ہم ہیں کامیاب-19: محمد شہنشاہ نے مفلسی کے سبب بچپن میں تعلیم ترک کی، اب ہیں کروڑوں کی کمپنی ’ٹوڈیز فیشن‘ کے مالک
محمد شہنشاہ کی اصل کہانی اعظم نگر (کٹیہار) کے مدرسہ قاسم العلوم سے شروع ہوتی ہے، جہاں انھیں ماسٹر احسان کا دست شفقت نصیب ہوا۔

ریاست بہار کے کٹیہار ضلع میں ایک گاؤں ہے نمول۔ یہاں شیخ ادریس نامی ایک کسان تھے، جن کی زندگی 1980 کی دہائی میں بہت مشقتوں سے گزر رہی تھی۔ کھیتی کسانی کر کے کسی طرح اپنی بیوی اور 3 بچوں کی پرورش کر رہے تھے۔ یکم جنوری 1982 میں ان کے گھر چوتھے بچے کی ولادت ہوئی، جس کا نام رکھا گیا محمد شہنشاہ۔ معلوم نہیں شیخ ادریس نے اپنے چھوٹے بچے کا یہ نام کیوں رکھا، لیکن آج یہ چھوٹا بچہ اپنی محنت کے دَم پر کروڑوں روپے کا کاروبار کھڑا کر اپنے نام ’شہنشاہ‘ کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ جی ہاں، آج محمد شہنشاہ ایک کامیاب کاروباری ہیں اور کٹیہار کے بارسوئی میں ’ٹوڈیز فیشن‘ کے نام سے ایک شاندار 4 منزلہ ’شاپنگ کمپلیکس‘ چلاتے ہیں۔
محمد شہنشاہ کی اصل کہانی اعظم نگر (کٹیہار) کے مدرسہ قاسم العلوم سے شروع ہوتی ہے، جہاں انھیں ماسٹر احسان کا دست شفقت نصیب ہوا۔ یہاں ’شہنشاہ‘ پر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسا ’احسان‘ کیا کہ کم وقت کی تعلیم و تربیت نے ہی بچے کو ذہین اور باشعور بنا دیا۔ محمد شہنشاہ کا کہنا ہے کہ ’’مدرسہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی انتظام تھا، لیکن ماسٹر احسان کی مخلصانہ تربیت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔‘‘ ماسٹر صاحب کو شہنشاہ سے جانے کیا انسیت تھی کہ ہندی، اردو، انگریزی اور ریاضی پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ پیر میں چپل نہیں ہوتی تو چپل دلا دیتے، اگر گھر سے بغیر کچھ کھائے مدرسہ آ گئے تو اپنے پاس سے کھلا دیتے۔ ان کی رہنمائی میں شہنشاہ کی پرورش ہوتی رہی، اور پھر وہ وقت آیا جب شہنشاہ کو گھریلو حالات دیکھ کر احساس ہونا شروع ہو گیا کہ کچھ ذمہ داریاں اٹھانی ضروری ہیں۔
محمد شہنشاہ نے 14 سال کی عمر تک مدرسہ میں پڑھائی کی اور پھر ذریعۂ معاش کی فکر میں مبتلا ہو گئے۔ اس طرح تعلیم بیچ میں ترک کرنے سے ماسٹر احسان کو شدید افسوس ہوا، لیکن ان کے حالات بھی اتنے اچھے نہیں تھے کہ کوئی مالی امداد کر سکتے۔ چونکہ محمد شہنشاہ نے اسکولی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور عمر بھی کم تھی، اس لیے کٹیہار میں کوئی ایسا کام نہیں مل پا رہا تھا جس سے والد شیخ ادریس کی مالی پریشانیوں کو کچھ کم کیا جا سکے۔ گھر والوں کے لیے کسی ’بڑی راحت‘ کا خواب دیکھ رہے شہنشاہ نے اچانک 1999 میں راجدھانی دہلی جانے کا فیصلہ کیا، اور یہی ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔ دہلی پہنچ کر انھوں نے ایک ایسی کمپنی میں ملازمت اختیار کی، جو ہینڈی کرافٹ یعنی دست کاری سے منسلک تھی۔ وہاں ڈائری، فوٹو فریم، بیگ وغیرہ بنائے جاتے تھے، جنھیں بڑے پیمانہ پر ایکسپورٹ کیا جاتا تھا۔ اپنی ذہانت اور محنت کی وجہ سے 20 سالہ محمد شہنشاہ نے 3 سالوں میں ہی دست کاری کا ایسا ہنر سیکھ لیا، جسے دیکھ کر پختہ عمر والے دست کار بھی حیران رہ جاتے۔
محمد شہنشاہ کی زندگی کا دوسرا اہم موڑ 2002 ثابت ہوا، جب انھوں نے ہینڈی کرافٹ کی اپنی کمپنی کھولنے کا ارادہ کیا۔ جوان خون میں تو جوش ہوتا ہی ہے، فوراً ’کنگ ہینڈی کرافٹس‘ نام سے کمپنی کھول لی۔ محض 3 سالوں کا تجربہ ہونے کے باوجود شہنشاہ کی کمپنی ’کنگ ہینڈی کرافٹس‘ تیزی سے ترقی کرنے لگی اور ماہر دست کاروں کی ایک ٹیم تیار ہو گئی۔ بنائے گئے سامان بیرون ممالک برآمد کیے جانے لگے اور ایسا محسوس ہوا جیسے یہ شہنشاہ اب رکنے والا نہیں ہے۔ اس ترقی کی وجہ سے گھر کے حالات بھی بہتر ہوتے چلے گئے اور شیخ ادریس کے ساتھ ساتھ والدہ سمیجا خاتون کو بھی سکون و آرام حاصل ہوا۔ 2011 میں شہنشاہ کی شادی سعدیہ عظمیٰ سے ہو گئی، جس نے زندگی کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ لیکن زندگی تو ایک امتحان کی مانند ہے، اس لیے خوشیاں اور سکون دیرپا کہاں ثابت ہوتی ہیں۔ 2012 میں کچھ ایسا ہوا، جس نے شہنشاہ کو پوری طرح توڑ کر رکھ دیا۔ اپنے والد شیخ ادریس کے انتقال کی خبر سن کر وہ بھاگے بھاگے کٹیہار پہنچے۔ انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔ دن گزر رہے تھے لیکن والد کی یاد دل سے نکل نہیں رہی تھی۔ اس غم نے شہنشاہ کو اس طرح توڑ دیا کہ دہلی واپس جانے کی خواہش نہیں ہوتی تھی۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنی والدہ کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ دہلی میں کامیابی کے ساتھ ایک کمپنی چل رہی تھی، جس کو بند کرنا تقریباً 20 لوگوں کو بے روزگار بنا دیتا۔ حالات نے انھیں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا۔
آخر کار 2013 میں محمد شہنشاہ نے پھر ایک بڑا قدم اٹھایا، جو ان کی زندگی کا تیسرا بڑا موڑ ثابت ہوا۔ انھوں نے ’کنگ ہینڈی کرافٹس‘ کمپنی کو بڑے بھائی محمد اسلم کے سپرد کر دیا اور خود کٹیہار میں ہی رہ کر کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کی بس یہی خواہش تھی کہ اتنی آمدنی ہو جائے جس سے اپنا سکون اور گھر والوں کی خوشیاں خریدی جا سکیں۔ کچھ دوستوں سے صلاح و مشورہ کے بعد 2014 میں شہنشاہ نے ایک نئی کمپنی ’ٹوڈیز فیشن‘ کی بنیاد ڈالی، جہاں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کے لباس بھی دستیاب تھے۔ 400 اسکوائر فٹ کی چھوٹی سی دکان بارسوئی میں کھولی گئی، جہاں 2 ملازم رکھے گئے۔ 4 سالوں کی محنت کے بعد جب بڑے جگہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو قریب میں ہی 1000 اسکوائر فٹ کی ایک دکان کرایہ پر لی گئی۔ اس وقت تک ملازموں کی تعداد بھی بڑھ کر 15 ہو گئی تھی، یعنی ایک بار پھر محمد شہنشاہ کی محنت نے رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا۔ ’ٹوڈیز فیشن‘ نے معیاری کپڑوں اور مناسب قیمت کی وجہ سے لوگوں میں اپنی ایک الگ شناخت بنا لی اور قرب و جوار سے بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آنے لگے۔ پھر 2020 کا وہ زمانہ آیا جب کورونا وبا نے پوری دنیا کو ایک طرح سے تہس نہس کر دیا۔ لاک ڈاؤن نے ہر بڑے چھوٹے کاروبار کو متاثر کیا اور ’ٹوڈیز فیشن‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہ سکی۔ دکان پر پوری طرح تالا لگ گیا، ملازمین کو گھر پر بیٹھا کر تنخواہیں دی گئیں اور دکان کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑا۔ محمد شہنشاہ کو ایسا لگا جیسے بینک میں جمع پیسے تیزی کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں اور دکان بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ لیکن انھوں نے صبر سے کام لیا اور لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک بار حالات بہتر ہوئے، تو پھر ’ٹوڈیز فیشن‘ کو نئی زندگی ضرور حاصل ہوگی۔ اس صبر نے اپنا اثر دکھایا اور لاک ڈاؤن پوری طرح کھلتے ہی محمد شہنشاہ کے ساتھ ساتھ ان کی پوری ٹیم نے ایسی جاں توڑ محنت کی کہ 2 سالوں کے اندر کمپنی نے پھر سے پہلی جیسی شان حاصل کر لی۔
’ٹوڈیز فیشن‘ کے لیے 2025 ایک یادگار دن رہا جب محمد شہنشاہ نے تقریباً 5000 اسکوائر فٹ کا ایک پلاٹ بارسوئی میں ہی خرید کر 4 منزلہ شاپنگ کمپلیکس تیار کر دیا۔ اس کمپلیکس میں دوسری منزل کو چھوڑ کر بقیہ سبھی منزلوں پر آپ کو طرح طرح کے دیدہ زیب اور پرکشش لباس نظر آ جائیں گے۔ تقریباً 3 درجن ملازمین کے دَم پر یہ کمپنی اب ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی اونچائیوں کو چھو رہی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ محمد شہنشاہ کی اس کامیابی میں ان کی شریک حیات سعدیہ عظمیٰ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں۔ جی ہاں، گریجویٹ سعدیہ اپنے 14 سالہ بیٹے عمر عبداللہ اور 2 سالہ بیٹی سمائرہ فاطمہ کی بہترین پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ ’ٹوڈیز فیشن‘ کے انتظام و انصرام پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ چونکہ محمد شہنشاہ نے کمپلیکس میں ہی دوسری منزل پر اپنی رہائش بنا رکھی ہے، اس لیے سعدیہ اپنے دن کا خالی وقت ’ٹوڈیز فیشن‘ کو ہی دیتی ہیں۔ ملازمین اور خریداروں کے تئیں ان کا رویہ انتہائی مخلصانہ ہے، جس کی وجہ سے سبھی ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔
محمد شہنشاہ خود بھی بہت منکسر المزاج اور سادگی پسند ہیں۔ ان کو دیکھ کر یا باتیں کر کے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ وہ کروڑوں روپے کی ایک کمپنی کے مالک ہیں۔ انھیں یہ جذبۂ اخلاص اپنے والد اور ماسٹر احسان کی تربیت سے حاصل ہوا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماسٹر احسان سے محمد شہنشاہ کی ملاقات اب بھی اکثر ہوا کرتی ہے، اور آج بھی شہنشاہ خود کو ان کے احسانات تلے دبا محسوس کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح بچپن میں ماسٹر صاحب نے ان کا خاص خیال رکھا، اسی طرح اب وہ ماسٹر صاحب کا خاص خیال رکھیں۔ ان کے دل میں خلوص کا یہ جذبہ صرف ماسٹر صاحب کے تئیں ہی نہیں ہے، بلکہ ہر اس شخص کے تئیں ہے جس نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا، یا پھر حوصلہ افزائی کی۔
