حدبندی: نمائندگی کا توازن یا سیاسی طاقت کی نئی بساط؟

حدبندی کا عمل محض تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی اور وفاقی توازن کا حساس معاملہ ہے۔ 2026 کے بعد اس میں تبدیلی جنوبی و شمالی ریاستوں کے بیچ طاقت کے عدم توازن اور بڑے آئینی بحران کو جنم دے سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>حدبندی کا عمل / اے آئی</p></div>
i
user

ہرجندر

google_preferred_badge

حدبندی کو عموماً ایک خشک اور پیچیدہ آئینی عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جیسے یہ صرف انتخابی حلقوں کی سرحدوں کی ازسرِ نو تشکیل ہے تاکہ آبادی کے مطابق نمائندگی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ بظاہر یہ ایک غیر جانب دار انتظامی قدم محسوس ہوتا ہے، مگر ہندوستان جیسے متنوع اور کثیر الثقافتی ملک میں حدبندی محض ایک تکنیکی کارروائی نہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے اثرات نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور آئینی سطح پر بھی گہرے ہوتے ہیں، اور جو طویل عرصے تک ریاستوں، طبقات اور سیاسی قوتوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔

جیسے جیسے ملک 2026 کے اس اہم مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے، جب دہائیوں سے جاری نشستوں کے تعین پر پابندی ختم ہونے والی ہے، ایک نئے وفاقی تنازعہ کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگر حدبندی کو صرف آبادی کے سادہ حساب کتاب کے تحت نافذ کیا گیا، تو یہ محض انتخابی حلقہ بندی نہیں رہے گا بلکہ ایک ممکنہ آئینی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

یہ درست ہے کہ ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کا اصول جمہوریت کی بنیاد ہے، لیکن ہندوستان جیسے وسیع اور پیچیدہ وفاقی ڈھانچے میں جمہوریت صرف اعداد و شمار کے سہارے نہیں چل سکتی۔ نمائندگی کے ساتھ ساتھ اس وفاقی معاہدے کا تحفظ بھی ضروری ہے جو ملک کو متحد رکھتا ہے۔ جن ریاستوں نے خاندانی منصوبہ بندی، صحت، تعلیم اور اقتصادی ترقی میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی، کیا انہیں اس کامیابی کی قیمت اس صورت میں چکانی چاہیے کہ ان کی پارلیمانی نمائندگی کم کر دی جائے؟ اور کیا وہ ریاستیں جہاں آبادی پر قابو نہیں پایا جا سکا، انہیں اس کا سیاسی فائدہ ملنا چاہیے؟

اسی سوچ کے تحت 1971 کی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تقسیم کو منجمد کر دیا گیا تھا۔ مقصد واضح تھا: وہ ریاستیں جو قومی سطح پر آبادی کنٹرول کی پالیسیوں پر عمل کر رہی تھیں، انہیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ 2001 میں اس پالیسی کو مزید توسیع دی گئی۔ اب جبکہ یہ مدت ختم ہونے کو ہے، نئی مردم شماری کی بنیاد پر نشستوں کی ازسرِ نو تقسیم کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔


اس کے ممکنہ نتائج تشویش ناک ہو سکتے ہیں۔ اس سے ہندی پٹی کی ریاستوں کی پارلیمانی طاقت میں اضافہ ہوگا جبکہ جنوبی ریاستوں کی آواز نسبتاً کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہ صرف نشستوں کی کمی بیشی کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کے توازن کا سوال ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستیں خود کو سیاسی طور پر حاشیے پر جانے کے خطرے سے دوچار محسوس کر رہی ہیں۔ ان کی تشویش محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقی اندیشہ ہے کہ اگر نمائندگی کا پیمانہ صرف آبادی بن گیا تو وفاقی ڈھانچہ خود عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اسے ایک ’سوچی سمجھی چال‘ اور ’سیاہ قانون‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام جنوبی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ ڈی ایم کے کے ترجمان نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ نظام کو کم از کم مزید 25 برس تک برقرار رکھا جائے، تاکہ وہ ریاستیں محفوظ رہ سکیں جنہوں نے قومی پالیسیوں پر مؤثر عمل کیا ہے۔

یہ معاملہ صرف شمال بمقابلہ جنوب کا نہیں، بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس عمل کو کنٹرول کون کرے گا۔ ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی انتخابی فہرستوں کے جائزے (ایس آئی آر) جیسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے، حدبندی جیسے حساس معاملے کو صرف حکومت کے اختیار پر چھوڑ دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس پر کوئی سنجیدہ قومی مکالمہ شروع نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی وسیع اتفاق رائے کی کوشش نظر آتی ہے۔

براؤن یونیورسٹی کی سینئر ویزٹنگ فیلو یامنی ایر نے اس پر شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ بی جے پی حد بندی کے طور پر صاف طور پر انتخابی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے، تاکہ اس کا اقتدار مزید مضبوط ہو۔ جموں و کشمیر اور آسام کے حالیہ تجربات نے بھی یہی دکھایا ہے کہ حدبندی کو کس طرح سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


آسام کی حدبندی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس عمل کا غلط استعمال کس طرح ممکن ہے۔ 2009 کی طرح بلاک یا تحصیل کو بنیادی انتظامی اکائی ماننے کے بجائے اس حدبندی میں دیہات کو بنیاد بنایا گیا۔ اس ’سرجیکل‘ طریقۂ کار نے غیر معمولی سطح پر آبادیاتی ساخت میں رد و بدل کیا۔

مثال کے طور پر برپیٹا میں مسلم ووٹروں کی شرح تقریباً 60 فیصد سے گھٹ کر قریب 35 فیصد رہ گئی۔ وہاں مسلم اکثریتی پنچایتوں کو نکال کر ہندو اکثریتی علاقوں کو شامل کیا گیا۔ اس سے صرف حدود ہی نہیں بدلیں بلکہ سیاسی نتائج بھی تبدیل ہو گئے۔ اقلیتی اکثریت والے علاقوں میں ٹیڑھی میڑھی انتخابی سرحدیں سامنے آئیں، جب کہ حکمراں جماعت کے مضبوط حلقے نسبتاً روایتی شکل میں برقرار رہے۔ تاریخی طور پر آسام لوک سبھا میں دو مسلم ارکان منتخب کرتا تھا، مگر 2023 کی حدبندی کے بعد صرف ایک منتخب ہوا۔

سیاسی پیغام تقریباً واضح تھا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے عوامی طور پر دعویٰ کیا کہ حدبندی نے ’مقامی‘ برادریوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے، جب کہ ایک سینئر وزیر نے کھلے عام کہا کہ مسلم اراکینِ اسمبلی کی تعداد کم ہوگی۔

آسام کی مثال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ اگر حدبندی کو ایک ریاست میں ’جیری مینڈرنگ‘ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تو قومی سطح پر ایسے اقدامات کو کون روکے گا؟

سابق لوک سبھا کے سیکرٹری جنرل پی ڈی ٹی آچاریہ نے بجا طور پر کہا ہے کہ پارلیمنٹ کل نشستوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دے سکتی ہے، لیکن من مانے اصول، جیسے یکساں فیصد اضافہ، محض حکومتی حکم سے نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ ایسے کسی بھی اقدام کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ناگزیر ہے۔


اسی لیے حدبندی کو محض انتظامیہ کی مرضی یا حکمراں جماعت کی انتخابی خواہشات پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے، آئینی بصیرت اور ایک حقیقی معنوں میں آزاد ادارے کی ضرورت ہے، جو جماعتی مقاصد سے بالاتر ہو کر کام کرے۔

ہندوستان کو فوری طور پر ایک معقول اور سائنسی اصول کی ضرورت ہے، جو آبادی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کامیابیوں، وفاقی استحکام اور جمہوری انصاف کے درمیان توازن قائم رکھے۔ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ یکطرفہ فیصلہ اور اس کے بعد کی خاموشی قابلِ قبول نہیں۔

راہل گاندھی پہلے ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ موجودہ صورتحال حکمراں جماعت کو 2029 سے قبل لوک سبھا نشستوں میں رد و بدل کی اجازت دے سکتی ہے۔ یہ اندیشہ خود اعتماد کے خطرناک زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔

اب فوری اقدام ضروری ہے۔ 2027 تک مردم شماری اس بحث کو دوبارہ شدت دے گی اور اگر ابھی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا گیا تو آئندہ یہ تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔

حدبندی کو ایسا سیاسی ہتھیار نہیں بننے دینا چاہیے جو مخصوص مفادات کے مطابق ہندوستان کے جمہوری نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دے۔ اگر اسے غلط انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ سلسلہ آئینی انتشار میں بدل سکتا ہے—جہاں نمائندہ اداروں میں انصاف، توازن اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہوگا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔