مثال دیتا ہے، جو اس پیچیدہ ساخت کی ایک تصویری جھلک پیش کرتی ہے۔

ارضیات کے میدان میں بھی جدید تحقیق نے بتایا کہ پہاڑوں کی جڑیں زمین کے اندر گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں اور وہ زمین کے توازن میں کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن میں پہاڑوں کو “میخیں” کہا گیا ہے، جو زمین کو تھامے رکھنے والی چیزوں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

تاہم یہاں ایک نہایت اہم اصول کو سمجھنا ضروری ہے:

قرآن کا مقصد سائنسی کتاب بننا نہیں، بلکہ انسان کو ہدایت دینا ہے۔ اس لیے اسے ہر سائنسی نظریے کے ساتھ زبردستی جوڑنا درست نہیں۔ کچھ مقبول دعوے—جیسے پانی کی یادداشت یا خیالات کا براہِ راست دوسروں پر اثر—ابھی سائنسی طور پر ثابت نہیں، اس لیے انہیں احتیاط کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔


قرآن کی اصل قوت اس میں نہیں کہ ہم اس سے ہر نئی سائنسی دریافت “نکالیں”، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ایک جامع، مربوط اور بامقصد کائناتی تصور پیش کرتا ہے، جہاں انسان کا ہر عمل، ہر نیت اور ہر سوچ ایک معنی رکھتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں حدیث کا اصول “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” اپنی گہرائی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اگر انسان واقعی ایک برقی اور معلوماتی نظام ہے، تو اس کی نیت اس کے پورے وجود کی سمت متعین کرتی ہے۔

آج کا دور ایک نئے چیلنج کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، دماغی چپس اور نیورل انٹرفیس جیسی ٹیکنالوجیز انسان کے ذہن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ترقی جہاں سہولت لاتی ہے، وہیں ایک خطرہ بھی پیدا کرتی ہے: انسانی آزادیِ فکر کا خطرہ۔

ایسے میں قرآن کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے—کہ انسان اپنی نیت، اپنے شعور اور اپنی اندرونی دنیا کی حفاظت کرے۔ کیونکہ اگر انسان کی اصل حقیقت اس کا باطن ہے، تو سب سے بڑی ذمہ داری بھی اسی کی حفاظت ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ قرآن سائنس سے آگے ہے یا پیچھے، بلکہ سوال یہ ہے کہ:

کیا سائنس اس حقیقت کے قریب پہنچ رہی ہے جسے قرآن نے ایک اصول کے طور پر بیان کیا تھا؟

اگر کائنات ایک منظم نظام ہے…

اگر انسان ایک شعوری اور معلوماتی وجود ہے…

اگر ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے…

تو پھر یہ ماننا مشکل نہیں رہتا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ سب کچھ مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا۔

اور شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جسے قرآن “قیامت” کہتا ہے—

جب انسان کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ صرف ایک جیتا جاگتا وجود نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل ریکارڈ ہوتی ہوئی حقیقت تھا۔۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔