جمہوریت میں نظم و ضبط ضروری، لیکن احتجاج کی نمایاں موجودگی بھی اتنی ہی اہم

لکھنؤ، پٹنہ اور دہلی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مقامات کو اقتدار کے مراکز سے دور منتقل کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹریفک اور سلامتی کے نام پر اختلافِ رائے کی آواز کو کمزور کیا جا رہا ہے؟

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز / وپن</p></div>
i
user

ناگیندر

جمہوریت میں دھرنا اور احتجاج محض سڑک پر جمع ہونے والے ہجوم کا نام نہیں ہے۔ یہ اقتدار کے سامنے شہریوں کی موجودگی اور ان کے اختلافِ رائے کی عوامی آواز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شہر کے درمیان یا اقتدار کے مرکز کے قریب واقع کسی قدیم احتجاجی مقام کو ختم کرکے مظاہرین کو شہر کے کنارے، دور دراز یا نسبتاً سنسان علاقے میں بھیج دیا جاتا ہے تو معاملہ صرف ٹریفک، سلامتی اور نظم و ضبط تک محدود نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں تحریک کی آواز کو اقتدار کے کانوں اور آنکھوں سے دور تو نہیں کیا جا رہا؟ آخر اقتدار کو مزاحمت کی آواز بھاتی ہی کب ہے!

لکھنؤ میں جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) کے قریب گاندھی مجسمے اور دارالشفقہ سے لکشمن میلہ میدان اور پھر ایکو گارڈن تک کا سفر ہو، پٹنہ میں بیلی روڈ اور آر بلاک سے گردنی باغ کی جانب منتقلی ہو یا دہلی میں بوٹ کلب سے جنتر منتر اور اب وہاں سے بھی آگے لے جانے کی کوشش، ان واقعات کو ایک ساتھ دیکھنے سے ایک خاص رجحان سامنے آتا ہے۔ ہر مرتبہ وجوہات تقریباً یکساں ہوتی ہیں: ٹریفک، سلامتی، عام لوگوں کو ہونے والی پریشانی یا شہری انتظامات۔ لیکن کیا جمہوریت میں لوگوں کو پریشانی سے بچانے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو ہی شہر سے باہر کر دیا جائے؟

جیسے جیسے احتجاجی مقامات اقتدار کے مراکز سے دور ہوتے جاتے ہیں، یہ سوال بھی اہم ہوتا جاتا ہے کہ حکومت محض احتجاج کی جگہ تبدیل کر رہی ہے یا مزاحمت کی سیاسی موجودگی اور اس کے اثرات کو ہی ختم کرنا چاہتی ہے؟

لکھنؤ: گاندھی مجسمے سے ایکو گارڈن تک

لکھنؤ سے آغاز کرتے ہیں۔ یہاں پہلے اسمبلی کے بالکل قریب جی پی او کے گاندھی مجسمے اور دارالشفقہ میں دھرنے اور مظاہرے ہوا کرتے تھے۔ بعد میں انہیں گومتی ندی کے کنارے لکشمن میلہ میدان منتقل کیا گیا اور پھر ایکو گارڈن بھیج دیا گیا، جو شہر سے کافی دور ہے اور جہاں عام لوگوں کے لیے پہنچنا نسبتاً مشکل ہے۔

لکھنؤ میں احتجاجی مقام کو منتقل کرنے کا سلسلہ 2007 میں مایاوتی کی قیادت والی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) حکومت کے دوران شروع ہوا، جب اسے جھولے لال پارک منتقل کیا گیا۔ تاہم، 2009 میں مظاہرین کو شہید اسمارک کی جانب بھیج دیا گیا، جہاں مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں تھی۔


مارچ 2012 میں اکھلیش یادو کی قیادت والی سماج وادی پارٹی حکومت نے اسمبلی کے سامنے واقع پرانے احتجاجی مقام کو بحال کر دیا۔ لیکن بعد میں اکتوبر 2013 میں گومتی ندی کے کنارے لکشمن میلہ میدان اور رمابائی امبیڈکر مقام کو احتجاج کے لیے متعین کیا گیا۔ مظاہرین کی تعداد کے مطابق الگ الگ اجازت دینے کا انتظام بھی کیا گیا اور دیگر مقامات کی تلاش جاری رہی۔

اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے 2018 میں لکشمن میلہ میدان میں دھرنے اور مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی اور شہر سے کافی دور واقع ایکو گارڈن کو احتجاج کے لیے واحد مجاز مقام بنا دیا۔

پٹنہ: ہڑتالی موڑ سے گردنی باغ تک

پٹنہ میں 1980 کی دہائی تک بیلی روڈ پر دھرنے اور مظاہرے ہوا کرتے تھے۔ اس مقام کو ہڑتالی موڑ کہا جاتا تھا۔ اس کے نام ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جگہ احتجاج اور تحریکوں کے لیے کتنی اہم تھی۔ اس کے بعد تقریباً 1999 سے 2014 تک آر بلاک مظاہرین کا ایک اہم مرکز رہا۔ 2015 میں احتجاجی سرگرمیوں کو وہاں سے منتقل کرکے گردنی باغ بھیج دیا گیا۔ تاہم، فروری 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، اب احتجاجی مقام کو شہر سے کافی دور جے پی گنگا پاتھ، یعنی مرین ڈرائیو کے قریب منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ تبدیلی محض ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقلی کا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بنیادی سوال بھی جڑتا ہے کہ کیا احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرنے کا مطلب صرف زمین کا ایک ٹکڑا مختص کر دینا ہے یا ایسی جگہ فراہم کرنا بھی ضروری ہے جہاں مظاہرین کی آواز مؤثر انداز میں حکومت اور عوام تک پہنچ سکے؟

دہلی: بوٹ کلب سے جنتر منتر اور اب تین نئے مقامات

دہلی میں بھی پہلے انڈیا گیٹ اور بوٹ کلب کے اطراف احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور پھر جنتر منتر بھی احتجاج کے لیے محدود ہوتا چلا گیا۔ اب یہاں سے بھی مظاہروں کو منتقل کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دہلی میں 12 اکتوبر 2026 کو ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی۔ شہر میں احتجاجی مقامات کی تاریخ کو بوٹ کلب سے جنتر منتر اور اب رام لیلا میدان، بری میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ تک کے سفر کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کے حق اور احتجاجی مقامات متعین کرنے کے انتظامی اختیار کو لے کر تنازع پیدا ہوا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ جنتر منتر محض ایک سڑک یا میدان نہیں تھا، بلکہ قومی سطح پر احتجاج درج کرانے کی علامت بن چکا تھا۔


بوٹ کلب کیوں اہم تھا؟

راج پتھ کے اطراف واقع بوٹ کلب دہلی میں بڑے سیاسی اور کسان تحریکوں کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔ 1988 میں مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں کسانوں کا ایک بہت بڑا احتجاج یہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد بڑے مظاہروں اور سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر بوٹ کلب میں اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ تقریباً 1993 کے آس پاس جنتر منتر مظاہرین کا ایک اہم مرکز بننے لگا۔

جنتر منتر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ پارلیمنٹ اور مرکزی اقتدار کے قریب واقع تھا۔ کئی قومی تحریکوں نے اسے ملک گیر شناخت دلائی۔ 2017 میں قومی سبز ٹریبونل (این جی ٹی) نے وہاں احتجاج پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، 2018 میں سپریم کورٹ نے مکمل پابندی کے بجائے ضابطہ بندی کا راستہ اختیار کیا اور پُرامن مظاہروں کی اجازت کے معاملے میں اہم مداخلت کی۔

نئے مقامات پر احتجاج کی اجازت مل جانا ایک بات ہے، لیکن کیا وہاں سے مظاہرین کی آواز اسی اثر کے ساتھ پارلیمنٹ، وزارتوں، میڈیا اور عام لوگوں تک پہنچ سکے گی؟ یہ ایک الگ سوال ہے۔ دہلی میں ہونے والی یہ تبدیلی جمہوریت میں اختلافِ رائے کے لیے جگہ کی دستیابی کے قومی سوال کو ایک بار پھر سامنے لے آتی ہے۔

حیدرآباد: اندرا پارک کا دھرنا چوک

حیدرآباد میں اندرا پارک کے قریب واقع دھرنا چوک طویل عرصے تک تحریکوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا۔ تاہم، مارچ 2017 میں پولیس نے وہاں عوامی اجتماعات اور دھرنوں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا، جس کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی۔ تنازع اس بات پر تھا کہ کیا مظاہرین کو کسی متبادل مقام پر بھیج کر شہر کے ایک پرانے اور معروف احتجاجی مرکز کو ختم کرنا مناسب ہے؟

اس معاملے میں لوگ صرف اپنے بنیادی مطالبات کے لیے سڑکوں پر نہیں اترے، بلکہ احتجاج کرنے کے حق اور اس کے لیے مخصوص مقام کو برقرار رکھنے کی خاطر بھی آواز بلند کی۔


چنئی: مرینا بیچ سے ولوور کوٹم تک

چنئی میں مرینا بیچ تاریخی طور پر عوامی جلسوں اور سیاسی تحریکوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ تحریکِ آزادی سے لے کر دراوڑ سیاست تک، اس مقام نے بڑے بڑے عوامی اجتماعات دیکھے ہیں۔ وقت کے ساتھ مرینا بیچ اور کامراج سالائی کے علاقوں میں احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں اور ضابطے سخت ہوتے گئے۔ اس کے نتیجے میں ولوور کوٹم، چیپاک اور دیگر مقامات متبادل احتجاجی مراکز کے طور پر سامنے آئے۔

یہاں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا احتجاج کے لیے متبادل مقام فراہم کر دینا کافی ہے یا اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ وہاں مظاہرین اپنی بات عوام اور حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچا سکیں؟

ممبئی: آزاد میدان، لیکن کئی پابندیوں کے ساتھ

ممبئی کی صورتِ حال کچھ مختلف ہے۔ یہاں آزاد میدان طویل عرصے سے احتجاج اور جلوسوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ 1997 میں جنوبی ممبئی کے رہائشیوں کی شکایات کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ جنوبی ممبئی میں نکالے جانے والے احتجاجی مارچ آزاد میدان پر ختم ہوں۔ اس کا مقصد وزارت اور چرچ گیٹ جیسے علاقوں میں ٹریفک اور شور کی پریشانی کو کم کرنا تھا۔

مارچ 2025 میں آزاد میدان کو احتجاج کے لیے متعین مقام قرار دینے کی سمت میں اقدامات کیے گئے۔ تاہم، اس کے ساتھ وقت، ہجوم اور اجازت سے متعلق ضابطے بھی نافذ کیے گئے۔ 2025 کے قواعد کے تحت احتجاجی سرگرمیوں پر مختلف شرائط عائد کی گئیں۔ممبئی کی مثال بتاتی ہے کہ ہر شہر میں احتجاج کو دور دراز علاقے میں منتقل کرنا ہی واحد حل نہیں ہے۔ انتظامیہ کسی مرکزی مقام کو احتجاج کے لیے مختص کر سکتی ہے، لیکن وہاں بھی مظاہروں کی تعداد، وقت اور نوعیت پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ احتجاجی مقام کہاں ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہاں احتجاج کرنے کی آزادی کس حد تک حاصل ہے۔

بنگلورو: لال باغ اور کبن پارک سے فریڈم پارک تک

بنگلورو میں پہلے لال باغ اور کبن پارک سمیت کئی عوامی مقامات پر سیاسی جلسے اور مظاہرے ہوا کرتے تھے۔ ٹریفک اور دیگر مسائل کے پیش نظر فریڈم پارک کو احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے لیے تیار کیا گیا۔ یہ مقام سابق مرکزی جیل کے احاطے کا حصہ تھا، جس کے کچھ حصوں کو عوامی استعمال کے لیے کھولا گیا اور ایک حصے کو جمہوری احتجاج کے لیے مختص کیا گیا۔

بنگلورو کی مثال میں احتجاج کے لیے ایک متعین مقام فراہم کرنے کا پہلو نمایاں ہے۔ تاہم، یہاں بھی اصل سوال یہی ہے کہ آیا اس مقام پر احتجاج کرنے والوں کو اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے اور عوامی توجہ حاصل کرنے کے مناسب مواقع میسر ہیں۔


جے پور: اسٹیچو سرکل کی بدلتی ہوئی حیثیت

جے پور میں اسٹیچو سرکل پہلے احتجاجی مظاہروں اور عوامی مطالبات کو اٹھانے کا ایک اہم مقام تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کی نوعیت تبدیل ہوئی اور وہاں احتجاج کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہ ہونے کی شکایات سامنے آنے لگیں۔

2009 میں روزگار اور حقِ اطلاعات سے وابستہ کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم پیش کرکے پُرامن مظاہروں کے لیے جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام پر پہلے احتجاج کیا جاتا تھا، وہاں اب لوگوں کے لیے تحریک چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ احتجاجی مقام کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ شہریوں کے لیے وہاں اپنے مطالبات پیش کرنا کتنا آسان ہے۔

کیا احتجاج کو دور کرکے اس کی سیاسی طاقت کم کی جا سکتی ہے؟

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا احتجاج کو شہر سے باہر بھیج کر اس کی سیاسی طاقت کم کی جا سکتی ہے؟ اس کا جواب ہاں اور نہیں، دونوں میں ہے۔

لکھنؤ کے ایکو گارڈن، پٹنہ کے گردنی باغ اور دہلی کے نئے متعین احتجاجی مقامات کو ایک ساتھ دیکھیں تو ایک سنگین سوال سامنے آتا ہے۔ کیا ترقی اور شہری انتظام کے نام پر ہمارے بڑے شہروں میں احتجاج کے لیے جگہ تو مختص کی جا رہی ہے، لیکن اس جگہ کو بتدریج اقتدار اور عوامی زندگی سے دور بھی کیا جا رہا ہے؟

ممکن ہے کہ ہر شہر میں اس سوال کا جواب مختلف ہو، لیکن ان مثالوں میں ایک مشترکہ رجحان ضرور دکھائی دیتا ہے۔ انتظامیہ ٹریفک، سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے نام پر احتجاجی سرگرمیوں کو مخصوص مقامات تک محدود کرنا چاہتی ہے۔

یقیناً کسی بھی شہر میں ٹریفک کی روانی، شہریوں کی سہولت اور سلامتی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان مسائل کا حل تلاش کرتے ہوئے احتجاج کے بنیادی مقصد کو ہی نظرانداز کر دیا جائے۔


جمہوریت میں نظم و ضبط ضروری ہے، لیکن احتجاج کی نمایاں موجودگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

اگر کسی ملازم یا عوامی تنظیم کو اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے ہیں، طلبہ کے کسی گروپ کو بھرتی کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانی ہے، کسانوں کو اپنی فصل کی مناسب قیمت کا مطالبہ کرنا ہے یا شہریوں کو کسی سرکاری پالیسی کی مخالفت کرنی ہے، تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتجاج کے مقررہ مقام تک آسانی سے پہنچ سکیں اور وہاں مؤثر انداز میں اپنی بات پیش کر سکیں۔

محض ایک مقام مختص کر دینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ احتجاج کرنے والوں کو اپنے حقوق کے استعمال کا حقیقی موقع بھی حاصل ہو گیا ہے۔ اگر وہاں پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑے، بنیادی سہولتیں دستیاب نہ ہوں، میڈیا کی توجہ کم ہو اور عام لوگوں تک احتجاج کی آواز پہنچانا مشکل ہو، تو اس کے عملی اثرات لازماً مرتب ہوں گے۔

دھرنا گاہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی۔ وہ شہریوں اور اقتدار کے درمیان مکالمے کا ایک عوامی پلیٹ فارم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے شہری نہ صرف اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں، بلکہ حکومت کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ اگر اس پلیٹ فارم کو اتنا دور، غیر سہل یا پابندیوں کا شکار بنا دیا جائے کہ وہاں پہنچنا اور اپنی آواز بلند کرنا ہی مشکل ہو جائے، تو معاملہ محض ٹریفک کے انتظام کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے کے لیے حقیقتاً کتنی جگہ باقی رہ گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔