ہم ہیں کامیاب-14: تالا انڈسٹری کے لیے مشہور علی گڑھ میں ’موبل لاکس‘ نے بنائی اپنی علیحدہ شناخت
علی گڑھ تالا انڈسٹری کو چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ ملتا ہے۔ یہ مقابلہ ’انسان اور مشین‘ کے درمیان ہے، جس میں انسان تالا کا معیار تو قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، لیکن رفتار میں مشینیں فاتح ہوتی ہیں

یہ مصنوعی ذہانت یعنی ’اے آئی‘ کا زمانہ ہے۔ کسی بھی چیز کی جانکاری حاصل کرنی ہو، تو ’جین-زی‘ طبقہ فوراً ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور ’جیمنی‘ وغیرہ کا رخ کرتا ہے۔ آج جب میں نے تالا کے کاروبار سے منسلک ایک شخصیت کی کہانی پیش کرنے کا ارادہ کیا تو اچانک ذہن میں آیا کہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے ’تالا کی تعریف‘ پوچھ کر دیکھوں۔ اپنی خواہش کا اظہار ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے کیا تو جواب ملا ’’تالا ایک ایسا آلہ ہے جو کسی دروازے، صندوق، الماری، گیٹ، سائیکل، موٹر سائیکل یا کسی دوسری چیز کو بند اور محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عموماً چابی، نمبر یا کسی دوسرے طریقۂ کار سے کھولا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ’’تالا وہ آلہ ہے جو کسی چیز کو بند رکھنے اور اسے غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
اس وضاحت کے بعد مجھے یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ’تالا کی خصوصیات کیا ہیں؟‘ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ کوئی بھی گھر، فیکٹری یا کمپنی بغیر تالا کے محفوظ نہیں۔ تالا صنعت کا جب ذکر آتا ہے تو زبان پر ’علی گڑھ‘ کا نام آنا لازمی ہے۔ اتر پردیش کا یہ شہر ’لاک سٹی‘ یعنی ’تالوں کا شہر‘ کہلاتا ہے۔ اسی شہر میں 54 سالہ محمد اعظم انصاری رہتے ہیں، جنھوں نے 2010 میں ’موبل لاکس‘ کے نام سے اپنی کمپنی شروع کی۔ یہ ایک کمپنی کا آغاز ضرور تھا، لیکن محمد اعظم نے اس سے قبل تقریباً 1998 میں ہی تالا مینوفیکچرنگ کی باریکیاں سیکھنا شروع کر دی تھیں۔ تقریباً 12 سالوں کی محنت کے بعد انھوں نے کمپنی شروع کرنے کی ہمت کی، لیکن یہ سب بہت آسان نہیں تھا۔ یہ سچ ہے کہ محمد اعظم کے والد محترم بھی اسی کاروبار سے منسلک تھے اور ان کی رہنمائی میں ہی محمد اعظم نے تالا مینوفیکچرنگ کی باریکیاں سیکھیں، لیکن اصل امتحان تب ہوتا ہے جب مسائل سامنے آتے ہیں۔
محمد اعظم انصاری کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ہنرمند کاریگروں کو جمع کرنا مشکل مرحلہ تھا۔ اس کے بعد حاصل آرڈرس کو وقت پر مکمل کرنا اور معیار کا خاص خیال رکھنا بھی بہت آسان نہیں تھا۔ ذہن میں بس ایک ہی خیال رہتا تھا کہ معیار میں کوئی کمی نہ ہو، کیونکہ پورے شہر میں ایک سے بڑھ کر ایک مینوفیکچرر تھے۔ اگر تالے میں کوئی شکایت ہوئی تو ایک کمپنی چھوڑ کر کلائنٹ دوسری کمپنی کی طرف جانے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اپنے تعلقات اور تجربات کی بنیاد پر کچھ مہینوں میں ہی ایک اچھی ٹیم تیار کر لی، پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ چند ایک مواقع ایسے ضرور آئے جب معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اہل خانہ کے تعاون سے یہ وقت بھی گزر گیا۔ خاص طور سے والد مرحوم حاجی محمد روید اور بڑے بھائی محمد جاوید نے تالا مینوفیکچرنگ کا ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ ہر مشکل وقت میں بھرپور مدد کی۔

تالا بناتے ہوئے کاریگر
اکونومکس میں بی اے آنرس کرنے والے محمد اعظم کی کمپنی ’موبل لاکس‘ 16 سال کا سفر مکمل کرنے کے بعد اپنی ایک الگ شناخت قائم کر چکی ہے۔ اس کامیابی کا ایک اہم راز یہ ہے کہ محمد اعظم نے ہمیشہ اپنے کاریگروں کا خاص خیال رکھا۔ کورونا وبا کے دور کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم سبھی کے لیے وہ ایک برا خواب ثابت ہوا تھا۔ جو بھی آرڈر ملے تھے، وہ سب پھنس گئے۔ لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور ٹرانسپورٹیشن وغیرہ سب ٹھپ ہو چکا تھا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ کام رکنے کی وجہ سے پیسوں کی آمد بند ہو گئی، لیکن کاریگروں کا خیال رکھنا بھی ضروری تھا۔ کسی طرح ان کی تنخواہیں جاری رکھی گئیں تاکہ کسی بھی کاریگر کی فیملی کھانے کی محتاج نہ ہو۔ لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی ہونے کے بعد بھی نئے آرڈرس نہیں مل رہے تھے۔ کبھی آرڈرس ملے بھی تو کورونا ایڈوائزری کے سبب 4-5 کاریگروں کو ہی ایک جگہ جمع کرنا ممکن ہو سکا۔ اتنے کم کاریگروں میں کام وقت پر پورا ہونا محال تھا۔ کسی طرح خدا خدا کر کے یہ مشکل وقت گزرا، اور پھر ایک سال کے بعد حالات معمول پر آئے۔

تالا سازی کا عمل انجام دیتے ہوئے ہنرمند کاریگر
فی الوقت محمد اعظم کی کمپنی میں تقریباً 15 مستقل ملازمین ہیں اور کچھ دیگر ملازمین مختلف حوالوں سے ’موبل لاکس‘ کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ علی گڑھ میں ہنر مند کاریگروں کی کمی نہیں ہے، لیکن تالا بنانے والی چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ ملتا ہے۔ یہ مقابلہ ’انسان اور مشین‘ کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انسان اپنی کاریگری سے تالا کا معیار تو قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، لیکن مینوفیکچرنگ کی رفتار میں ’مشینوں کی فتح‘ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر ہمارے پاس اچھی مشینیں ہو جائیں تو پھر ترقی کے کئی نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ یہ مشینیں مہنگی ہوتی ہیں اس لیے چھوٹی کمپنیوں کے لیے اسے خریدنا آسان نہیں۔ حکومت اس تعلق سے کچھ آسانیاں فراہم کرے تو بات بن سکتی ہے۔‘‘

تالا بنانے میں مصروف کاریگر
مشینوں کی بات ہو رہی ہے، تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ’موبل لاکس‘ کمپنی کے پاس 6-7 مشینیں موجود ہیں، جو تالا مینوفیکچرنگ کے لیے بے حد اہم ہیں۔ یہ مشینیں عموماً انسان ہی چلاتے ہیں، یعنی آٹومیٹک مشینیں نہیں ہیں۔ پھر بھی محمد اعظم کہتے ہیں کہ 16 سالوں میں کمپنی کی بنیاد مضبوط ہو چکی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر محمد اعظم کے 2 بیٹے بھی والد کا بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ حالانکہ دونوں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر بیرون ممالک جانا چاہتے ہیں۔ محمد اعظم ان پر کسی طرح کا دباؤ بھی نہیں ڈالنا چاہتے، اس لیے 25 سالہ بڑے بیٹے محمد حمزہ ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خلیجی ممالک جانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ چھوٹے بیٹے 20 سالہ محمد ارحم بھی بی ایس سی کر رہے ہیں اور بیرون ملک جا کر ہندوستان کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل محمد اعظم نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ابتدا سے ہی اچھی تعلیم دینے پر زور دیا۔ 2 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں سب سے چھوٹی بیٹی 8 سالہ عائشہ اس وقت ایک پرائیویٹ اسکول میں درجہ دوئم میں زیر تعلیم ہے۔
گویا کہ ایک طرف محمد اعظم انصاری اپنی کمپنی ’موبل لاکس‘ کو پوری تندہی اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں، دوسری طرف اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دے کر ان کا مستقبل بھی روشن بنا رہے ہیں۔ انھیں اس بات کی بالکل بھی فکر نہیں ہے کہ ان کے بعد ’موبل لاکس‘ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ اس انڈسٹری سے ان کی انسیت اور لگاؤ ہی ہے جو انھیں ہمیشہ بہتر سے مزید بہتر کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کمپنی شروع کرتے وقت ان کے اندر اس کام کے تئیں جو جنون تھا، اب بھی وہی جنون قائم ہے۔ غالباً یہی جنون کمپنی کو حاصل ترقی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
