گاندھی کا راستہ اور فاشسٹ سیاست کا چیلنج...شیلندر چوہان
گاندھی کو صرف عدم تشدد کی علامت کے طور پر یاد کرنا کافی نہیں۔ ستیہ گرہ، عدم تعاون اور شہری مزاحمت آج بھی خوف، نفرت، سیاسی جبر اور اداروں کے زوال کے خلاف جمہوری شعور کی بنیاد بن سکتے ہیں

گاندھی جینتی آتے ہی گاندھی ایک بار پھر ہمارے درمیان موجود دکھائی دینے لگتے ہیں۔ سرکاری تقریبات، اشتہارات، اسکولوں کے پروگرام، سیاسی رہنماؤں کی تقریریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرتے ان کے اقوال، سب کچھ کچھ دیر کے لیے گاندھی کو عوامی یادداشت کا حصہ بنا دیتا ہے۔ لیکن اکثر ہم جس گاندھی کو یاد کرتے ہیں، وہ اتنے سہل اور بے ضرر روپ میں سامنے آتے ہیں کہ ان سے کوئی غیر آرام دہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔ گاندھی کی اصل اہمیت شاید وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں ان کی تصویر ختم ہوتی ہے۔
آج جب جمہوری معاشروں میں اقتدار کے ارتکاز، اختلافِ رائے کے تئیں عدم برداشت، سیاسی تقسیم، خوف کے پھیلاؤ اور پروپیگنڈے کی بڑھتی ہوئی طاقت پر سنجیدہ سوال اٹھ رہے ہیں، گاندھی کو صرف عدم تشدد کی علامت کے طور پر یاد کرنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب اقتدار شہری سے صرف فرمانبرداری چاہنے لگے، اختلافِ رائے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، ادارے بتدریج اپنی خود مختاری کھونے لگیں اور معاشرے کا ایک حصہ دوسرے حصے کو دشمن سمجھنے لگے، تو گاندھی کا راستہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟
اس سے بھی مشکل سوال یہ ہے کہ کیا گاندھی کا راستہ ایسے ماحول میں سیاسی مزاحمت کی قوت بن سکتا ہے؟ فاشزم کو صرف کسی ایک تاریخی حکومت، ایک مخصوص دور یا کسی ایک رہنما کے نام سے سمجھنا کافی نہیں۔ اس کی بعض بنیادی خصوصیات ان رجحانات میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں اقتدار کے تئیں اندھی وفاداری، شخصیت پرستی، اختلافِ رائے کو دبانا، خوف اور نفرت کا سیاسی استعمال، فرضی یا مبالغہ آمیز دشمن کی تعمیر، اداروں کی کمزوری اور شہری آزادیوں پر مسلسل دباؤ شامل ہیں۔ تاہم ہر آمرانہ یا جابرانہ رجحان کو فاشزم قرار دینا بھی سیاسی تجزیے کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح محض اس بنیاد پر فاشسٹ رجحانات کو نظرانداز کرنا کہ انتخابات ہو رہے ہیں، اتنی ہی بڑی غلطی ہوگی۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں ہے۔ انتخابات اس کا ایک بنیادی حصہ ضرور ہیں، لیکن جمہوریت کا مکمل مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ گاندھی کی سیاسی اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے اقتدار کو محض حکم دینے والے حکمران کی طاقت کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کوئی اقتدار آخر قائم کیسے رہتا ہے۔
حکمران کے پاس پولیس، فوج، قانون اور انتظامیہ کی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن طویل عرصے تک حکومت کرنے کے لیے اسے معاشرے کے کسی نہ کسی درجے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شہری ناانصافی کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرتا ہے، جب وہ غیر منصفانہ احکامات کو محض اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اقتدار کی طرف سے جاری ہوئے ہیں، اور جب خوف کے باوجود عوامی طور پر اختلاف کا اظہار کرتا ہے، تو اقتدار کی بنیاد ہی سوالوں کی زد میں آ جاتی ہے۔
گاندھی کے ستیہ گرہ کی سیاسی اہمیت یہی تھی۔ ستیہ گرہ صرف دھرنے، بھوک ہڑتال یا پرامن مظاہرے کا نام نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک وسیع سیاسی تصور تھا: ناانصافی پر مبنی اقتدار کے ساتھ تعاون سے انکار۔ عدم تعاون، سول نافرمانی، غیر ملکی اشیا کا بائیکاٹ اور بعض حالات میں ٹیکس ادا کرنے سے انکار اسی وسیع تصور کے مختلف مظاہر تھے۔
گاندھی نے مزاحمت کو ہتھیار اٹھانے سے پہلے شہری کے ضمیر کا سوال بنایا۔ ان کے نزدیک اقتدار کی طاقت صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ اس کے پاس کتنی پولیس، کتنے قوانین یا کتنے ذرائع ابلاغ ہیں۔ اس کی طاقت کا ایک اہم حصہ اس میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے کہ معاشرہ کتنا خوف زدہ، کتنا منقسم اور کتنا آسانی سے سرکاری بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
خوف زدہ شہری سوال نہیں کرتا۔ منقسم معاشرہ ایک دوسرے پر نظر رکھتا ہے۔ مسلسل پروپیگنڈے سے گھرا معاشرہ رفتہ رفتہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ اقتدار کے باہر بھی کوئی سچ موجود ہو سکتا ہے۔ گاندھی کی مزاحمت اسی ذہنیت کے خلاف تھی۔ لیکن یہاں گاندھی کو سمجھنے میں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ عدم تشدد کوئی جادوئی سیاسی نسخہ نہیں ہے۔ یہ تصور کہ ہر جابرانہ اقتدار بالآخر پرامن تحریک کے سامنے جھک جائے گا، تاریخ کی پیچیدگی کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔
گاندھی جس برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے، وہ نوآبادیاتی اور پرتشدد اقتدار تھا۔ جلیانوالہ باغ اس کی ایک ہولناک مثال ہے۔ ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے، گولیاں چلیں اور سخت جبر کیا گیا۔ لیکن برطانوی نظام کی کچھ سیاسی اور اخلاقی حدود بھی تھیں۔ وہاں پارلیمان موجود تھی، پریس موجود تھا، سیاسی اختلاف کی ایک روایت موجود تھی اور برطانوی اقتدار کو اپنی جمہوری اور مہذب سیاسی روایت کا دعویٰ بھی کرنا پڑتا تھا۔ ہندوستانی آزادی کی تحریک کا اثر برطانیہ اور دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچتا تھا۔
اس کے برعکس ایک انتہائی جابرانہ یا فاشسٹ اقتدار اپنے مخالفین کو صرف سیاسی حریف نہیں سمجھتا بلکہ انہیں قوم، معاشرے یا تہذیب کا دشمن قرار دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اخلاقی اپیل کی تاثیر محدود ہو سکتی ہے۔ اقتدار ایک ستیہ گرہی کی قربانی کو کمزوری اور اس کی عدم تشدد کی پالیسی کو خوف سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے گاندھی کے راستے کو تاریخ سے کاٹ کر دیکھنا خطرناک ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ایسے دور میں گاندھی غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ شاید اس کے برعکس، ایسے وقت میں گاندھی کی سیاست کو پہلے سے زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
گاندھی کی عدم تشدد کی پہلی شرط صرف تشدد نہ کرنا نہیں تھی، بلکہ انسان کو محض ایک وسیلہ بنانے سے انکار بھی تھی۔ مزاحمت کرتے ہوئے بھی مخالف کو انسان سمجھنا، اس کی تباہی کو مقصد نہ بنانا اور خود کو بھی اقتدار کی پرتشدد زبان میں تبدیل ہونے سے روکنا، گاندھی کی سیاست کا مشکل ترین اخلاقی مطالبہ تھا۔
یہیں گاندھی آج کے سیاسی ماحول سے ٹکراتے ہیں۔ سیاسی اختلاف میں زبان تیزی سے سخت ہوئی ہے۔ مخالف کو اختلاف رکھنے والا شہری سمجھنے کے بجائے دشمن سمجھ لینا آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے۔ ہم یہ جاننے سے پہلے کہ دوسرا شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ طے کرنے لگتے ہیں کہ وہ کس گروہ یا سیاسی خانے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جس سے فاشسٹ سیاست طاقت حاصل کر سکتی ہے۔ اسے ایسے شہری درکار ہوتے ہیں جو پہلے اپنی گروہی شناخت کے ذریعے سوچیں اور بعد میں انسان کے طور پر۔ معاشرے میں ایسی لکیریں کھینچ دی جائیں جن کے دونوں طرف خوف اور نفرت بڑھتی رہے تو اجتماعی مزاحمت کمزور پڑ جاتی ہے۔
اسی لیے فاشسٹ رجحانات کا مقابلہ صرف حکومت یا اقتدار کے خلاف سیاسی جدوجہد نہیں، بلکہ معاشرے میں پیدا کیے جانے والے خوف اور نفرت کے خلاف جدوجہد بھی ہے۔ گاندھی کا راستہ یہاں ایک اور اہم سبق دیتا ہے: مزاحمت صرف اخلاقی فرد کی جرات سے نہیں بنتی، اسے تنظیم اور اجتماعی شرکت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آزادی کی تحریک صرف گاندھی کی شخصیت کا نتیجہ نہیں تھی۔ کسان، مزدور، طلبہ، خواتین، تاجر، پیشہ ور اور سماج کے مختلف طبقات کسی نہ کسی شکل میں اس جدوجہد کا حصہ بنے۔ گاندھی کی اخلاقی حیثیت سیاسی قوت میں اسی وقت تبدیل ہوئی جب عوامی شرکت اس کے ساتھ جڑی۔
آج بھی یہی نکتہ اہم ہے۔ ایک شہری اقتدار سے سوال اٹھا سکتا ہے، لیکن منظم شہری معاشرہ اقتدار کے سامنے زیادہ مؤثر سوال کھڑا کر سکتا ہے۔ آزاد صحافت، جامعات، مزدور تنظیمیں، کسان تنظیمیں، شہری حقوق کے گروہ، ادیب، فن کار، سائنس داں، وکلا اور سماجی کارکن جمہوریت کی زندہ قوتیں ہیں۔ ان کا آزاد رہنا کسی حکومت کے خلاف سازش نہیں بلکہ جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگر یہ ادارے خوف کے باعث خاموش ہو جائیں تو جمہوریت کا ظاہری ڈھانچہ باقی رہ سکتا ہے، لیکن اس کی روح کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اسی لیے گاندھی کو صرف راج گھاٹ پر تلاش کرنے کے بجائے ہمیں ان جگہوں پر بھی دیکھنا ہوگا جہاں کوئی شخص تنہا ہونے کے باوجود ناانصافی پر مبنی حکم ماننے سے انکار کرتا ہے؛ جہاں کوئی صحافی دباؤ کے باوجود سوال پوچھتا ہے؛ جہاں کوئی استاد اپنے طلبہ کو صرف نصاب نہیں بلکہ سوال کرنا سکھاتا ہے؛ جہاں کوئی مصنف سہولت کے بجائے مشکل سچ کا انتخاب کرتا ہے؛ اور جہاں کوئی شہری اپنے سے مختلف خیال رکھنے والے شخص کے حقِ اظہار اور آزادی کا دفاع کرتا ہے۔
گاندھی جینتی پر شاید ہمارے سامنے اصل سوال یہی ہونا چاہیے کہ ہم گاندھی کی مورتی کی پوجا کریں گے یا ان کے سوالوں کو اپنے عہد میں زندہ رکھیں گے؟ کیا ہم عدم تشدد کو صرف تشدد کی غیر موجودگی سمجھیں گے یا اسے ناانصافی کے خلاف فعال شہری مزاحمت کے طور پر بھی دیکھیں گے؟ کیا ہم سچ کو صرف ذاتی کردار کی خوبی سمجھیں گے یا عوامی زندگی میں اقتدار سے سوال کرنے کی جرات بھی؟
فاشسٹ دور کا سب سے بڑا چیلنج صرف یہ نہیں کہ اقتدار کتنا سخت ہو گیا ہے۔ اصل چیلنج یہ بھی ہے کہ شہری کتنی جلدی اس سختی کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے گاندھی کا راستہ آج کسی پرانے سیاسی نسخے کی طرح ہمارے سامنے نہیں ہے۔ وہ ایک اخلاقی اور سیاسی کسوٹی کی طرح ہمارے سامنے ہے۔
گاندھی جینتی پر گاندھی کو یاد کرنے کا شاید اس سے زیادہ بامعنی طریقہ کوئی نہیں کہ ہم اس چھوٹے سے ’نہیں‘ کی اہمیت کو سمجھیں—اس ’نہیں‘ کی جو ناانصافی، خوف اور نفرت کے سامنے انسان کے ضمیر سے نکلتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اقتدار کی آخری طاقت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں ہوتی؛ اس کا ایک حصہ اس یقین میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اور مزاحمت کی پہلی آواز شاید یہی ہوتی ہے، ’’میں تمہاری ناانصافی میں شریک نہیں ہوں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
