توانائی کی خودمختاری: خواب سے انحصار تک، ہندوستان کی پالیسیوں کا بدلتا رخ...گردیپ سنگھ سپل

ہندوستان نے کبھی توانائی میں خود انحصاری کی بنیاد رکھی تھی، مگر حالیہ پالیسیوں، بڑھتے ٹیکس اور کمزور ہوتی پیداوار نے ملک کو شدید درآمدی انحصار کی طرف دھکیل دیا ہے، جو مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

گردیپ سنگھ سپل

سن 1955 میں، کیشو دیو مالویہ نام کے ایک نوجوان وزیر جواہر لال نہرو کے دفتر میں ایک جرات مندانہ تجویز لے کر پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو اپنے خام تیل کی تلاش، کھدائی اور پیداوار خود کرنی چاہیے۔ یہ ایک ایسا خیال تھا جو نہ صرف اقتصادی بلکہ سیاسی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا تھا۔

مگر اس تجویز کے سامنے فوراً عالمی طاقتیں اور بڑی تیل کمپنیاں کھڑی ہو گئیں۔ اس وقت ہندوستان کی پوری پٹرولیم چین انہی بین الاقوامی کمپنیوں کے کنٹرول میں تھی۔ وہ پہلے ہی ہندوستان پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ سوویت یونین سے سستا تیل نہ خریدے، حالانکہ وہ روپے میں ادائیگی کے بدلے دستیاب تھا۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ ہندوستان کے پاس نہ تو مطلوبہ تکنیکی مہارت ہے اور نہ ہی اتنی سرمایہ کاری ممکن ہے کہ وہ خود تیل کی تلاش کر سکے۔

اس شدید مخالفت کے باوجود نہرو اور مالویہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ ایک نوآزاد اور وسائل سے محروم ملک کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر ان کی دور اندیشی نے تاریخ بدل دی۔ 1956 میں تیل اور قدرتی گیس کمیشن یعنی آئل اینڈ نیچرل گیس کمیشن (او این جی سی) کا قیام عمل میں آیا۔

صرف تین برس کے اندر ہندوستان نے 100 سے زائد ماہرینِ ارضیات اور جیو فزکس کے ماہرین تیار کیے۔ 1959 میں کیمبے میں تیل کی دریافت ہوئی، اور پھر 1974 میں بامبے ہائی میں پہلا آف شور پلیٹ فارم قائم کیا گیا۔ 1980 کی دہائی تک یہی پیداوار ملک کی دو تہائی تیل کی ضروریات پوری کرنے لگی۔ او این جی سی نہ صرف ملک کی سب سے منافع بخش کمپنی بنی بلکہ توانائی کی خودمختاری کی علامت بھی بن گئی۔


مگر سات دہائیوں بعد یہ خواب بکھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج ہندوستان اپنی تیل کی کھپت کا محض 13 فیصد ہی خود پیدا کرتا ہے۔ 2014 میں او این جی سی کے پاس تقریباً 13 ہزار کروڑ روپے کا نقد ذخیرہ تھا، لیکن 2024 تک یہ کمپنی 78 ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوب گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کمپنی کو حکومتی مالی خسارہ پورا کرنے اور گجرات اسٹیٹ پٹرولیم کارپوریشن کی ناکامی کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

او این جی سی کو مجبوراً جی ایس پی سی کا حصول کرنا پڑا، جس پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ اس منصوبے سے کوئی تجارتی پیداوار حاصل نہیں ہو رہی تھی۔ مزید یہ کہ کمپنی کو اس کا بھاری قرض بھی اپنے ذمہ لینا پڑا۔ 2018 میں اسے ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ میں 51 فیصد حصہ خریدنے کے لیے بھی مجبور کیا گیا۔

اس سودے میں حکومت ایک ساتھ فروخت کنندہ بھی تھی اور فائدہ اٹھانے والی بھی، کیونکہ اس نے او این جی سی کو اپنے مالی اہداف پورے کرنے کا ذریعہ بنایا۔ نتیجتاً کمپنی قرض کے بوجھ تلے دب گئی اور اس کی سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ اس کا براہ راست اثر تیل کی پیداوار پر پڑا، جو 2014 میں 26 فیصد تھی اور اب گھٹ کر 13 فیصد رہ گئی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ شرح مزید کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ جائے گی۔

تیل بانڈ کا بہانہ

حکومت نے گھریلو پیداوار کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ تیل بانڈ کے مسئلے کو بھی جواز کے طور پر پیش کیا۔ حالانکہ نریندر مودی کے دور میں عالمی تیل کی قیمتیں 30 سے 65 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں، جو پہلے کے مقابلے میں کافی کم تھیں۔

اس کے باوجود عوام کو سستا ایندھن نہیں ملا۔ حکومت نے کہا کہ قیمتیں زیادہ رکھنے کی وجہ تیل بانڈ کی ادائیگی ہے۔ لیکن اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔


سن 2014 سے اب تک تقریباً 3.2 لاکھ کروڑ روپے تیل بانڈ کے طور پر ادا کیے گئے، جبکہ اسی مدت میں پٹرولیم ٹیکس کی مد میں تقریباً 44 لاکھ کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ یعنی تیل بانڈ کی ادائیگی کل آمدنی کا صرف 7 فیصد حصہ تھی، جبکہ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کئی گنا بڑھا دیا گیا۔

مئی 2014 میں جب مودی حکومت آئی، اس وقت خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل تھی۔ چند ہی مہینوں میں یہ قیمت گر کر 28 ڈالر تک پہنچ گئی، جو 74 فیصد کمی تھی۔

یہ ہندوستان جیسے درآمدی ملک کے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ عوام کو راحت دی جائے۔ مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں بھاری اضافہ کر دیا۔ پٹرول پر 350 فیصد اور ڈیزل پر 380 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔

کووڈ-19 کے دوران جب تیل کی قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہو گئی، تب بھی قیمتوں میں کمی کے بجائے ٹیکس بڑھایا گیا۔ ایک ہی دن میں پٹرول پر 10 روپے اور ڈیزل پر 13 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ نتیجتاً حکومت کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا، مگر عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا دور

منموہن سنگھ کے دور حکومت میں عالمی تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر تھیں۔ 2011-12 میں یہ 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ اس کے باوجود حکومت نے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا۔ ایک ایسا نظام اپنایا گیا جس میں سبسڈی، کمپنیوں کی شراکت اور تیل بانڈ شامل تھے۔ اس دور میں حکومت نے جو ٹیکس وصول کیا، اس کا بڑا حصہ سبسڈی کی صورت میں عوام کو واپس کیا۔ اس کے برعکس، موجودہ دور میں ٹیکس وصولی تو کئی گنا بڑھی، مگر سبسڈی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔

اس کے بعد کی گراوٹ

ہندوستان میں گھریلو خام تیل کی پیداوار 2011-12 میں 38 ملین ٹن کی بلند ترین سطح پر تھی، مگر 2023-24 تک یہ گھٹ کر 29.4 ملین ٹن رہ گئی، یعنی تقریباً 23 فیصد کمی۔ توانائی میں خود انحصاری، جو 2004 میں کھپت کا 27 فیصد تھی، اب کم ہو کر صرف 13 فیصد رہ گئی ہے۔


انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے اندازے کے مطابق، اگر بڑے پیمانے پر نئی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو ہندوستان 2030 تک یومیہ صرف 5 لاکھ 40 ہزار بیرل تیل ہی پیدا کر سکے گا، جو متوقع کھپت کے 8 فیصد سے بھی کم ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ملک کو روزانہ 60 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل درآمد کرنا پڑے گا، اور یوں یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔ اس کا سالانہ تیل بل 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔

یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ چاہے مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہو، آبنائے کی ناکہ بندی سے یا اوپیک کے پیداواری فیصلوں سے، ایک ایسا ملک جو اپنی ضرورت کا 92 فیصد تیل درآمد کرتا ہو، اس کے پاس نہ تو توانائی کی سلامتی ہے، نہ توانائی کی سفارت کاری میں کوئی مؤثر کردار، اور نہ ہی رسد میں اچانک آنے والے جھٹکوں سے نمٹنے کا کوئی مضبوط نظام۔

سن 1950 کی دہائی میں ہندوستان ایک نوزائیدہ جمہوریت تھا، جس کے پاس نہ وسائل تھے، نہ تربیت یافتہ افرادی قوت اور نہ ہی توانائی کے نظم و نسق کا کوئی تجربہ۔ اس کے باوجود، ایک دہائی کے اندر جواہر لال نہرو نے نہ صرف مقامی ترقی کے لیے تکنیکی افرادی قوت تیار کی بلکہ بیرونی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کے لیے خود اپنا راستہ طے کرنے کا عزم بھی دکھایا۔ وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ توانائی کی خودمختاری ہی ہر قسم کی آزادی کی بنیاد ہے۔

مغربی تیل کارٹیل کی خواہشات کے برخلاف، برسوں کی محنت کے بعد آئل اینڈ نیچرل گیس کمیشن (او این جی سی) وجود میں آئی، اور اسے آنے والی حکومتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک خودمختاری کے آلے کے طور پر چھوڑا گیا۔ مگر اس ادارے کے ساتھ جو کچھ ہوا اور سستے عالمی تیل کے متعدد مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کے باعث صارفین کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی، وہ دراصل مالی ذمہ داری کے نام پر کیے گئے ایک ادارہ جاتی اعتماد شکنی کی کہانی ہے۔


اور جیسے جیسے ہندوستان 2030 کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں تیل کی درآمدات کا بوجھ اس کے جاری کھاتے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے، عوامی سرمایہ کاری کو محدود کر سکتا ہے اور معیشت کو مغربی ایشیا کی سیاست کا محتاج بنا سکتا ہے—اب سوال یہ نہیں رہا کہ یہ غلطی تھی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی اسے درست کرنے کے لیے وقت اور ارادہ باقی ہے؟

(گردیپ سنگھ سپل، کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن ہیں)