ہم ادا کریں گے ان کی جنگ کی قیمت...ہرجندر

دور دراز جنگ نے ہندوستان کی معیشت، زراعت اور روزگار پر گہرے اثرات ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ آم سے لے کر کھاد اور توانائی تک، ہر شعبہ دباؤ میں ہے، جس سے عام آدمی بھی متاثر ہو رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ہرجندر

مارچ ختم ہونے سے پہلے ہی کونکن کے باغات میں پکنے والے الفانسو آموں کی خوشبو پھیلنے لگتی ہے۔ مہاراشٹر، گجرات اور ساحلی کرناٹک کے کچھ علاقوں میں آم کے موسم کی آمد کو خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ برآمد کنندگان خلیجی ممالک کے لیے پیکنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں، کسان اچھی قیمت کی امید کرتے ہیں اور آڑھتیوں کو تو بات کرنے تک کی فرصت نہیں ملتی۔

لیکن اس سال منظر بالکل مختلف ہے۔ اداسی چھائی ہوئی ہے۔ جنگ نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک ہندوستانی آموں کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ 2024 میں ہندوستان نے ان ممالک کو تقریباً 12 ہزار میٹرک ٹن آم برآمد کیے تھے، مگر اس سال آرڈرز تقریباً غائب ہیں۔ سورت کے ایک برآمد کنندہ کے مطابق، ’’اب تک آم کا ایک بھی آرڈر نہیں ملا، اور کم از کم اگلے ایک ماہ تک کسی امید کی کرن نظر نہیں آتی۔‘‘

جو کسان برآمد کے لیے آم نہیں اگاتے، وہ بھی پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی برآمدی مانگ کم ہوتی ہے، گھریلو بازار میں پھلوں کی بھرمار ہو جاتی ہے اور قیمتیں گر جاتی ہیں۔

آم کا سیزن ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوا، لیکن تربوز کے کاشتکار پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے خلیجی ممالک کو تقریباً 2.2 لاکھ کلوگرام تربوز برآمد کیا تھا۔ رمضان کے دوران اس کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے، مگر اس سال کوئی کھیپ نہیں بھیجی گئی۔

کسانوں کے لیے یہ صورتحال ایک اچانک جھٹکے کی طرح ہے۔ ایک کسان رہنما نے بتایا کہ ہم ابھی ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے اثرات کو سمجھ ہی رہے تھے کہ جنگ نے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔


خلیجی ممالک صرف پھلوں کے خریدار نہیں ہیں بلکہ باسمتی چاول، چائے، مصالحے اور پروسیسڈ خوراک کے بھی بڑے خریدار ہیں۔ اگر یہ رکاوٹ طویل ہوئی تو لاکھوں کسانوں اور مزدوروں پر اثر پڑے گا۔

یہ مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں۔ خلیج ہندوستان کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کے لیے بھی ایک اہم منڈی ہے، جہاں سورت اور ممبئی جیسے شہروں میں لاکھوں افراد کام کرتے ہیں۔ جنگ جاری رہی تو مانگ میں بڑی کمی آسکتی ہے۔ دوا ساز کمپنیاں بھی فکر مند ہیں—اندازہ ہے کہ برآمدات میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

روزگار پر بھی اس کے اثرات واضح ہوں گے۔ برآمدی شعبے میں بڑی تعداد میں ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدور شامل ہوتے ہیں۔ جب برآمدات گھٹتی ہیں تو کمپنیاں اخراجات کم کرتی ہیں، جس میں ملازمتوں میں کمی یا کام کے اوقات گھٹانا شامل ہوتا ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر دیہی اور غیر منظم شعبے کے کمزور طبقات پر پڑے گا۔

جنگ ہندوستانی زراعت کے لیے ایک اور بڑا خطرہ بھی پیدا کر رہی ہے—کھاد کا بحران۔ ہندوستان اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، خاص طور پر ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ)۔ حالیہ ہفتوں میں اس کی قیمت 665 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 730 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔


خریف کی بوائی سے پہلے کھاد کا ذخیرہ ضروری ہوتا ہے، مگر اس بار یہ آسان نہیں۔ حکومت سبسڈی کے ذریعے قیمت کو 1350 روپے فی بوری پر برقرار رکھتی ہے، لیکن اصل مسئلہ دستیابی کا ہے۔ اگر کھاد کم ہوئی تو کسان یوریا پر زیادہ انحصار کریں گے، جس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوگی اور پیداوار کم ہو سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہندوستان اپنی 85 فیصد تیل کی ضرورت درآمد کرتا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا دیتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہر 10 ڈالر اضافہ خسارے کو 9 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کے پاس کافی ذخائر ہیں، لیکن غیر یقینی برقرار ہے۔ امریکہ کی عارضی چھوٹ کے تحت روس سے تیل کی خریداری جاری ہے، مگر یہ انتظام مستقل نہیں۔ اگر جنگ طویل ہوئی تو توانائی مہنگی ہوگی، جس کا اثر ٹرانسپورٹ، صنعت اور گھریلو اخراجات پر پڑے گا۔

فوری بحران قدرتی گیس کا ہے۔ ہندوستان ایل پی جی اور ایل این جی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جن کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ یہاں کسی بھی رکاوٹ کا اثر براہ راست گھریلو گیس، سی این جی اور صنعتی سپلائی پر پڑے گا۔ اس کے اثرات اب غیر متوقع جگہوں پر بھی دکھنے لگے ہیں۔ کئی شہروں میں ریستوراں اور کیٹرنگ کاروبار ایل پی جی کی کمی کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے کلاؤڈ کچن اور ڈیلیوری کارکن بھی متاثر ہو رہے ہیں۔


اگر جنگ طویل ہوئی تو ہندوستانی معیشت پر گہرے اثرات پڑیں گے۔ برآمدی شعبے متاثر ہوں گے، مہنگائی بڑھے گی، شرح سود بلند رہے گی، سرمایہ کاری سست ہوگی، اور دیہی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مزید برآں، خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کی ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو ملک کے لیے اہم زرِ مبادلہ کا ذریعہ ہیں۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق، اگر بحران جاری رہا تو صرف گیس اور کھاد کے اثرات سے ہندوستان کی جی ڈی پی میں 1.7 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ جنگیں چاہے ہزاروں کلومیٹر دور کیوں نہ ہوں، ان کے اثرات ہر گھر تک پہنچتے ہیں۔ کونکن کے آم کے باغات سے لے کر دہلی کے ریستوراں تک، ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ الفانسو آم کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی جنگ کی کڑواہٹ، زندگی کی مٹھاس کو بھی ماند کر دیتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔