ایف سی آر اے ترمیم 2026: فلاحی و مذہبی تنظیموں کی خودمختاری کو خطرہ...ہرجندر
ایف سی آر اے 2026 ترمیم نے غیر ملکی فنڈنگ لینے والے اداروں کی املاک پر سرکاری اختیار کا خدشہ بڑھا دیا ہے، جس سے فلاحی، تعلیمی اور مذہبی تنظیموں کی خودمختاری اور بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے

کیرالہ کے ملانکارا چرچ کے حوالے سے سینٹ تھامس عیسائی برادری کے دو دھڑوں کے درمیان ملکیت اور اختیار کی کشمکش اب اس نہج تک پہنچ چکی ہے جہاں عدالتی مداخلت اور بینک کھاتوں کے منجمد ہونے جیسے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ یہ تنازعہ کوئی نیا نہیں بلکہ تقریباً ایک صدی پرانا ہے، تاہم اب ایک نئی تشویش نے جنم لیا ہے، جو غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 سے متعلق ہے اور یہ خدشات دونوں فریقوں میں یکساں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے ملانکارا چرچ سے وابستہ مختلف گروہوں کے متعدد بینک کھاتے جاری قانونی تنازعات کی وجہ سے منجمد ہیں۔ چرچ، مدارس، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں سمیت کئی فلاحی ادارے مالی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ایک بنیادی یقین موجود تھا کہ کمیونٹی کی کاوشوں اور وقتاً فوقتاً ملنے والی غیر ملکی امداد کے ذریعے جو اثاثے دہائیوں میں تعمیر کیے گئے ہیں، وہ ان کی ملکیت ہی رہیں گے اور ان پر صرف عدالتی فیصلوں کا اثر ہوگا۔
لیکن اب ایف سی آر اے 2026 کی صورت میں یہ یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ 25 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس بل میں غیر ملکی فنڈنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ تنازعہ اس شق پر ہے جو مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر کسی ادارے کا ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو جائے، ختم ہو جائے، رضاکارانہ طور پر چھوڑ دیا جائے یا اس کی تجدید نہ ہو سکے، تو حکومت اس کی املاک پر قبضہ کر سکتی ہے۔
یہ شق ان اداروں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے جو پہلے ہی قانونی تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ عدالتی کارروائی، انتظامی پیچیدگیاں یا محض تکنیکی تاخیر بھی ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں جہاں ادارے اپنی جائیدادوں اور وسائل سے محروم ہو جائیں۔ اس سے نہ صرف اداروں کی بقا بلکہ ان کی برسوں کی محنت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ہندوستان میں ہزاروں غیر سرکاری تنظیمیں، مذہبی ادارے، تعلیمی مراکز اور فلاحی ٹرسٹ غیر ملکی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ادارے مسلسل بیرونی امداد حاصل نہیں کرتے بلکہ مخصوص منصوبوں یا محدود مدت کے لیے ہی امداد لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب بیرونی فنڈنگ فعال طور پر نہیں آ رہی ہوتی، تو ادارے اکثر ایف سی آر اے کی تجدید کو ترجیح نہیں دیتے۔
نئی ترامیم کے تحت یہی صورتحال ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔ اگر کسی ادارے نے صرف اس لیے تجدید نہیں کرائی کہ اسے اب بیرونی فنڈنگ کی ضرورت نہیں، تو بھی اس کی املاک خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اس طرح ایک انتظامی یا تکنیکی کوتاہی، چاہے وہ دانستہ نہ بھی ہو، ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی جان دیال نے اس مجوزہ قانون کو ’سخت اور جابرانہ قدم‘ قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ ان دیگر متنازع قوانین سے کیا ہے جو اقلیتی برادریوں کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایف سی آر اے میں مجوزہ ترمیمات کا براہِ راست اثر عیسائی اداروں پر پڑ سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وقف سے متعلق قوانین مسلم تنظیموں کی املاک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تاہم یہ خدشات کسی ایک برادری تک محدود نہیں ہیں۔ صحت، تعلیم، قدرتی آفات میں امداد اور سماجی بہبود کے شعبوں میں سرگرم مختلف شہری تنظیموں کا ماننا ہے کہ یہ بل ان کی خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سی تنظیموں نے مقامی تعاون اور وقفے وقفے سے ملنے والی غیر ملکی امداد کے ذریعے اسکول، اسپتال اور کمیونٹی مراکز قائم کیے ہیں۔ بعد میں جب انہیں بیرونی فنڈنگ کی ضرورت نہ رہی تو انہوں نے ایف سی آر اے کی تجدید نہیں کرائی، مگر اب ان اثاثوں کے سرکاری قبضے میں جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری اس مسئلے کو آئینی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل ’سنگین آئینی خامیوں‘ سے متاثر ہے۔ وہ آئین کے آرٹیکل 300 اے کا حوالہ دیتے ہیں، جو جائیداد کے حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے، اور ان کے مطابق یہ ترمیم اس حق کو کمزور کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قانونی ضابطوں اور حد سے زیادہ حکومتی مداخلت کے درمیان موجود لکیر کو دھندلا دیتا ہے۔
ایک اور اہم تنقید قدرتی انصاف کے اصولوں سے متعلق ہے۔ ناقدین کے مطابق اس بل کے ذریعے حکام کو ’لامحدود اختیارات‘ دیے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ اداروں کے پاس من مانی یا امتیازی کارروائی کے خلاف مؤثر دفاع کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ موجودہ سماجی و سیاسی فضا میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان اختیارات کا استعمال ان تنظیموں کے خلاف ہو سکتا ہے جو حکومت پر تنقید کرتی ہیں یا اس کے نظریات سے اختلاف رکھتی ہیں۔
ان خدشات کو ادارہ جاتی سطح پر بھی تقویت ملی ہے۔ کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (سی بی سی آئی) نے ان دفعات کو ’غیر جمہوری‘ اور ’قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی‘ قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ قانون ریاست کو غیر معمولی اختیارات فراہم کرتا ہے، جس سے ملک بھر میں فلاحی اور مذہبی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
سیاسی ردِعمل نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔ 30 مارچ کو کیرالہ میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ یہ ترامیم اس انداز میں ترتیب دی گئی ہیں کہ غیر ملکی فنڈنگ کے بہاؤ کو تبدیل کر کے آزاد فلاحی تنظیموں کو کمزور اور حکومتی حمایت یافتہ اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ بل کمیونٹی اداروں کو “مرکزی حکومت کی مہربانی” پر چھوڑ دیتا ہے اور قانون کو ایک کنٹرول کے آلے میں بدل دیتا ہے۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے بھی ان ترامیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اقلیتی برادریوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے، جبکہ موجودہ قانونی نظام پہلے ہی غیر ملکی فنڈ کے غلط استعمال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔ ان کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی حکومتیں اختیارات کے حد سے زیادہ ارتکاز پر فکر مند ہیں۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2010 میں منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران اس قانون میں اہم ترامیم کی گئی تھیں، جن کا مقصد شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا تھا۔ اس کے تحت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والے اداروں کو ہر تین ماہ بعد اپنے مالی معاملات کی تفصیلات عوامی پورٹل پر فراہم کرنا لازم تھا۔
بعد ازاں 2022 میں موجودہ حکومت نے ان قواعد میں نرمی کی، جبکہ ناقدین کے مطابق 2026 کا یہ نیا بل شفافیت سے ہٹ کر زیادہ کنٹرول کی جانب اشارہ کرتا ہے اور قانون و خودمختاری کے درمیان توازن کو متاثر کرتا ہے۔
زمینی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں پر اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی فلاحی ٹرسٹ نے دس برس قبل جزوی غیر ملکی امداد سے ایک دیہی اسپتال قائم کیا اور بعد میں فنڈنگ بند ہونے پر ایف سی آر اے کی تجدید نہ کرائی، تو نئی شقوں کے تحت اس اسپتال کے سرکاری تحویل میں جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ملنکارا چرچ جیسی قانونی تنازعات میں الجھی ہوئی تنظیمیں دوہری غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں—ایک طرف عدالتی فیصلوں کا انتظار اور دوسری طرف ممکنہ سرکاری کارروائی۔
مذہبی حلقوں میں بھی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملانکارا آرتھوڈوکس سیریئن چرچ کے کیتھولیکوس بیسیلیوس مارتھوما میتھیوز سوم نے اس قانون کے بنیادی تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’چرچ کے اراکین کی جانب سے دیے گئے چندے کو بھی شک کی نظر سے دیکھنا ناانصافی ہے۔‘‘
اب جبکہ پارلیمنٹ میں اس بل پر ابھی تفصیلی بحث ہونا باقی ہے، ایک بنیادی سوال بدستور موجود ہے: کیا غیر ملکی فنڈنگ کی جائز نگرانی اور اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے درمیان کوئی متوازن راستہ نکالا جا سکتا ہے؟ ہندوستان بھر میں ہزاروں تنظیموں کے لیے یہ محض ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ان کے وجود اور مستقبل کا مسئلہ بن چکا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔