کباب غائب، ریوڑی نمایاں: لکھنؤ کی نئی شناخت؟...سبیکا عباس

کباب، نہاری اور اودھی ذائقوں کی پہچان لکھنؤ اب سرکاری فہرستوں میں ریوڑی اور چاٹ تک محدود دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صرف کھانوں کا نہیں بلکہ ثقافت، شناخت اور یادداشت کو نئے سانچے میں ڈھالنے کا سوال بھی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

سبیکا عباس

google_preferred_badge

جب بھی میں کہیں باہر ہوتی اور کسی کو بتاتی کہ میرا تعلق کس شہر سے ہے، تو سامنے والے کا ردِعمل تقریباً طے شدہ ہوتا۔ کوئی کباب، نہاری اور بریانی کی بات چھیڑ دیتا، یا پھر میرے ’ہم‘ بولنے کے انداز اور تلفظ پر مسکرا دیتا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے ’لکھنؤ‘ کا نام سنتے ہی ’ریوڑی‘ کا ذکر کیا ہو… کبھی نہیں۔

مغرب کے بعد پرانے لکھنؤ کے تنوروں اور گرلوں سے اٹھنے والی خوشبو ان تین وجوہات میں سے ایک رہی ہے، جو مجھے بار بار اس شہر کی طرف واپس کھینچ لاتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کے آس پاس بھی خاصی بھیڑ رہتی ہے، جہاں لوگ رحیم کی نہاری، مبین کے پسندے، ادریس کی بریانی یا ٹنڈے کباب کے لیے ایک دوسرے سے لگے، ٹکراتے ہوئے بھی اس پلیٹ کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جس کے کباب اتنے نرم ہوتے ہیں کہ منہ میں رکھتے ہی گھل جاتے ہیں اور صرف ذائقہ باقی رہ جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ کے دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے والد کے سامنے آپ کے کچھ نرم سیاسی نظریات تحلیل ہو جاتے ہیں۔

میں ہمیشہ فخر سے لوگوں کو بتاتی رہی ہوں کہ لکھنؤ میں کباب کی چالیس سے زیادہ قسمیں پائی جاتی ہیں، اور یہی وہ اودھی پکوان ہے جس نے واقعی ہمیں دنیا کے نقشے پر ایک الگ شناخت دی ہے۔ گلاوٹی کباب اتنے نرم کہ کہا جاتا ہے انہیں خاص طور پر ایک ایسے نواب کے لیے تیار کیا گیا تھا، جن کے دانت نہیں تھے۔ دھاگے کے کباب ایسے کہ گوشت کو نہایت نفاست کے ساتھ دھاگے میں باندھا جاتا ہے تاکہ پکنے سے پہلے وہ بکھر نہ جائے۔ شامی کباب اور ان کے بارے میں ہونے والی وہ نہ ختم ہونے والی بحث کہ انہیں کتنا خستہ ہونا چاہیے۔ نرگسی کباب، بوٹی کباب، پسندے، کوفتے، کاکوری کباب، مجلسی کباب… یہاں تک کہ لوکی کے کباب بھی۔

یہ تو صرف کبابوں کی بات ہے… ابھی میں نے سردیوں کی دھند بھری صبحوں کے بعد نہاری-کلچے والے ناشتے، پوری رات دھیمی آنچ پر پکنے والے پائے، خاص موقعوں پر بننے والے بھیجا فرائی، یخنی پلاؤ یا گھر میں تیار ہونے والے ادرکی گوشت، میتھی مچھلی کے سالن اور گوشت کے اچار کا ذکر ہی نہیں چھیڑا۔ یہ سب کہنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اتر پردیش حکومت کی ایک فہرست دیکھ کر ایسا لگا جیسے پورا یوپی محض سبزی والے ناشتے پر زندہ ہے۔ میں دعا کر رہی ہوں کہ کاش یہ فہرست میری لکھنوی دوستوں تولیکا، مادھوی یا شبنم آپا تک نہ پہنچے، کیونکہ اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ لکھنؤ کے مشہور کھانوں کی فہرست میں صرف ریوڑی، آم اور چاٹ کو جگہ دی گئی ہے، تو وہ فوراً احتجاج شروع کر دیں گی۔


لیکن ٹھہریے، مجھے ریوڑی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی تل، گڑ اور چینی سے بنی ٹکیوں سے مجھے بھلا کیا شکایت ہو سکتی ہے، جو سردیوں میں ہر گلی اور بازار میں خوب فروخت ہوتی ہیں؟ مجھے تو وہ پسند ہیں۔ میں آم سے بنی چیزوں کی بھی بہت شوقین ہوں۔ اور اگر ضرورت پڑی، تو لکھنؤ کے چوسا آموں کی عزت بچانے کے لیے خود میدان میں اتر جاؤں گی۔ اس لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس فہرست میں کبابوں کا نہ ہونا میں نے ذاتی طور پر محسوس کیا ہے۔ یا شاید کیا بھی ہو!

کیونکہ یوپی کی ’ایک ضلع ایک پکوان‘ فہرست سے کباب کا غائب ہونا عجیب بھی ہے اور خطرناک بھی۔ وزیروں کے مطابق ریاست کے تمام 75 اضلاع میں اس کے لیے ضلع مجسٹریٹوں کی سربراہی میں کمیٹیاں بنائی گئیں۔ اساتذہ، پروفیسروں اور مقامی ماہرین سے مشورے کیے گئے۔ سروے ہوئے۔ فائلیں چلیں۔ میٹنگیں ہوئیں۔ چائے کے دور چلے۔

اب آخر کوئی کیسے یقین کرے؟ کہ ماہرین کی ایک پوری کمیٹی یہ طے کرنے بیٹھی کہ تاریخی لکھنؤ کو اپنی ثقافتی وراثت پر فخر ہونا چاہیے، اور پھر اس ’انقلابی‘ نتیجے پر پہنچی کہ وہ شہر، جو پوری دنیا میں اودھی گوشتاہاری پکوانوں کے لیے جانا جاتا ہے، اب ایسا ظاہر کرے جیسے کباب نام کی کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یا پھر یہ کہ کبابوں کو پیک کرکے فروخت بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے کئی برادریوں کے لیے منافع بخش کاروبار پیدا ہو سکتا ہے۔

یعنی حکومت ہم سے یہ ماننے کو کہہ رہی ہے کہ صرف سبزی خور اشیا ہی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے مفاد میں ہو سکتی ہیں۔ کیا واقعی؟ پورے لکھنؤ ضلع میں؟ وہ لکھنؤ، جس نے ملائی مکھن جیسی نازک مٹھائی کو بھی پیک کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے، جو صرف تین منٹ دھوپ میں رکھنے سے تقریباً غائب ہو جاتی ہے۔ نہ جانے کیسے، وہ تو اس فہرست میں شامل ہے۔


میں ملائی مکھن کی بہت بڑی شوقین ہوں۔ لیکن کسی بھی نئی پالیسی میں دکھائی دینے والے ’بھگوا رنگ‘ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور ’بھگوا‘ سے میری مراد وہ زعفران نہیں، جو ہم محبت سے بریانی پر ڈالتے ہیں۔ میری مراد اس بھگوا رنگ سے ہے، جو ہماری قانونی اور پالیسی سازی کے عمل پر چھا چکا ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ کھانوں کی فہرست سے گوشتاہاری پکوانوں کو ’جان بوجھ کر‘ نہیں ہٹایا گیا۔ یہ دعویٰ اتنا ہی حقیقت سے دور ہے، جتنا ملائی مکھن کا ’بوٹی کباب‘ سے تعلق۔ تلخ سچائی یہ ہے کہ حکومت کا یہ ’ثقافتی اور غذائی تطہیر‘ کا منصوبہ دراصل ہم سب پر اونچی ذات کے سبزی خور نظریے کو مسلط کرنے کی ایک کوشش ہے۔

وہ کھانے کو شناخت، یادداشت، قوم پرستی اور اقتدار کی تشکیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ریاست یہ طے کرتی ہے کہ کس کا کھانا ’ورثہ‘ قرار پائے گا، کس کو سبسڈی اور برانڈنگ کی سرکاری مدد ملے گی، اور کس کے کھانے کو سرکاری یادداشتوں سے مٹا دیا جائے گا۔

یہ صرف کسی ’نوابی‘ دور کی عجیب و غریب یادوں کا معاملہ بھی نہیں۔ لکھنؤ کی غذائی ثقافت آج بھی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں زندہ ہے۔ ان تنگ گلیوں میں چھپی دکانوں میں، سردیوں کی صبحوں کے نہاری والے ناشتے میں، ٹھیلوں پر بھنتی کلیجی میں، کائستھ خاندانوں کے باورچی خانوں میں، جو ’کھڑے مصالحے کے گوشت‘ کے لیے مشہور ہیں، عید کی ان دعوتوں میں جہاں دوسری روٹی آنے سے پہلے ہی شامی کباب ختم ہو جاتے ہیں، اور اس ’پائے‘ میں جو سورج نکلنے سے پہلے مزدوری پر جانے والوں کے لیے پوری رات دھیمی آنچ پر پکتا رہتا ہے۔

اس ’ثقافتی‘ منصوبے میں جس چیز کو مٹایا جا رہا ہے، وہ ہے گوشت خور برادریوں کا کھانا اور اس کے گرد بنی معیشتیں۔ مسلم غذائی روایات باہر! دلت غذائی روایات باہر! اور ان کے باورچی خانے، سڑک کنارے کے ٹھیلے، قصائی، نسلوں سے پکوانوں کو محفوظ رکھنے والی عورتیں، اور وہ محنت کش ذاتیں جن کے کھانے ان کی جدوجہد اور بقا کی داستان سے جنم لیتے ہیں — ان میں سے کسی چیز سے بھی ہماری ’ایک ضلع ایک پکوان‘ فہرست کو ’آلودہ‘ نہیں ہونا چاہیے۔


اور انہیں اپنی ’یکسانیت‘ والی سوچ سے کتنی محبت ہے! ’ایک ضلع ایک پکوان‘، ’ایک ملک ایک انتخاب‘، ’ایک ملک ایک ٹیکس‘، ’ایک ملک ایک راشن کارڈ‘، ’ایک ملک ایک گرڈ‘… ایک زبان۔ ایک ثقافت۔ ایک سب سے بڑا رہنما۔ ایک (سیاسی) جماعت۔ ناگپور کی فکرگاہ میں پکے ہوئے ’ہندو راشٹر‘ کے تصور میں جو چیز فٹ نہیں بیٹھتی، اسے مٹا دو۔

یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پکوانوں کی یہ فہرست براہ راست سرکاری فوائد، سبسڈی، پیکیجنگ امداد، برانڈنگ اور تشہیر سے جڑی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے فائدہ کن غذائی کاروباروں کو ہوگا؟ کن کی محنت کو شناخت ملے گی؟ کن کے پکوان حکومت کی نظر میں سرمایہ کاری کے قابل سمجھے جائیں گے؟

یہ سوچنا ہی عجیب لگتا ہے کہ اتر پردیش ہندوستان میں بھینس کے گوشت کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل رہا ہے۔ یعنی ریاست پوری دنیا کو بھینس کا گوشت برآمد کرنے میں بالکل راحت محسوس کرتی ہے، اور مذبح خانوں اور گوشت کی پروسیسنگ کے ڈھانچے سے کروڑوں کماتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک مکمل پیک شدہ بھینس تو کسی بین الاقوامی مال بردار جہاز پر لادی جا سکتی ہے، لیکن کباب کو کسی سیاحتی بروشر میں جگہ نہیں ملنی چاہیے!

ہمیں بس اتنا بتایا گیا ہے کہ ’او ڈی او پی‘ کی فہرست ’لچکدار‘ ہے، اور بعد میں وزیر اعلیٰ کی منظوری سے اس میں مزید چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں۔ کیا وہ میرے کبابوں کو منظوری دیں گے؟ مجھے تو ایسی کوئی امید نہیں!

لیکن یہ معاملہ صرف میرے محبوب کبابوں کا نہیں ہے۔ میری ناراضی اس لیے ہے کہ یہ ایک بہت بڑی سیاسی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس میں کھانوں، زبانوں، ثقافتوں، ناموں، محبت کی کہانیوں اور پورے پورے تاریخی بیانیوں کو مٹانے اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ لکھنؤ ضلع میں صرف میں ہی ایسی نہیں ہوں، جو اس فہرست پر غصے میں ہو۔ تو دوسرے اضلاع کے دوستو، تم بھی آواز اٹھاؤ! آخر میں کیسے مان لوں کہ اعظم گڑھ کے لوگ اس بات سے خوش ہوں گے کہ ان کی نمائندگی ’تہاری‘ کر رہی ہے — اور یہ بات میں ایک ایسے شخص کے طور پر کہہ رہی ہوں، جس کے لیے تہاری ایک بے حد سکون دینے والا اور دل کے قریب کھانا ہے۔ رام پور، میرے دوست، کیا تم اس فہرست سے خوش ہو؟ اور مراد آباد؟ بریلی؟ میرٹھ؟ کیا تم خاموش بیٹھے رہو گے، جب تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے کھانوں کی پوری تاریخ کو مکمل طور پر سبزی خور بنایا جا رہا ہو؟

فی الحال تو اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ لکھنؤ میں کون سی چیز ضرور چکھنی چاہیے، تو شاید مجھے یہی کہنا پڑے گا:
“لیجیے، ریوڑی نوش فرمائیے۔”

لیکن اب اگر اجازت ہو، تو میں اپنے دل کو سکون دینے کے لیے کباب کی ایک پلیٹ لینا چاہوں گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔