ایودھیا سے توجہ ہٹانے کے لیے متھرا کی سیاست!...نندلال شرما
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل متھرا اور ورنداون ایک بار پھر سیاسی اور مذہبی مباحث کے مرکز بن رہے ہیں۔ کرشن جنم بھومی تحریک اور بانکے بہاری کوریڈور منصوبے نے مقامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے

اتر پردیش اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی متھرا اور ورنداون ایک مرتبہ پھر سیاسی اور مذہبی بحث کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ ایودھیا کے رام مندر میں تعمیراتی کام، چندے اور نذرانوں کی مبینہ چوری پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان اب بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں کی نظریں متھرا کی کرشن جنم بھومی پر مرکوز دکھائی دے رہی ہیں۔ مذہبی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کے پس منظر میں ریاست کے آئندہ انتخابات بھی ایک اہم عنصر ہیں۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جون اور جولائی کے دوران برج خطے کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ 28 جون کو ہاتھرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کا نام لیے بغیر کہا کہ جس طرح رام جنم بھومی تحریک چلی تھی، اسی طرز پر کرشن جنم بھومی کی ’آزادی‘ کے لیے بھی مہم چلنی چاہیے۔
نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی رہنما بھی اکھلیش یادو اور ان کی جماعت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اگر وہ خود کو یادو برادری کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو متھرا میں کرشن جنم بھومی کی تحریک کی حمایت کریں۔
اس بیان بازی کے پیچھے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک طرف ایودھیا کے رام مندر میں نذرانوں اور چندے کی چوری سے متعلق سوالات سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں سماجوادی پارٹی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے سخت مقابلے کا خدشہ ہے۔
اسی تناظر میں اکھاڑا پریشد اور بعض سنتوں نے 9 اگست 2026 کو متھرا میں ’کار سیوا‘ کا اعلان کیا ہے۔ اکھاڑا پریشد کے تحت ملک کے 13 بڑے اکھاڑے آتے ہیں اور اس سے لاکھوں سادھو سنت وابستہ ہیں۔ متعدد مذہبی رہنماؤں نے بھی سنت کانفرنسوں کے دوران اس اعلان کی حمایت کی ہے۔
تاہم زمینی سطح پر اس اعلان کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ 14 جولائی کو کرشن جنم بھومی مندر کے مرکزی دروازے کے باہر آئس کریم فروخت کرنے والے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ انہوں نے کار سیوا کے اعلان کے بارے میں سنا تو ہے، مگر اس سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ متھرا اور ورنداون کے درمیان روزگار کے سلسلے میں آنے جانے والے ایک نوجوان نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔
کانگریس کے مقامی رہنما آدتیہ تیواری کا کہنا ہے کہ جس طرح ایودھیا میں رام مندر تحریک کے دوران سیاسی ماحول بنایا گیا تھا، اسی طرز پر متھرا میں بھی حالات پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔
متھرا عیدگاہ کمیٹی کے سیکریٹری تنویر احمد کے مطابق، ماضی میں بھی ایسی تاریخوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متھرا مذہبی شہر ضرور ہے، لیکن یہاں کے لوگ باہمی بھائی چارے اور ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ مسجد کے درمیان 1968 میں ایک باقاعدہ سمجھوتہ طے پایا تھا، جسے بعد میں عدالت کی توثیق بھی حاصل ہوئی۔
یہ معاہدہ 1968 میں کرشن جنم استھان سیوا سنستھان اور شاہی عیدگاہ ٹرسٹ کے درمیان ہوا تھا، جسے 1973 میں عدالتی حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس معاہدے کو چیلنج کرتے ہوئے متعدد مقدمات دائر کیے گئے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پوری زمین بھگوان شری کرشن کی ملکیت ہے اور مسجد اسی مقام پر تعمیر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں متھرا، کاشی اور سنبھل سے متعلق مقدمات کو خصوصی لوک عدالتوں کے ذریعے باہمی رضامندی سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگرچہ متھرا کے مقدمے میں ابھی تک کسی حتمی مصالحتی عمل کا آغاز نہیں ہوا، تاہم مختلف فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
دوسری جانب متھرا سے تقریباً دس کلومیٹر دور ورنداون میں بانکے بہاری مندر کوریڈور منصوبہ ایک نئی کشمکش کو جنم دے رہا ہے۔ مقامی آبادی اور گوسوامی طبقہ کے لوگ اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے متعدد جائیدادیں خرید لی ہیں اور تقریباً 285 مکانات کو منصوبے کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے، جن میں کئی صدیوں پرانے مندر بھی شامل ہیں۔
مقامی سماجی کارکن دیپک پراشر کا کہنا ہے کہ ان مکانات میں موجود متعدد مندر چار سے پانچ سو برس پرانے ہیں اور ان کی مسماری سے ورنداون کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا الزام ہے کہ جائیدادوں کی خریداری کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور منصوبے کی تفصیلی رپورٹ اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اگست 2022 میں جنم اشٹمی کے موقع پر بانکے بہاری مندر میں بھگدڑ کے دوران دو افراد کی ہلاکت کے بعد عقیدتمندوں کی سہولت اور ہجوم پر قابو پانے کے لیے کوریڈور منصوبہ ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاستی حکومت نے 2025 میں بانکے بہاری مندر ٹرسٹ سے متعلق قانون نافذ کیا اور سپریم کورٹ نے بعض شرائط کے ساتھ مندر کے فنڈ سے زمین خریدنے کی اجازت بھی دی۔
گوسوامی طبقہ نے اس قانون کے ذریعے مندر کے روایتی انتظام و انصرام اور اپنے موروثی حقوق کے سلب کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس پر ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔ تاہم مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے بعض شرائط کے ساتھ ریاستی حکومت کو بانکے بہاری کوریڈور کے لیے تقریباً پانچ ایکڑ زمین حاصل کرنے کی غرض سے مندر کے فنڈ کے استعمال کی اجازت بھی دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ خریدی جانے والی زمین کی رجسٹری بھگوان شری بانکے بہاری جی (دیوتا) کے نام پر کی جائے گی۔
سماجی کارکن دیپک پراشر نے کوریڈور منصوبے کے لیے جائیدادوں کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایک ہی اصل جائیداد کے مختلف حصوں کی الگ الگ قیمت طے کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ابھی تک کوریڈور منصوبے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) عوام کے سامنے نہیں لائی گئی، لیکن اس کے باوجود جائیدادوں کی خریداری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انتظامیہ دباؤ ڈال کر لوگوں سے جائیدادیں خرید رہی ہے اور مندر کے نو مقرر گوسوامی ارکان کو زمین کی خریداری سے متعلق دستاویزات بھی فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔
بانکے بہاری مندر کے تیرتھ پروہت سوہن لال مشرا، جو کوریڈور منصوبے کے خلاف گوسوامی سماج کی تحریک کا ایک نمایاں چہرہ ہیں، کہتے ہیں کہ کوریڈور کی بات صرف بیرونی لوگ کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کاشی، ایودھیا اور اجین سمیت مختلف مذہبی مقامات پر انتظامی اداروں میں اقتدار کے ایوانوں سے وابستہ افراد کو ہی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ رام مندر میں مالی بے ضابطگیاں بھی ایسے ہی عناصر کے سبب سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ورنداون میں بھی یہی صورت حال ہے، جہاں ایک روپے کی چیز پچاس روپے میں خریدی جا رہی ہے۔ مقامی پروہتوں کو مندر میں داخل ہونے کے لیے تقریباً ڈھائی کلومیٹر کا چکر لگانا پڑتا ہے، جبکہ باہر سے آنے والے دولت مند افراد کو براہ راست نمبر ایک دروازے سے داخلے کی اجازت مل جاتی ہے۔
مقامی صحافی سریندر چترویدی کا کہنا ہے کہ گوسوامی طبقہاب تک اپنی جدوجہد میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ کوریڈور منصوبے کے لیے جائیدادوں کی خریداری میں انتظامیہ کو محدود کامیابی ملی ہے، تاہم یہ صورت حال کب تک برقرار رہے گی، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ بانکے بہاری مندر کے معاملے میں ریاستی حکومت کی گہری دلچسپی سے انکار ممکن نہیں۔
زمین کے حصول، جائیدادوں کی خرید و فروخت، تعمیراتی منصوبوں اور مذہبی مقامات کے انتظام و انصرام جیسے معاملات میں ریاستی اور انتظامی اداروں کی غیر معمولی دلچسپی کے اسباب ایسے ہیں، جنہیں زیادہ وضاحت کے بغیر بھی بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
