شعلوں کی لپیٹ میں یورپ

فرانس، اسپین اور یورپ میں شدید جنگلاتی آگ، گرمی اور تیز ہواؤں نے تباہی مچا دی۔ لاکھوں افراد بے گھر، وسیع رقبہ جل گیا، معمولاتِ زندگی متاثر، عالمی تعاون سے امدادی کارروائیاں جاری

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

فرانس، اسپین اور یورپ کے دیگر حصوں میں لگی شدید جنگلاتی آگ اور اس سے پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور کئی علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ شدید گرمی کی لہر اور تیز ہواؤں نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر زمین بھی جل کر راکھ ہو چکی ہے۔ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے متاثرہ ممالک نے اپنی فوج کو متحرک کر دیا ہے اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ آگ کے دھوئیں نے روزمرہ کی زندگی اور کھیلوں کو متاثر کیا ہے۔ حکام نے آنے والے دنوں میں صورتحال کے مزید ابتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

غیر معمولی ماحولیاتی بحران

فرانس اور اسپین کے افق اس وقت دھوئیں اور راکھ کی دبیز چادر تلے دبے ہوئے ہیں۔ میلوں دور تک پھیلی ہوئی آگ کی لپٹیں اور بلند ہوتے شعلے محض گرمی کے موسم کا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسا "بالکل غیر معمولی"ماحولیاتی بحران ہے جس نے روایتی بحرانی حکمت عملیوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق یہ صورتحال تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ انسانی جانوں کا ضیاع بھی شروع ہو چکا ہے۔ اسپین کے علاقے والینسیا میں ایک 70 سالہ شخص اپنی گاڑی میں مردہ پایا گیا۔ یہ صورتحال انتباہ ہے کہ قدرت کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے۔

نقل مکانی ایک انسانی المیہ

فرانس اور اسپین میں لگی اس آگ نے انسانی زندگیوں کو اس طرح درہم برہم کیا ہے جیسے کوئی جنگی محاذ ہو۔ اب تک 3 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ فرانس کے جنوب مغربی علاقوں، بالخصوص گروندے اور لنڈس میں صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ 2.5 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات، خصوصاً بورڈو کی طرف منتقل ہونے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ اسپین میں بھی میڈرڈ اور آویلا کے علاقوں سے تقریباً 60 ہزار لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ایک برطانوی سیاح اسپینسر رینڈل، جو شعلوں کے تعاقب سے بچنے کے لیے 100 میل دور منتقل ہوئے، اس ہولناکی کی منظر کشی یوں کرتے ہیں: "تیز ہوائیں شعلوں کو بھڑکا رہی ہیں، یہ منظر انتہائی خوفناک ہے۔ ہم یہاں سے 100 میل دور منتقل ہو چکے ہیں لیکن اب بھی آگ کے دھوئیں کی بو یہاں تک محسوس کی جا سکتی ہے۔"


آگ سے مقامی موسم متاثر

اس بحران کا سب سے زیادہ لرزہ خیز پہلو وہ سائنسی حقیقت ہے جس نے ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے۔ فائر فائٹر کیپٹن نکولس براز کے مطابق، آگ کی حدت اس قدر شدید ہے کہ اس نے اپنا "مقامی موسم" تخلیق کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ آگ گرم ہوا کے ایسے بگولے (ورل وینڈس) پیدا کر رہی ہے جو شعلوں کو غیر متوقع سمتوں میں پھیلا رہے ہیں۔ جب آگ اپنا موسم خود بنانے لگے تو یہ "غیر متوقع اور ناقابل انتظام" ہو جاتی ہے، جس کے سامنے جدید ترین مشینری بھی بے بس نظر آتی ہے۔

معمولاتِ زندگی پر اثرات

یہ آگ صرف جنگلات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی کھیلوں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ دنیا کی مشہور ترین سائیکل ریس 'ٹور ڈی فرانس'کا آخری مرحلہ، جو کہ 133 کلومیٹر طویل ہونا تھا، سیکورٹی فورسز کی آگ زدہ علاقوں میں تعیناتی کی وجہ سے مختصر کر کے صرف 89 کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔

شہروں میں زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ بورڈو میں مقیم کیلب بتاتے ہیں کہ راکھ کی وجہ سے سوئمنگ پول کالے ہو چکے ہیں اور باہر نکلنے پر پاؤں دھوئیں سے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے بقول، "دھواں اس قدر شدید ہے کہ یہ براہ راست آپ کے پھیپھڑوں پر وار کرتا ہے۔"

اسپین میں فائر فائٹرز میڈرڈ کے مغرب میں ’سان مارٹن ڈی ویلڈیگلی سیاس ‘ کے مقام پر دو بڑی آگوں کو آپس میں ملنے سے روکنے کے لیے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

تاریخی اور افسوسناک ریکارڈ

یورپی کمشنر برائے کرائسز مینجمنٹ، حدجہ لہبیب، نے اسے ایک "تاریخی اور افسوسناک ریکارڈ" قرار دیا ہے۔ عام طور پر آگ کا سیزن جون یا جولائی میں شروع ہوتا ہے، لیکن اس بار نیدرلینڈز نے اپریل میں ہی امداد کے لیے یورپی یونین سے رجوع کر لیا تھا۔ اسپین میں اس سال اب تک ایک لاکھ 30 ہزار ہیکٹر زمین جل چکی ہے، جو گزشتہ دہائی کے ایک لاکھ ہیکٹر کے سالانہ اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ فرانس میں بھی 2026 کے آغاز سے اب تک 98 ہزار ہیکٹر رقبہ راکھ بن چکا ہے۔ حدجہ لہبیب نے کہا کہ "گزشتہ سال موسم گرما کے دوران دس لاکھ ہیکٹر رقبہ جلا تھا، اور اس بار ہم ایک اور تاریخی اور افسوسناک ریکارڈ کا سامنا کرنے کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ سیزن وقت سے پہلے شروع ہو چکا ہے۔"


قدرتی جنگ کے خلاف یورپ متحد

اس قدرتی جنگ کے خلاف پورا یورپ متحد نظر آتا ہے۔ یہ محض امداد نہیں بلکہ ماحولیاتی دفاع کا ایک نیا ماڈل ہے جہاں سرحدوں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ یورپی یونین کے 'سِول پروٹیکشن میکانزم' کے تحت فراہم کی جانے والی امداد کی تفصیل درج ذیل ہے:

• جرمنی: چانسلر فریڈرک مرز نے ہیلی کاپٹر، ایک فوجی طیارہ اور ماہر ریسکیو اہلکار بھیجے ہیں۔

• رومانیہ: جنگلاتی آگ بجھانے والے 40 ماہر اہلکاروں کی ٹیم۔

• یونان اور اٹلی: فائر فائٹنگ ٹیمیں اور خصوصی طیارے۔

• کروشیا: پانی گرانے کے لیے استعمال ہونے والے تین ’کناڈیر‘ طیارے۔

• پرتگال: دو ایئر ٹریکٹرز (واٹر بامبرز)۔

• چیک جمہوریہ اور سلوواکیہ: بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز۔

یورپی یونین کے مجموعی فلِیٹ سے 11 طیارے اور ہیلی کاپٹر اس وقت فرانس اور اسپین کے آسمانوں پر آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ یہ بحران صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ اٹلی کے جزیرے سسلی میں 350 مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے اور اسکاٹ لینڈ کے نیشنل پارک میں بھی ایک بڑی آگ گزشتہ 10 دن سے جاری ہے۔

فرانس میں اس وقت بیک وقت 30 مقامات پر لگی یہ آگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں قدرت کے پیمانے بدل چکے ہیں۔ صدر ایمانویل میکرون کا عزم کہ ’ہم دوبارہ تعمیر کریں گے" اپنی جگہ درست، لیکن سچ تو یہ ہے کہ راکھ بن جانے والے صدیوں پرانے جنگلات اور متاثرہ انسانی زندگیاں جلد واپس نہیں آ سکتیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے آگ کے سیزن کو طویل اور شدید بنا دیا ہے۔ان حالات میں جب آگ اپنے قوانین خود بنانا شروع کر دے اور روایتی دفاعی نظام ناکام ہو جائیں، تو عالمی برادری کو اس طرح کے مزید غیر معمولی اور ہولناک مستقبل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔