تاریخ بنام ہندوتوادی مفروضہ... سبھورنجن داس گپتا

قدیم ہندوستانی تاریخ کی معروف دانشور رومیلا تھاپر کے حال ہی میں شائع یادداشت بتاتے ہیں کہ آخر وہ ہندوتوادی خیمہ کے نشانے پر کیوں رہتی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
i

بابری مسجد کو سن 1992 میں منہدم کر دیا گیا تھا۔ بی جے پی۔ اس کے نظریاتی رہنما آر ایس ایس اور رام جنم بھومی تحریک کی قیادت کرنے والی اس کی جارحانہ اتحادی تنظیم وشو ہندو پریشد کے لیے یہ ایک تہذیبی فتح کا لمحہ تھا۔ لیکن دوسرے ہندوستانیوں کے لیے، جو اب بھی ایک بہت بڑی اکثریت ہیں اور جن میں بنیادی طور پر وہ ہندو شامل ہیں جو اپنے آئین کی تکثیریت پر فخر محسوس کرتے ہیں، یہ اس بات کا ایک ہولناک احساس تھا کہ تقسیم کا بھوت اب بھی پُرسکون نہیں ہوا ہے اور ملک میں مذہبی انتہاپسندی نہ صرف زندہ ہے بلکہ باقاعدہ فروغ پا رہی ہے۔

قدیم اور ابتدائی قرون وسطیٰ کے ہندوستانی تاریخ کی علمی تحریروں کے خلاف بے اطمینانی کی پہلی بازگشت 1977 میں ایمرجنسی کے بعد اقتدار میں آنے والی پہلی غیر کانگریسی جنتا پارٹی حکومت کے دوران سنائی دی تھی۔ بی جے پی اپنی سابقہ شکل بھارتیہ جن سنگھ کے طور پر اس حکومت میں ایک بااثر شراکت دار تھی اور اس نے اپنی طاقت کا استعمال اس تاریخ کے تئیں اپنی بے صبری ظاہر کرنے کے لیے کیا جو اس وقت تک پڑھائی جا رہی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم مرارجی دیسائی جن سنگھ کے مؤقف سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے حکم دیا کہ ’’این سی ای آر ٹی کی مقرر کردہ تاریخ کی درسی کتابوں پر پابندی لگا دی جائے، جو ایک چونکا دینے والا قدم تھا۔‘‘ (’جسٹ بی اِنگ: اے میموائر‘، سیگل بکس، صفحہ 20)


پالیسی میں آنے والی اس انقلابی تبدیلی کے باعث جو ٹکراؤ شروع ہوا، وہ جلد ہی رومیلا تھاپر جیسے پرانے دور کے ممتاز مؤرخین پر شدید ذاتی حملوں میں تبدیل ہو گیا۔ دہلی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشارے پر امیر تارکین وطن ہندوستانی تمسخر اڑاتے ہوئے تبصرہ کرنے لگے کہ ’’میں (رومیلا تھاپر) ایک مؤرخ کے طور پر نااہل اور ایک محقق کے طور پر ناقابل ہوں، اور مجھے اس عہدے پر کبھی مقرر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘‘ (صفحہ 221)

بہرحال، جنتا پارٹی کا یہ تجربہ بہت جلد بکھر گیا، جس کے نتیجے میں ہندوستانی تاریخ کو ہندوتوا کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے اس منصوبے کو 1998 میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں پہلی این ڈی اے حکومت آنے تک انتظار کرنا پڑا۔ بظاہر واجپئی نے یہ کہہ کر ایک نرم مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی کہ ’ہندوستان سیکولر تھا، ہے اور رہے گا‘، لیکن انہوں نے اپنے جارحانہ وزیر برائے ترقیٔ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا، جنہوں نے تاریخ کے اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کیا اور عرفان حبیب، سروپلی گوپال اور اپنی سخت مخالف رومیلا تھاپر کے پیچھے پڑ گئے۔ خود تھاپر کے الفاظ میں:

  • ’’1980 کی دہائی میں شروع ہونے والی جان سے مارنے کی دھمکیاں اکثر آدھی رات کو فون پر دی جاتی تھیں۔‘‘ (صفحہ 222)

  • وہ ’’مجھے ایک ایسے خطرے کے طور پر دیکھتے تھے جسے خاموش کرانا بے حد ضروری تھا۔‘‘ (صفحہ 481)


میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر تھاپر ہی ان کا بنیادی نشانہ کیوں بنیں؟ اس کی 2 وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔ تھاپر کی دلچسپی کا میدان قدیم ہندوستان یا نام نہاد ’ہندو اور مسلم سے پہلے کا ہندوستان‘ رہا ہے، جسے ملک کے نو آریہ اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں۔ اور اس بے باک محققہ نے مسلم حملہ آوروں کی آمد سے پہلے اس سرزمین پر موجود مبینہ امن، ہم آہنگی اور عظمت کے دعوؤں پر سخت سوالات اٹھا دیے۔

حقیقت یہ ہے کہ رومیلا تھاپر اور معروف امریکی مؤرخ رچرڈ ایٹن نے اپنی تحقیق سے اس طرح کے ’ہندو ہندوستان‘ کے مفروضے کو مکمل طور پر منہدم کر دیا تھا۔ جہاں تھاپر نے (خاص طور پر اپنے 2020 کے مضامین کے مجموعے ’وائسز آف ڈسینٹ‘ میں) برہمنوں اور شرمنوں (عموماً گھر بار چھوڑنے والے سنیاسی) کے درمیان تلخ تنازعات کو اجاگر کیا، جن کے باعث خونریزی تک ہوئی۔ وہیں ایٹن نے ہندو راجاؤں کی ہولناک جنگوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں نے نہ صرف شکست خوردہ راجاؤں کی ریاستوں کو لوٹا بلکہ ان کے مندروں اور ان میں موجود دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو بھی تباہ کر دیا۔ (’ٹیمپل ڈسیگریشن اینڈ مسلم اسٹیٹس اِن میڈیول انڈیا‘، 2004)


یعنی ہندو مندروں کی لوٹ مار، جسے ہندوتوا کے حامی مندروں کی بے حرمتی کے طور پر پیش کرتے ہیں، 1001 کے آس پاس محمود غزنوی کی آمد سے بہت پہلے ہماری سناتنی سرزمین پر شروع ہو چکی تھی۔ ہندوتوا کے جو حامی تھاپر کو چیلنج کرتے ہیں، وہ خود پتنجلی کے ’مہابھاشیہ‘ (قبل مسیح دوسری صدی) کو دیکھ سکتے ہیں، جنہیں وہ بے حد قابل احترام مانتے ہیں۔ تھاپر اکثر اس کا حوالہ دیتی ہیں، جہاں پتنجلی نے برہمنوں اور شرمنوں کے تعلق کو ’سانپ اور نیولے‘ جیسا قرار دیا ہے۔ تھاپر ہندوتوا کے علمبرداروں کی آنکھوں میں اس لیے بھی کھٹکنے لگیں کیونکہ انہوں نے اسکولی طلبہ کے لیے تاریخ کی درسی کتابیں لکھی تھیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں: ’’مجھے ہندوتوا کے حامیوں نے ایک ناقابلِ قبول مؤرخ کے طور پر میری علمی کتابوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ بنیادی طور پر ان درسی کتابوں کی وجہ سے دیکھا جو میں نے ثانوی اسکولوں کے لیے لکھیں۔ درسی کتابیں تاریخ یا کسی بھی علم کی عوامی تعبیر کو درست کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘ (صفحہ 218-219)

ہندوتوا کے تاریخی بیانیے کے بنیادی مفروضے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ہمیں یقین دلایا جاتا ہے کہ ہندوستان کا مسلم سے پہلے کا ’سناتنی‘ ماضی سماجی ہم آہنگی کا دور تھا۔ اس تصور کو برقرار رکھنے کے لیے اس دور کے غیر انسانی، نسلی اور ذات پات پر مبنی جبر کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسے ’امن کا دور‘ ماننا رزمیہ مہابھارت کی لامتناہی جنگ کی داستان کو جھٹلانا ہے، اور یہ ’اشومیدھ یگیہ‘ کی اس سامراجی روایت کو فراموش کر دینا ہے جس نے اسی دور میں ہندو ریاستوں کے درمیان مسلسل جنگوں کو ہوا دی۔


اس سناتنی ہندو تہذیب کے بارے میں دوسرا مفروضہ سائنس اور فن کے میدان میں اس کی ترقی کے بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوے ہیں، جن میں پلاسٹک سرجری اور ہوائی جہازوں کی ایجاد شامل ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ تہذیب علم کا سب سے بڑا سرچشمہ تھی، ایک ایسی جنت جسے مسلم حملہ آوروں نے لوٹ لیا، اور اس سرزمین پر ان کے پانچ صدیوں کے اقتدار کو ہندوستانی تاریخ کا ’تاریک دور‘ قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخ کی اس تعبیر میں کسی بھی مسلم حکمراں، یہاں تک کہ اکبر نے بھی کوئی قابل ذکر یا پائیدار کام نہیں کیا۔ وہ سب صرف ’’لٹیرے‘‘ تھے اور اس لیے انہیں تاریخ کی کتابوں سے مٹا دینا ہی بہتر ہے۔

برطانوی راج کے بارے میں یہ فرضی تاریخ متضاد ہے کیونکہ اس نظریے کو ماننے والے لوگ تحریک آزادی سے مکمل طور پر غائب تھے۔ درحقیقت انہوں نے کئی مواقع پر انگریزوں کا ساتھ دیا، جیسا کہ معروف مؤرخ سمیت سرکار نے اپنی گہری تحقیقی تصنیف ’ٹوورڈز فریڈم‘ میں دکھایا ہے، جسے اُس وقت کی راجگ حکومت نے دبا دیا تھا، لیکن بعد میں سن 2009 میں شائع کیا گیا۔ اسی لیے رومیلا تھاپر ہندوتوا بریگیڈ اور مؤرخین کے بھیس میں گھومنے والے ان کے پسندیدہ افسانہ نویسوں کو سب سے زیادہ ناپسند ہیں۔ وہ انہیں اس لیے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ ہندوتوا کے حامیوں کو انہی کے قلعے میں چیلنج دیتی ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’اشوک اینڈ دی ڈیکلائن آف دی موریاز‘ (1961) کتبوں اور آثار قدیمہ کے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے یہ دکھاتی ہے کہ موریہ سلطنت سیکولر تھی، جو مذہبی دینداری کے بجائے سیاسی عملیت پر مبنی تھی۔ وہ ’ہندو سنہری دور‘ کے مفروضے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہیں۔ درحقیقت یہ تردید ان کی تحریروں میں ایک بنیادی آہنگ کی طرح گونجتی ہے اور ’جسٹ بی اِنگ‘ میں بھی اسی بے باک انداز میں سنائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر:

’’اگر ہندوتوا ہی ہندو دھرم ہے، تو اس نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ بھی کسی دوسرے مذہب کی طرح پُرتشدد اور عدم برداشت رکھنے والا ہے۔‘‘ (صفحہ 383)

’’مذہبی قوم پرستی تاریخ کو تہس نہس کر رہی ہے۔‘‘ (صفحہ 400)

’’ہندوتوا کوئی مذہب نہیں اور نہ ہی یہ ہندو دھرم ہے۔ میں ہندوتوا کو ’سنڈیکیٹڈ ہندو دھرم‘ مانتی ہوں۔‘‘ (صفحہ 212)


رومیلا تھاپر کا ماننا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ اپنی رزمیہ داستانوں، کتبوں اور کلہن کی بارہویں صدی کی ’راج ترنگنی‘ جیسے شاندار زمانی بیانیوں میں محفوظ رکھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تاریخ کی ان کی مبینہ طور پر ’ہندو مخالف‘، ’یورپ مرکز‘ یا ’مارکسی‘ تعبیر نوآبادیاتی مؤرخین کے نتائج کو نہیں دہراتی، جیسا کہ سناتنی حلقہ کرتا ہے، جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان لامتناہی جنگوں کے نوآبادیاتی نظریے کو فروغ دیتا ہے۔

’سومناتھ‘ (2004) میں بھی وہ ہمیں اس تقسیم پیدا کرنے والے ہندو-مسلم بیانیے پر سوال اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں: کیا محمود غزنوی بنیادی طور پر ایک مذہبی انتہاپسند تھا یا ایک بے رحم لٹیرا، جس نے سومناتھ پر حملے کے بعد قندھار میں مسجد کو تباہ کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی؟ جن لوگوں نے رومیلا تھاپر کے خلاف فتوے جاری کیے، انہوں نے آج تک اس سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔


ثقافت اور تہذیب کی ہندوتوا پر مبنی تقسیم کی سخت مخالف تھاپر کا استدلال ہے کہ ’تہذیب کوئی بند اکائی نہیں‘ بلکہ ’ایک لچکدار کیفیت ہے، جو کئی ثقافتوں کے باہمی میل جول سے تشکیل پاتی ہے۔‘ (صفحہ 572) ایک مؤرخ کے طور پر ان کا یہ نقطۂ نظر ان کے پسندیدہ شاعر ٹی ایس ایلیٹ کی 1920 کی نظم ’جیرونشن‘ کی ان سطور کی یاد دلاتا ہے:

اتنے گیان کے بعد، پھر کیسی چھما؟ اب کرو وِچار

(اتنے علم کے بعد، پھر کیسی معافی؟ اب کرو غور)

اتیہاس کے پاس کئی چالاک راستے، گڑھے ہوئے گلیارے ہیں

(تاریخ کے پاس کئی چالاک راستے، تراشی ہوئی راہداریاں ہیں)

اور وہ دبی مہتواکانکشاؤں سے بھرماتا ہے، دھوکہ دیتا ہے

(اور وہ دبی ہوئی امنگوں سے بہکاتی ہے، دھوکہ دیتی ہے)

ہمیں ہمارے ہی دمبھ کی انگلی پکڑ راہ دکھاتا ہے

(ہمیں ہمارے ہی غرور کی انگلی پکڑ کر راستہ دکھاتی ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔