منموہن سنگھ: ہندوستانی قیادت کی قدیم روایت کے معمار
منموہن سنگھ شمولیت اور اتحاد کے حامی رہنما تھے۔ وہ سادگی، علم، اور فکر کی گہرائی کے ساتھ قیادت کرتے تھے۔ ان کی پالیسیوں نے قومی ترقی کو ترجیح دی، نفرت یا انتقام کو نہیں

منموہن سنگھ، تصویر@kharge
منموہن سنگھ نئے ہندوستان کے نمائندہ نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے ہندوستان کے رہنما تھے جو شمولیت، ہم آہنگی، اور ترقی پر یقین رکھتا تھا۔ ان کی سیاست ہمیشہ تقسیم کے بجائے اتحاد کی علمبردار رہی۔ اگر وہ عوامی تقاریر میں مذہب کا ذکر بھی کرتے، تو اس کا مقصد کسی خاص گروہ کو بدنام کرنا یا عوام کو اس کے خلاف اکسانا نہیں بلکہ رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوتا۔
آج کا 18 سالہ نوجوان، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہا ہے لیکن 2014 میں صرف 10 سال کا تھا، نفرت کے ماحول میں پروان چڑھا ہے۔ اس کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں کبھی ایسے اصول بھی تھے جو سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو فوقیت دیتے تھے۔ منموہن سنگھ ان اصولوں کی بہترین مثال تھے۔
ان کا اندازِ قیادت انوکھا تھا۔ نہ وہ اپنے آپ کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے تھے، نہ اپنے بارے میں غیر ضروری باتیں کرتے تھے، اور نہ ہی خود کو عوام کی نظروں میں بلند کرنے کے لیے کسی طرح کا ڈرامائی انداز اپناتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے خطاب میں تیسرے شخص میں بات نہیں کی، نہ اپنے لباس یا عادات سے کسی پر اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک عام لباس اور سادہ شخصیت کے مالک تھے، جن کی سادگی ان کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت تھی۔
منموہن سنگھ کی معمولی شروعات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے کبھی بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا۔ اگرچہ ان کا پس منظر تقسیم شدہ ہندوستان کی مشکلات سے جڑا ہوا تھا، لیکن انہوں نے اپنی انکساری کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ ان کی تعلیمی قابلیت غیر معمولی تھی، لیکن انہوں نے کبھی اپنی ڈگریوں کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیمبرج یونیورسٹی میں ان کے نام سے ایک اسکالرشپ موجود ہے، اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈ کالج میں ان کا ذکر ان کے تحقیقی کام کے لیے موجود ہے۔ ان کا مقالہ ’’انڈیا کی ایکسپورٹ ٹرینڈز اور خود کفیل ترقی کے امکانات‘‘ ایک اہم معاشی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
منموہن سنگھ نے اپنی زندگی میں ہمیشہ علم کو جذبات پر فوقیت دی۔ وہ ایک گہرے مطالعے والے شخص تھے، جو کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہندوستانی معیشت کے لیے کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے تھے جو دانستہ نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ انہوں نے کبھی عوام کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالا جو بلاوجہ اذیت کا باعث بنیں، جیسے کہ نوٹ بندی یا لاک ڈاؤن جیسی پالیسیاں، جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔
منموہن سنگھ کی قیادت کا ایک اور اہم پہلو ان کی فیصلہ سازی کی سوچ تھی۔ وہ جلد بازی اور جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کرتے تھے، جو آج کے دور کی سیاست کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔ وہ ہمیشہ گہرائی اور دانش مندی سے کام لیتے تھے، جیسا کہ مارچ 2009 میں فنانشل ٹائمز کے انٹرویو میں ان کی بصیرت ظاہر ہوئی۔ ان سے جب عالمی مالیاتی نظام اور ڈالر کی جگہ کسی نئے ریزرو اثاثے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو ان کا جواب بہت متوازن اور سوچا سمجھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’پیسہ جاری کرنے کی طاقت کسی ملک کی طاقت کی علامت ہوتی ہے، اور کوئی بھی اپنی طاقت رضاکارانہ طور پر نہیں گنواتا۔‘‘
آج، جب کہا جاتا ہے کہ منموہن سنگھ کمزور تھے، تو یہ موازنہ اس وقت کے سیاسی حالات سے کرنا ضروری ہے۔ 2002 کے گجرات کے واقعات کے دوران، جب پارٹی کے اندر اختلاف رائے کو دبایا گیا اور مخالفین کو سزا دی گئی، تو یہ اس بات کی علامت تھی کہ سیاسی طاقت کس طرح سماجی ہم آہنگی پر غالب آ سکتی ہے۔ اس وقت، پارٹی کے اندر کے اختلافات کو دبانے کے لیے انتہا پسند نظریات کو فروغ دیا گیا، اور وزیر اعظم کے طور پر واجپائی بھی اس دباؤ کے سامنے بے بس نظر آئے۔
یہ موازنہ آج کے ہندوستان کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے۔ منموہن سنگھ کی قیادت نے ہمیشہ قوم کو پارٹی سے زیادہ اہمیت دی۔ انہوں نے سیاست کو خدمت اور ترقی کا ذریعہ سمجھا۔ ان کی قیادت نے ہندوستانی سیاست کو ایک اخلاقی معیار فراہم کیا، جو آج کے سیاسی حالات سے بالکل مختلف تھا۔
جنوری 1949 میں جارج آرویل نے گاندھی جی کے بارے میں لکھا تھا: ’’گاندھی نے سیاسی ماحول کو نفرت کے بغیر جراثیم سے پاک کیا۔‘‘ منموہن سنگھ بھی اسی روایت کے امین تھے۔ ان کی سیاست میں ضد اور انتقام کے بجائے شرافت اور رواداری کا پہلو نمایاں تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا اور ہمیشہ قومی ترقی اور عوامی خدمت کو اولیت دی۔
یہ تمام پہلو ان کی قیادت کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آج کے ہندوستان میں ایسی قیادت کیوں ناپید ہو چکی ہے؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔