انسانی حقوق: خواتین کے حقوق میں تشویشناک تنزلی

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کے حقوق میں تشویشناک تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔ قانونی عدم مساوات، جنگوں میں بڑھتا جنسی تشدد اور کمزور ہوتے ادارے انصاف کے خلا کو گہرا کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

آج کی دنیا جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت، خلائی تسخیر اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے گن گا رہی ہے، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کے حوالے سے ایک ہولناک عالمی پسپائی کا منظر نامہ ابھر رہا ہے۔ تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا اور اسے مضبوط بنانا کے عنوان سے اقوام متحدہ کی 2026 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح خواتین کی آزادیوں کو محدود کرنے، ان کی آواز کو خاموش کرنے اور بغیر کسی سزا کے بدسلوکی کی اجازت دینے کے لیے قوانین کی تشکیل نو کی جا رہی ہے۔

یہ رپورٹ اس تلخ تضاد کو بے نقاب کرتی ہے کہ معاشی اور سائنسی ترقی کے دعووں کے برعکس، خواتین کے بنیادی حقوق میں عالمی سطح پر ایک ایسی تنزلی دیکھی جا رہی ہے جو دہائیوں کی جدوجہد کو ملیا میٹ کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمارا موجودہ "انصاف کا نظام" واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ اب بھی صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

انصاف کا خلا

عالمی سطح پر صنفی مساوات کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اوسطاً صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 70 فیصد ممالک میں خواتین اور لڑکیوں کو انصاف کے حصول میں مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اسے ماہرین "انصاف کا خلا" قرار دے رہے ہیں۔

جب قانونی ڈھانچے ہی غیر مساوی ہوں، تو وہاں انصاف کی فراہمی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ 54فیصد ممالک کے قوانین میں اب بھی عصمت دری کی تعریف میں "رضامندی" کا تصور شامل نہیں ہے، جو مجرموں کو قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ ڈائریکٹر، یو این ویمن کی ڈائریکٹر سارہ ہینڈرکس کے مطابق، جہاں طاقت غیر مساوی رہتی ہے، انصاف شاذ و نادر ہی غیر جانبدارانہ کام کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صنفی مساوات سے پسپائی واضح طور پر نظر آنے لگتی ہے۔


'عدم سزا' کا کلچر

عالمی تنازعات کی بڑھتی ہوئی لہر خواتین کی زندگیوں کو براہِ راست نشانہ بنا رہی ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 67کروڑ 60 لاکھ خواتین اور لڑکیاں مہلک جنگی علاقوں کے محض 50 کلومیٹر کے دائرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھیں، جو کہ 1990 کی دہائی کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان جنگی حالات میں جنسی تشدد کو محض ایک اتفاقی نتیجہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ "جنگی ہتھیار" کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یو این ویمن کی رپورٹ کے مطابق، تنازعات سے وابستہ جنسی تشدد کے واقعات میں 87 فیصد تک ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے "سزا سے استثنیٰ" کا کلچر عام ہے، جو اس وحشتناک چکر کو مزید تقویت دیتا ہے۔

دم توڑتے ادارے

خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ جاتی ڈھانچہ تیزی سے بکھر رہا ہے۔ جب کسی متاثرہ خاتون کے لیے انصاف کے دروازے بند ہوتے ہیں، تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرے کا اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خواتین پر تشدد کے خلاف کام کرنے والی تقریباً 90 فیصد تنظیموں نے مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی بنیادی خدمات میں کٹوتی کی ہے۔

صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ صرف 5 فیصد تنظیمیں ہی یہ یقین رکھتی ہیں کہ وہ موجودہ حالات میں اگلے دو سال تک اپنا کام جاری رکھ سکیں گی۔ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں ہیں؛ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے وہ آخری پناہ گاہیں بھی ختم ہو رہی ہیں جہاں سے انہیں مدد کی امید تھی۔ سارہ ہینڈرکس کے بقول، جب انصاف خواتین کو ناکام بناتا ہے تو "عوامی اعتماد پامال ہوتا ہے اور انصاف کے اداروں کا اخلاقی جواز ختم ہو جاتا ہے"۔

اصلاحات واحد امید

مایوسی کے ان بادلوں میں امید کی کرن صرف ان اصلاحات سے وابستہ ہے جو "خواتین کے ذریعے اور خواتین کے لیے" ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1970 سے اب تک خاندانی قوانین میں کی جانے والی اصلاحات کی بدولت 60 کروڑ سے زائد خواتین کو معاشی مواقع تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقبل کی پالیسیوں میں پدرانہ سوچ (پیٹریارکی) کو چیلنج کرنا لازمی ہے۔ ان کے مطابق، پدرانہ نظام دراصل معاشرے کے ہر فرد کے لیے نقصان دہ ہے۔


وولکر ترک تجویز کرتے ہیں کہ ہمیں ایسے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے جو نہ صرف خواتین کی قیادت کو فروغ دیں بلکہ مردوں اور لڑکوں کو بھی اس بات کی تربیت دیں کہ صنفی برابری ہی پرامن اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔ خواتین کی مکمل شرکت سے نہ صرف امن معاہدے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں بلکہ کاروباری ادارے بھی زیادہ منافع بخش ثابت ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی عالمی تنزلی محض ایک سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی بحران ہے۔ اگر ہم نے آج انصاف کے ان خلاؤں کو پُر نہ کیا، تو ہم ایک ایسی دنیا کی طرف لوٹ جائیں گے جہاں طاقت ہی حق تسلیم کی جاتی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک آدھی آبادی قانون کے سامنے برابر نہیں ہوگی، حقیقی عالمی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ کیا ہم واقعی ایک ایسی دنیا کے متحمل ہو سکتے ہیں جہاں آدھی انسانیت کو انصاف کے بنیادی حق سے محروم رکھ کر ترقی کا سفر جاری رکھا جائے؟ اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔