مزاحمت کس طرح جڑ جماتی ہے اور آگے بڑھتی ہے؟... شیلندر چوہان

جب اقتدار اپنی پالیسیوں، فیصلوں یا رویوں کے تئیں اٹھ رہے عدم اتفاق کو سننے کی جگہ اسے دبانے، بدنام کرنے یا کنٹرول کرنے لگتا ہے تو مزاحمت جمہوری شہریت کا اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مزاحمت کی علامتی تصویر</p></div>
i

پختہ جمہوریت شہریوں کی دانشمندانہ شرکت، آزادانہ فکر اور اختلاف رائے کے احترام سے ہی زندہ رہتی ہے۔ اس لیے جمہوریت میں مزاحمت کوئی غیر معمولی یا نظام مخالف سرگرمی نہیں، بلکہ جمہوری زندگی کا فطری اور ضروری عمل ہے۔ جب اقتدار اپنی پالیسیوں، فیصلوں یا طرز عمل کے خلاف اٹھنے والی مخالفت کو سننے کے بجائے اسے دبانے، بدنام کرنے یا کنٹرول کرنے لگتا ہے، تب مزاحمت جمہوری شہریت کا ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔

لیکن مزاحمت کا سوال صرف یہ نہیں ہے کہ احتجاج کیا جائے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ مزاحمت کتنی مؤثر ہو سکتی ہے؟ کون سی مزاحمت اقتدار پر حقیقی دباؤ ڈالتی ہے اور کون سی صرف کچھ وقت کے لیے خبر بن کر ختم ہو جاتی ہے؟ کیا تعداد ہی فیصلہ کن ہے؟ کیا عدم تشدد ہمیشہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے؟ کیا کبھی پُرتشدد بغاوت بھی سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بنی ہے؟ اور آج، جب اقتدار کے پاس پولیس، انتظامیہ، نگرانی کی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، وسیع مواصلاتی نظام اور معاشی وسائل پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، تو جمہوری مزاحمت کی مؤثر شکل کیا ہو سکتی ہے؟


ہندوستان کی آزادی کی تحریک ان سوالات پر غور کرنے کی سب سے بڑی تاریخی مثال ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک طریقۂ کار، تنظیم یا لیڈر کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس میں آئینی سیاست تھی، عوامی تحریک تھی، ستیہ گرہ تھا، عدم تعاون تھا، بائیکاٹ تھا، زمینی سرگرمیاں تھیں، انقلابی تشدد تھا، فوجی بغاوت کی کوششیں تھیں اور آخرکار وسیع عوامی سیاسی دباؤ تھا۔ اسے صرف گاندھی اور عدم تشدد کی کہانی بنا دینا تاریخ کو آسان بنا دینا ہے۔ اسی طرح اسے صرف انقلابیوں کی بہادری کی کہانی سمجھ لینا بھی اتنا ہی نامکمل ہے۔

مہاتما گاندھی کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی شاید یہ تھی کہ انہوں نے مزاحمت کو چند بہادر افراد کے ہاتھ سے نکال کر عام شہری کے ہاتھ میں دے دیا۔ ستیہ گرہ کا مطلب صرف دھرنا یا بھوک ہڑتال نہیں تھا۔ اس کا بنیادی تصور یہ تھا کہ ناانصافی پر مبنی اقتدار کے ساتھ تعاون سے انکار کیا جائے۔ عدم تعاون کی تحریک میں سرکاری اداروں سے دوری، غیر ملکی اشیا کا بائیکاٹ، سودیشی کی حمایت اور عوامی شرکت اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ تھے۔ نمک ستیہ گرہ نے تو ایک انتہائی عام چیز کو نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف سیاسی علامت بنا دیا۔


گاندھی کی سیاست کی طاقت اس بات میں تھی کہ اس میں حصہ لینے کے لیے فرد کو اسلحہ، دولت یا خصوصی تربیت کی ضرورت نہیں تھی۔ کسان، مزدور، طلبا، تاجر، خواتین اور عام شہری اپنی اپنی سطح پر شامل ہو سکتے تھے۔ اس طرح مزاحمت سماجی طور پر وسیع ہوتی گئی۔ یہیں تعداد کی طاقت کا سوال اہم ہو جاتا ہے۔ اقتدار ایک چھوٹے گروہ کو پولیس، مقدمات، گرفتاریوں اور انتظامی کنٹرول کے ذریعہ دبا سکتا ہے۔ لیکن جب اختلاف رائے معاشرے کے متعدد طبقات میں پھیلنے لگتا ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ وہ محض ’احتجاج‘ نہیں رہ جاتا، سماجی اختلاف رائے بن جاتا ہے۔

جدید سیاسیات میں ایریکا چینووتھ اور ماریا جے اسٹیفن کی تحقیق نے بھی وسیع شہری شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ عدم تشدد پر مبنی بڑے پیمانے کی تحریکوں پر ان کی اسٹڈی کا نتیجہ رہا ہے کہ متعدد حالات میں عدم تشدد پر مبنی عوامی مہمات پُرتشدد مہمات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر رہی ہیں۔ بعد کی ’ناوکو 2.1‘ تحقیق (عالمی سطح پر پُرتشدد اور عدم تشدد پر مبنی عوامی تحریکوں، انقلابات اور مزاحمتی مہمات کا ایک اہم تحقیقی ڈاٹا سیٹ ہے۔ اسے ایریکا چینووتھ اور کرسٹوفر ولی شے نے تیار کیا ہے) میں 1945 سے 2013 کے درمیان 389 پُرتشدد اور عدم تشدد پر مبنی عوامی مہمات کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں پایا گیا کہ عدم تشدد پر مبنی مہمات میں شرکت زیادہ رہی اور فی کس اموات کی شرح مسلح مہمات کے مقابلے میں بہت کم رہی، تاہم 2001 کے بعد عدم تشدد پر مبنی تحریکوں کی کامیابی کی شرح میں کمی بھی دیکھی گئی۔


اس تحقیق سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے... تعداد اہم ہے، لیکن صرف تعداد کافی نہیں ہے۔ لاکھوں لوگوں کا ایک دن سڑک پر نکلنا اور پھر اگلے دن اپنے اپنے گھروں کو چلے جانا اتنا مؤثر نہیں ہو سکتا جتنا مسلسل، منظم اور نظم و ضبط کے حامل شہری عدم تعاون۔ تعداد تب سیاسی طاقت میں تبدیل ہوتی ہے جب اس کے ساتھ تنوع، تنظیم، تسلسل اور واضح مقصد جڑ جائیں۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک اسی کی مثال تھی۔ گاندھی کی قیادت میں تحریکوں کی کامیابی صرف اس لیے نہیں تھی کہ بہت سے لوگ ان میں شامل ہوتے تھے۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے سماجی ڈھانچوں پر دباؤ بڑھتا تھا۔ انتظامیہ اسی وقت تک مؤثر رہتی ہے جب تک معاشرے کے کافی لوگ اس کے اداروں کو چلانے میں تعاون کرتے رہیں۔

دوسری طرف ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں انقلابی دھارے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خاں اور متعدد انقلابیوں نے نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف مسلح جدوجہد اور جرأت مندانہ کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا مقصد صرف فوری اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا۔ وہ نوآبادیاتی حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا چاہتے تھے۔ بھگت سنگھ کی سیاسی فکر تو سماجی اور معاشی تبدیلی کے وسیع سوالات تک جاتی تھی۔


اس کے باوجود یہ ماننا مشکل ہے کہ چند انقلابی کارروائیاں اکیلے برطانوی سلطنت کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر سکتی تھیں۔ انقلابی دھارے نے نوآبادیاتی اقتدار کے اندر خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا، نوجوانوں کو تحریک دی اور آزادی کے سوال کو شدت بخشی، لیکن اس کی عوامی بنیاد گاندھی کی عوامی تحریکوں جیسی وسیع نہیں تھی۔ اسی وجہ سے آزادی کی تحریک کی تاریخ میں دونوں دھاروں کو ان کے اپنے سیاسی اثرات اور حدود کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

یہاں ایک اور اہم حقیقت ہے۔ عدم تشدد کا مطلب بے عملی نہیں ہے۔ عدم تشدد پر مبنی مزاحمت انتہائی فعال، منظم اور حکمت عملی پر مبنی ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد صرف اخلاقی اپیل کرنا نہیں، بلکہ اقتدار کی کام کرنے کی صلاحیت اور قانونی جواز پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔ ہڑتال، بائیکاٹ، سول نافرمانی، پُرامن دھرنا، اجتماعی عرضداشت، انتخابی مداخلت، صارفین کا عدم تعاون اور ادارہ جاتی مزاحمت... یہ سب اس کی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ آج کے زمانے میں اس سوال کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے کیونکہ اقتدار کی نوعیت بدل گئی ہے۔ بیسویں صدی کی تحریکوں کے سامنے بنیادی طور پر پولیس، فوج، انتظامیہ اور سنسرشپ کا چیلنج تھا۔ آج کسی بھی حکومت کے پاس اس کے علاوہ ڈیجیٹل نگرانی، ڈاٹا تجزیہ، سوشل میڈیا بیانیہ، آن لائن پروپیگنڈا اور فوری اطلاعات کے انتظام کی صلاحیتیں بھی ہیں۔ اس لیے صرف سڑک پر ہجوم جمع کر دینا اپنے آپ میں کافی نہیں رہ گیا ہے۔


اس کے باوجود سڑک کی سیاست غیر متعلق نہیں ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے بتاتے ہیں کہ عوامی مقامات اب بھی جمہوری طاقت کا ایک اہم پلیٹ فارم ہیں۔ 2026 میں امریکہ میں ’نو کنگز‘ احتجاجی مظاہروں کے پھیلاؤ نے بھی دکھایا کہ اختلاف رائے اس وقت وسیع سیاسی واقعہ بن سکتا ہے جب اس میں مختلف سماجی گروہوں کی شرکت ہو۔ لیکن آج کی مزاحمت کو کسی ایک ذریعے پر منحصر نہیں رہنا چاہیے۔ اس کا اثر اسی وقت بڑھے گا جب سڑک، معاشرہ، ادارے، معیشت اور اطلاعات... ان تمام شعبوں میں جمہوری شہری شرکت کی پُرامن شکلیں فروغ پائیں۔ کبھی کبھی صرف تعداد سے زیادہ تنوع اہمیت رکھتا ہے۔ ایک اور مؤثر ذریعہ معاشی عدم تعاون ہے۔ اقتدار صرف انتخابات اور پولیس کے ذریعے نہیں چلتا، وہ معاشی سرگرمیوں اور شہری تعاون سے بھی چلتا ہے۔ پُرامن ہڑتال، صارفین کا بائیکاٹ، ادارہ جاتی اختلاف اور معاشی دباؤ متعدد حالات میں مؤثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن معاشی عدم تعاون ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو ہی اٹھانا پڑے۔

مزاحمت کی طاقت کو 5 الفاظ میں سمجھا جا سکتا ہے... وسعت، اتحاد، نظم و ضبط، تسلسل اور قانونی جواز۔ یہاں وسعت کا مطلب ہے تحریک معاشرے کے زیادہ سے زیادہ حصوں تک پہنچے؛ اتحاد کا مطلب ہے اختلافات کے باوجود کم از کم مشترکہ مقصد برقرار رہے؛ نظم و ضبط کا مطلب ہے تحریک تشدد، نفرت اور افراتفری کے ہاتھ میں نہ چلی جائے؛ تسلسل کا مطلب ہے مزاحمت کسی ایک دن کا واقعہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ ایک سیاسی عمل بنے؛ قانونی جواز کا مطلب ہے معاشرے کی بڑی تعداد تحریک کے مطالبے کو منصفانہ سمجھے۔ مخالفت کا مستقبل نہ صرف پارلیمنٹ میں ہے، نہ سڑکوں پر اور نہ ہی سوشل میڈیا پر، بلکہ اس شہری توانائی میں ہے جو ان سب کو جوڑ سکے۔ انتخابات جمہوریت کا ایک حصہ ہیں، مکمل جمہوری زندگی نہیں۔ عدالتیں اہم ہیں، لیکن ہر سوال ان تک نہیں پہنچتا۔ میڈیا ضروری ہے، لیکن جب وہ کمزور پڑ جائے تو معاشرے کو معلومات کے آزاد نظام تیار کرنے چاہئیں۔ سڑکیں اہم ہیں، لیکن صرف سڑکوں پر اترنا کافی نہیں ہے۔

آخرکار، جمہوری احتجاج کا اندازہ ہجوم کے حجم یا گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے کیا جانا چاہیے کہ اس نے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے رویے، عوامی بحث اور شہری شعور میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔