تعلیم: کیا اب غریب کے لیے ترقی کا راستہ بند ہو رہا ہے؟...گردیپ سنگھ سپل

تعلیم جو کبھی ترقی کا ذریعہ تھی، اب مہنگی اور غیر یقینی ہو چکی ہے۔ نجکاری، بڑھتی فیس، کوچنگ انڈسٹری اور بے روزگاری نے غریب طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم کو ایک خطرناک سرمایہ کاری بنا دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

گردیپ سنگھ سپل

google_preferred_badge

نہرو کے ہندوستان میں ایک وقت ایسا تھا جب غریب لوگوں کو ایک سادہ مگر انقلابی خیال پر یقین تھا، ’پڑھ جائیں گے تو بڑھ جائیں گے‘۔ بہتر زندگی کے لیے تعلیم پر یہ فطری اعتماد اپنے اندر گہرے انقلابی اثرات رکھتا تھا۔ تعلیم کو برابری پیدا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا—غربت، پیدائشی سماجی و معاشی کمزوریوں سے نکلنے اور ذات پات کے نظام کی زنجیروں سے آزادی حاصل کرنے کا راستہ۔

ہمارے آئین نے تعلیم کے حق کو یقینی بنایا۔ سرکاری یونیورسٹیاں، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور سرکاری میڈیکل کالج سماجی نقل و حرکت کے مضبوط ستون بنے۔ لیکن اب محروم اور کمزور طبقات کا تعلیم پر یہ اعتماد متزلزل ہونے لگا ہے، اور یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ پالیسی کی سطح پر ہونے والی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔

دو دہائی پہلے نجکاری کے طور پر جو عمل آہستہ آہستہ شروع ہوا تھا، اسے بی جے پی کے بارہ سالہ دورِ حکومت میں منظم انداز میں تیز کر دیا گیا۔ اب یہ ایک ایسی حکمت عملی کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد ہی تعلیم کو غریبوں کی پہنچ سے دور کرنا ہے۔ اجرتوں میں جمود کے ساتھ ساتھ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے غربت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں نجی سرمایہ کاری کا آغاز 1990 کی دہائی کے آخر میں ہوا اور 2000 کے بعد اس میں تیزی آئی۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی گرتی ہوئی کارکردگی تھی۔ یہ امید کی گئی تھی کہ نجی سرمایہ آنے سے معیار اور رسائی دونوں بہتر ہوں گے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں یہ امیدیں پوری نہیں ہو سکیں۔


اگر داخلوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان کی اعلیٰ تعلیمی نظام دنیا کا تیسرا سب سے بڑا نظام ہے۔ یہاں 60,000 سے زیادہ کالج اور 1,200 یونیورسٹیاں ہیں، جن میں 4.3 کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بڑی صلاحیت کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ "علمی طاقت" بننے کا خواب دیکھنے والا ملک ایسے گریجویٹ تیار کر رہا ہے جنہیں روزگار نہیں ملتا اور ایسے موجد پیدا کر رہا ہے جن کی ایجادات کو عملی شکل دینے کے لیے پیٹنٹ نہیں مل پاتے۔ یہ نظام طلبہ کی تخلیقی سوچ کو کمزور کر رہا ہے اور کامیابی کا معیار صرف کثیر الانتخابی امتحانات پاس کرنا رہ گیا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کی معیشت

تعلیم کی نجکاری نے عوامی مفاد کو نجی شے میں تبدیل کر دیا ہے۔ نجی ادارے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ سرکاری ادارے وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ ممتاز اداروں کی فیس آسمان کو چھو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، آئی آئی ایم احمد آباد کی فیس 2007 میں 4 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2021 میں 27 لاکھ روپے ہو گئی، جبکہ آئی آئی ٹی بمبئی کی فیس 2008 میں 1.08 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 8 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ نجی اداروں میں ایک عام بی اے کی ڈگری حاصل کرنے پر 3 سے 6 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ بی ٹیک کے لیے 8 سے 20 لاکھ روپے اور مینجمنٹ ڈگری کے لیے 5 سے 30 لاکھ روپے تک خرچ آ سکتا ہے۔

مسئلہ صرف فیس تک محدود نہیں ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کا نظام ایک بڑے کوچنگ انڈسٹری کے قبضے میں جا چکا ہے۔ انجینئرنگ اور میڈیکل کے داخلہ امتحانات—جے ای ای اور نیٹ—اس قدر مشکل اور نصاب سے مختلف ہو چکے ہیں کہ کوچنگ کے بغیر کامیابی تقریباً ناممکن ہے۔

کوچنگ اداروں سے حاصل ہونے والا جی ایس ٹی 2019-20 میں 2,200 کروڑ روپے تھا، جو 2023-24 میں بڑھ کر 5,500 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا۔ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جو تعلیمی نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

یہ صنعت طلبہ اور والدین کی مجبوریوں کا استحصال کرتی ہے، اور اسکول کی تعلیم اور داخلہ امتحانات کے درمیان فرق کو منافع کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ اب تعلیم کی اصل لاگت میں کوچنگ اور فیس دونوں شامل ہو چکے ہیں، جو غریب طبقے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔


تعلیم: کیا اب نقصان کا سودا؟

ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں دس سال کے اندر اجرتوں میں تین سے پانچ گنا اضافہ ہوا۔ اس دوران تعلیم میں سرمایہ کاری ایک سمجھدار فیصلہ محسوس ہوتی تھی، کیونکہ اس کا فائدہ واضح تھا۔ لیکن نریندر مودی کے دور میں نئے گریجویٹس کی ابتدائی تنخواہیں 3 سے 4 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان ہی محدود رہیں، جبکہ تعلیم کی لاگت تین سے سات گنا بڑھ گئی۔ اس کے باوجود روزگار کی کوئی ضمانت نہیں۔

2021-22 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اعلیٰ تعلیم میں 4.33 کروڑ طلبہ ہیں، جبکہ 2023 میں صرف 81.2 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔ ان میں بھی بڑی تعداد آئی ٹی اور بینکنگ شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔

2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی ٹیک گریجویٹس کے لیے روزگار کی شرح 60 فیصد اور آرٹس گریجویٹس کے لیے 45 فیصد ہے۔ 20 سے 24 سال کے تقریباً 45 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں، جبکہ 2024 میں 40 فیصد آئی آئی ٹی گریجویٹس کو بھی ملازمت نہیں ملی۔

دوسری طرف، کمپنیوں کے منافع میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا فائدہ محنت کش طبقے تک نہیں پہنچ رہا۔ مزدوری کو ترقی سے الگ کر دیا گیا ہے، اور یہ ایک سوچا سمجھا عمل ہے۔

منظوری کا بحران

مالدار طبقہ کسی بھی ڈگری کے لیے بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہوتا ہے، بشرطیکہ ادارے کا نام اور شہرت متاثر کن ہو۔ اسی سوچ نے نجی یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ بازار میں کشش پیدا کرنے کے لیے دلکش کورسز متعارف کرائے جا رہے ہیں اور جعلی پلیسمنٹ کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ اور ان کے خاندان اکثر اصل اور دھوکہ دہی میں فرق نہیں کر پاتے۔

ریٹنگ اور منظوری کے نظام بھی قابلِ اعتماد نہیں رہے۔ فروری 2025 میں ایک بڑے اسکینڈل میں این اے اے سی کے افسران کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ اس کے باوجود جعلی گریڈز کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ مارچ 2025 میں مدراس ہائی کورٹ نے این آئی آر ایف رینکنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے روک دیا، کیونکہ یہ غیر مصدقہ ڈیٹا پر مبنی تھی۔


جب غریب طبقہ یہ مان لے گا کہ تعلیم اب فائدہ مند سرمایہ کاری نہیں رہی، اور مہنگی ڈگری بھی بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں دیتی، تو وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چھوڑ دے گا۔ ایسی صورت میں بچے اپنے خاندانی اور ذات پر مبنی پیشوں کی طرف واپس جانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ نہ صرف سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا بلکہ آئینی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ تعلیم اگر سب کے لیے یکساں مواقع فراہم نہ کرے تو وہ ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ عدم مساوات کا ہتھیار بن جاتی ہے۔