ایف سی آئی کو بھول جائیے، اڈانی آ چکے ہیں...رشمی سہگل

حکومت کی نئی ذخیرہ اندوزی پالیسی کے تحت اناج کے بڑے گودام نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ کسان تنظیموں کو خدشہ ہے کہ اس سے پی ڈی ایس، ایم ایس پی اور غذائی تحفظ پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

رشمی سہگل

google_preferred_badge

حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی غذائی سپلائی چین کو جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے لیکن کسان تنظیمیں اور زرعی ماہرین اسے ایک ایسے اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو ہندوستان کے غذائی نظام کو سرکاری نگرانی سے نکال کر بڑے کارپوریٹ اداروں کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اڈانی ایگری لاجسٹکس اور لیپ انڈیا فوڈ اینڈ لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے معاہدے دیے جانے سے ملک کے زرعی اور غذائی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے۔

حالیہ فیصلے کے تحت حکومت نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ذخیرہ اندوزی کے جدید کاری پروگرام میں موجود ایک اہم ‘اجارہ داری مخالف‘ شرط کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد اناج کے ذخیرے اور انتظام سے متعلق 134 منصوبوں میں سے 110 معاہدے دو بڑی کمپنیوں کے حصے میں چلے گئے۔ منصوبے کے مطابق ملک میں 60 لاکھ میٹرک ٹن اضافی ذخیرہ اندوزی کی گنجائش پیدا کی جانی ہے، جس میں سے تقریباً 46.5 لاکھ میٹرک ٹن کی صلاحیت اڈانی گروپ اور لیپ انڈیا کے زیر انتظام ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت 200 جدید اسٹیل گودام تعمیر کیے جائیں گے۔ بڑے مراکز کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا جبکہ چھوٹے مراکز خریداری مراکز اور کھیتوں کے قریب قائم ہوں گے۔ اندازوں کے مطابق زمین کی قیمت 6 سے 8 ہزار کروڑ روپے اور تعمیراتی لاگت 15 سے 20 ہزار کروڑ روپے کے درمیان ہوگی۔ حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار سے سرکاری خزانے پر فوری بوجھ کم ہوگا لیکن ناقدین اسے ایک مہنگا سودا قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر یہی منصوبہ براہ راست سرکاری سرمایہ کاری کے ذریعے مکمل کیا جاتا تو اس کی لاگت تقریباً 45 ہزار کروڑ روپے ہوتی لیکن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت اگلے 30 برسوں میں ذخیرہ اندوزی اور انتظامی فیس کی مد میں حکومت کو تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے اضافی ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس منصوبے کو غذائی نظام کی جدید کاری سے زیادہ نجی منافع کی ضمانت قرار دیا جا رہا ہے۔


اس معاملے میں سب سے زیادہ سوالات اس بات پر اٹھ رہے ہیں کہ ایف سی آئی نے ابتدا میں خود اجارہ داری مخالف شرط شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ کوئی ایک کمپنی پورے شعبے پر غلبہ حاصل نہ کر سکے۔ بعد میں پالیسی سطح پر تبدیلیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر ’’بنڈل بولی‘‘ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے معاہدوں میں صرف بڑی مالیاتی طاقت رکھنے والی کمپنیاں ہی حصہ لینے کے قابل رہ گئیں جبکہ درمیانے درجے کی ذخیرہ اندوزی کمپنیوں کے لیے مقابلے کے دروازے تقریباً بند ہو گئے۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال نہ صرف مسابقت کو ختم کرے گی بلکہ غذائی تحفظ کے پورے نظام کو چند نجی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔ ان کے مطابق قومی غذائی تحفظ قانون کے تحت چلنے والا عوامی تقسیمی نظام (پی ڈی ایس) ہر ماہ 81 کروڑ سے زیادہ افراد کو رعایتی نرخوں پر اناج فراہم کرتا ہے۔ اگر ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین پر نجی کمپنیوں کا غلبہ بڑھتا ہے تو مستقبل میں اس نظام کی نوعیت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔

کسان رہنماؤں کے خدشات صرف پی ڈی ایس تک محدود نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا نظام بھی دباؤ میں آ سکتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ گندم اور دھان کی خریداری ایم ایس پی پر جاری رہے گی، لیکن کسان تنظیموں کو اندیشہ ہے کہ جب ذخیرہ اندوزی اور لاجسٹکس کے بیشتر اختیارات نجی شعبے کے پاس ہوں گے تو عملی طور پر خریداری کے عمل پر بھی ان کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔

ان کا استدلال ہے کہ ایف سی آئی روایتی طور پر کسانوں سے براہ راست خریداری کرتا رہا ہے، لیکن نجی اداروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی خریداری کے نظام کو بدل سکتی ہے۔ اس صورت حال میں حکومت کی سودے بازی کی قوت کمزور ہوگی اور وقت گزرنے کے ساتھ ایم ایس پی کی اہمیت گھٹ سکتی ہے۔ کسان تنظیموں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ نجی ادارے ادائیگیوں، تنازعات کے حل اور معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے وہی جوابدہی قبول نہیں کریں گے جو ایک سرکاری ادارے پر عائد ہوتی ہے۔


کئی کسان رہنما اس فیصلے کو تین متنازع زرعی قوانین کی روح کی واپسی قرار دے رہے ہیں جنہیں کسانوں کی طویل تحریک کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔ ان کے مطابق حکومت براہ راست قوانین نافذ کرنے کے بجائے پالیسی فیصلوں کے ذریعے زرعی منڈیوں اور غذائی نظام میں نجی شعبے کا کردار بڑھا رہی ہے۔

تنقید کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی زراعت پہلے ہی متعدد چیلنجوں سے دوچار ہے۔ اگر غذائی نظام کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کارپوریٹ کنٹرول بڑھ گیا تو اس کے اثرات خوراک کی دستیابی، رسائی، غذائیت اور استحکام جیسے بنیادی ستونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق متنوع فصلوں پر مبنی روایتی زراعت کی جگہ زیادہ منافع بخش نقد آور فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے، جس سے غذائی خود کفالت متاثر ہوگی۔

بعض کسان رہنماؤں کا الزام ہے کہ زرعی پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیوں کا مقصد بیرونی زرعی مصنوعات کے لیے ہندوستانی منڈی کو زیادہ کھولنا بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھاری سبسڈی والی درآمدی اجناس ملک میں داخل ہوئیں تو مقامی کسان ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ وہ یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ زراعت سے وابستہ زمینوں کی قیمتوں میں تبدیلی اور دیہی علاقوں میں معاشی دباؤ بالآخر زرعی زمین کے بڑے پیمانے پر حصول کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

پنجاب کے کسان رہنما ڈاکٹر درشن پال کے مطابق گزشتہ برسوں میں لاکھوں ہیکٹر زرعی زمین مختلف وجوہات کی بنا پر کاشت کے دائرے سے باہر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی بڑی آبادی اب بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور زرعی معیشت کی کمزوری کا براہ راست اثر دیہی روزگار اور غذائی تحفظ پر پڑے گا۔ وہ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ غذائیت کے حوالے سے پہلے ہی متعدد ریاستوں میں دالوں اور پروٹین کی کھپت مطلوبہ سطح سے کم ہے، ایسے میں غذائی نظام میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔


کسان رہنما حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ پیداوار کی لاگت میں اضافے، کھاد کی قیمتوں اور زرعی اخراجات جیسے بنیادی مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق اگر کسانوں کی آمدنی اور لاگت کے مسائل حل نہ کیے گئے تو صرف انفراسٹرکچر میں تبدیلی سے زراعت کو پائیدار نہیں بنایا جا سکتا۔

بھارتیہ کسان یونین کے جنرل سکریٹری جنگ ویر سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر نجی کمپنیوں کو خریداری کے عمل میں زیادہ اختیار ملا تو منڈیوں اور آڑھتیوں کا وہ نظام کمزور پڑ سکتا ہے جو طویل عرصے سے کسانوں کو سہارا دیتا آیا ہے۔ وہ ہماچل پردیش میں سیب کے کاروبار کی مثال دیتے ہیں جہاں ان کے مطابق بڑی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے چھوٹے باغ مالکان کی سودے بازی کی قوت محدود کر دی ہے۔

کسان تنظیمیں اب اس پورے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اجارہ داری مخالف شرط بحال کی جائے، کسی ایک کارپوریٹ گروپ کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کی حد مقرر کی جائے اور اس فیصلے کے تمام مراحل کی غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے۔ ان کے مطابق ہندوستان کے غذائی نظام کی مضبوطی کا راستہ نجی اجارہ داری نہیں بلکہ ایف سی آئی اور دیگر سرکاری اداروں میں زیادہ عوامی سرمایہ کاری سے ہو کر گزرتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔