بدعنوانی عدلیہ کا داخلی مسئلہ نہیں… شیلندر چوہان

تعلیم کا مقصد صرف اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں، بلکہ طلبا میں بصیرت پر مبنی سمجھ پیدا کرنا ہے۔ جب تک جمہوری اداروں کو جامع نقطۂ نظر سے نہیں پڑھایا جائے گا، تب تک شہری تعلیم ادھوری ہی رہے گی۔

<div class="paragraphs"><p>عدلیہ کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

شیلندر چوہان

این سی ای آر ٹی (قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل) نے سپریم کورٹ کا رخ دیکھتے ہی چند گھنٹوں کے اندر آٹھویں جماعت کی وہ کتاب واپس لے لی جس میں اس بار عدلیہ میں بدعنوانی اور زیر التوا مقدمات کا ایک باب شامل کیا گیا تھا۔ آٹھویں جماعت کی سماجی علوم، یعنی سوشل سائنس کی کتاب میں اس نوعیت کی تبدیلی کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کے چیئرمین ڈاکٹر دنیش پرساد سکلانی اور اسکولی تعلیم کے محکمے کو عدلیہ کی توہین کے تحت نوٹس بھی بھیجا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے از خود نوٹس لیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے یہاں تک تبصرہ کیا کہ گولی چلائی گئی ہے اور عدلیہ لہولہان ہو گئی ہے۔

اس پورے معاملے کو کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں اسکولی تعلیم محض معلومات فراہم کرنے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ شہری شعور اور جمہوری فہم کی تشکیل بھی کرتی ہے۔ اس لیے جب نصابی کتابوں میں کسی ادارے یا نظام کے بارے میں کوئی نیا باب شامل کیا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف تعلیمی نہیں ہوتا، بلکہ وہ طلبا کے سماجی و سیاسی نقطۂ نظر کو بھی متاثر کرتا ہے۔


عدلیہ سے متعلق باب میں بدعنوانی اور زیر التوا مقدمات کے نکات شامل کرنے کا فیصلہ بعض لوگوں کو محدود معاملوں میں پہلی نظر میں مثبت محسوس ہو سکتا ہے، لیکن ایسا ہے نہیں۔ جمہوریت میں اداروں کی تنقیدی سمجھ ضروری ہے۔ اگر طلبا کو بتایا جاتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں حد سے زیادہ وقت لگتا ہے، یا نظام انصاف میں شفافیت اور جوابدہی کے چیلنجز ہیں، تو اس سے انہیں جمہوریت کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ تنقیدی نقطۂ نظر دیگر اداروں پر بھی یکساں طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، یا صرف عدلیہ ہی کو تنقید کا مرکز بنایا جا رہا ہے؟

ہندوستانی جمہوریت میں عدلیہ ایک اہم ستون ہے، جو شہری حقوق کے تحفظ اور آئین کی تشریح کا کام کرتی ہے۔ طویل عرصہ سے یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتوں پر مقدمات کا بھاری بوجھ ہے۔ لاکھوں مقدمات برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں اور اس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔ لیکن جمہوری اداروں پر گفتگو کرتے وقت توازن نہایت ضروری ہے۔ عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کے مسئلے کو محض عدالتوں کی کمزوری کے طور پر دیکھنا بھی ایک نامکمل نقطۂ نظر ہوگا۔ مقدمات کی کثرت کی ایک بڑی وجہ انتظامی نااہلی، خراب طرز حکمرانی اور سیاسی فیصلوں کی پیچیدگیاں بھی ہیں۔ کئی بار ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں یا ایسی پالیسیاں نافذ کی جاتی ہیں جن کے باعث تنازعات بڑھتے ہیں اور بالآخر وہ عدالتوں تک پہنچتے ہیں۔ اگر نصابی کتابوں میں صرف عدالتوں پر بوجھ کا ذکر ہو اور اس کے سماجی و سیاسی اسباب پر گفتگو نہ ہو، تو طلبا کو مسئلے کی ادھوری سمجھ ہی ملے گی۔


اسی طرح بدعنوانی کا سوال صرف عدلیہ تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستانی سماج میں بدعنوانی ایک وسیع تر ساختی مسئلہ ہے، جو سیاسی نظام، انتظامی ڈھانچے اور کئی دیگر اداروں میں مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔ اگر تعلیمی نظام طلبا کو جمہوریت کی حقیقی صورت حال سے روشناس کرانا چاہتا ہے تو اسے بدعنوانی کی وسیع تر نوعیت کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ صرف عدلیہ کا ذکر کر کے بدعنوانی کے مسئلے کو محدود کر دینا ایک طرح سے حقیقت کو سکیڑ دینا ہے۔

سیاسی و انتظامی بدعنوانی پر خاموشی

ہندوستانی جمہوریت کے سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک سیاسی بدعنوانی ہے۔ انتخابی سیاست میں دولت کا زور، اقتدار کے غلط استعمال اور سیاسی سرپرستی کی ثقافت نے جمہوری اداروں کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن اسکولی نصابی کتابوں میں اس موضوع پر نسبتاً کم بحث ہوتی ہے۔ انتخابی اخراجات، پارٹیوں کی فنڈنگ، اقتدار میں رہتے ہوئے پالیسی سازی میں مفادات کا ٹکراؤ، یہ ایسے موضوعات ہیں جن سے طلبا کا واقف ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت کی تعلیم محض نظریاتی اسباق نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقتوں کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر نصاب میں سیاسی بدعنوانی کی بحث شامل نہ ہو تو طلبا یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اقتدار اور وسائل کا ارتکاز کس طرح بدعنوانی کو جنم دیتا ہے۔


یہاں مسئلہ صرف حقائق کا نہیں، بلکہ نقطۂ نظر کا بھی ہے۔ نصابی کتابیں اکثر سیاست کو ایک مثالی عمل کے طور پر پیش کرتی ہیں، جبکہ عملی طور پر سیاست اقتدار، وسائل اور مفادات کے پیچیدہ تصادم سے تشکیل پاتی ہے۔ اس پیچیدگی کو سمجھے بغیر جمہوریت کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔

انتظامی ڈھانچہ اور بدعنوانی کی ساخت

سیاسی بدعنوانی سے بھی زیادہ وسیع مسئلہ انتظامی بدعنوانی کا ہے۔ سرکاری دفاتر میں رشوت، تاخیر، قوانین کی منمانی تشریح اور جوابدہی کی کمی جیسے مسائل عام شہری کے تجربات کا حصہ ہیں۔ انتظامی بدعنوانی محض انفرادی لالچ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اکثر ادارہ جاتی ڈھانچوں کی کمزوری سے جنم لیتی ہے۔ پیچیدہ قوانین، شفافیت کی کمی، نگرانی کے نظام کی کمزوری اور سیاسی سرپرستی، یہ تمام عوامل مل کر بدعنوانی کو مستقل شکل دے دیتے ہیں۔ لیکن اسکولی تعلیم میں ان ساختی اسباب پر شاذ و نادر ہی گفتگو ہوتی ہے۔


اگر طلبا کو جمہوری انتظامیہ کی حقیقتوں سے واقف کرانا ہے تو انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ بدعنوانی صرف کسی فرد کی اخلاقی ناکامی نہیں، بلکہ کئی بار یہ ادارہ جاتی نظاموں کا نتیجہ بھی ہوتی ہے۔ اسکولی نصابی کتابیں محض معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک فکری ڈھانچے کی تشکیل بھی کرتی ہیں۔ جن مثالوں، واقعات اور مباحث کو ان میں شامل کیا جاتا ہے، وہ طلبا کے سیاسی و سماجی نقطۂ نظر کو شکل دیتے ہیں۔

اگر کسی نصابی کتاب میں عدلیہ کی بدعنوانی کا ذکر ہو، لیکن سیاسی و انتظامی بدعنوانی پر خاموشی ہو، تو یہ ایک جزوی سچ پیش کرتا ہے۔ جزوی سچ کئی بار جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ حقیقت کی مکمل تصویر کو چھپا دیتا ہے۔ جمہوری تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبا تمام اداروں کے کردار، حدود اور چیلنجز کو سمجھیں۔ اگر کسی ایک ادارے کی تنقید کو زیادہ نمایاں کیا جائے اور دیگر اداروں کے مسائل نسبتاً کم دکھائے جائیں تو اس سے غیر متوازن نقطۂ نظر پیدا ہو سکتا ہے۔ جمہوریت میں کسی بھی ادارے کو تنقید سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے، لیکن تنقید کا دائرہ وسیع اور متوازن ہونا چاہیے۔


عدلیہ پر باب شامل کرنے کے پیچھے ایک مثبت امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے طلبا کو نظام انصاف کی پیچیدگیوں سے واقفیت ملے۔ وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں، مقدمات کے فیصلوں میں وقت کیوں لگتا ہے، اور نظام انصاف کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کس نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ اگر اس باب کو وسیع تر تناظر میں پڑھایا جائے، جہاں عدلیہ کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی کے دیگر اداروں کے کردار کی بھی وضاحت کی جائے، تو یہ جمہوری تعلیم کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ جمہوریت میں ادارے الگ تھلگ نہیں ہوتے۔ وہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوتے ہیں۔ انتظامی فیصلے، سیاسی پالیسیاں اور سماجی حالات، یہ سب مل کر عدالتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

تعلیم کا مقصد صرف اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں، بلکہ طلبا میں بصیرت پر مبنی سمجھ پیدا کرنا ہے۔ جب تک جمہوری اداروں کو جامع نقطۂ نظر سے نہیں پڑھایا جائے گا، تب تک شہری تعلیم ادھوری ہی رہے گی۔ اس لیے نصاب میں کیے گئے ایسے تغیرات کو محض معلومات کے طور پر نہیں، بلکہ جمہوری شعور کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔