برکس کی میزبانی: ہندوستان کی متضاد خارجہ حکمتِ عملی کا امتحان...اشوک سوین
برکس کی قیادت کرتے ہوئے ہندوستان اندرونی اختلافات، چین کے بڑھتے اثر اور اپنی مبہم خارجہ پالیسی کے باعث کمزور دکھائی دے رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں

اس سال برکس کی قیادت ہندوستان کے پاس ہے، مگر یہ قیادت کسی مضبوط سفارتی کامیابی کے بجائے ایک پیچیدہ اور متضاد صورتحال کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب برکس کو مغربی غلبے کے مقابل ایک متوازن قوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج یہ گروہ نہ صرف اندرونی اختلافات کا شکار ہے بلکہ اس کے اندر ہندوستان کی حیثیت بھی کمزور ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والے اٹھارہویں برکس سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے درمیان، یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ آیا ہندوستان واقعی اس گروہ کو کوئی سمت دینے کی پوزیشن میں ہے یا محض رسمی میزبانی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
برکس پہلے بھی مختلف النوع مفادات رکھنے والے ممالک کا مجموعہ تھا، لیکن حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خاص طور پر ایران سے جڑے تنازع نے اس کے تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم تھا جو کثیر قطبی دنیا کی حمایت کا دعویٰ کرتا تھا، مگر اب یہ کسی ایک اہم مسئلے پر مشترکہ موقف اختیار کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتا ہے۔ نئی دہلی میں اپریل کے آخر میں ہونے والی برکس میٹنگ اس ناکامی کی واضح مثال بنی، جہاں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا اور صرف ’صدر کا خلاصہ‘ جاری کرنا پڑا—جو اس بات کا اعتراف تھا کہ اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کے ہیں۔ ایران، جو حال ہی میں برکس میں شامل ہوا، اس نے توقع کی تھی کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں اسے گروہ کی حمایت حاصل ہوگی۔ مگر دیگر اراکین، خاص طور پر یو اے ای جو اب اوپیک (پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم) سے علیحدہ ہو چکا ہے، نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریزاں رہے۔ چین اور روس ایران کے قریب دکھائی دیے، جبکہ ہندوستان نے ایک محتاط اور غیر واضح پوزیشن اپنائی۔ اس غیر یقینی رویے نے نہ صرف برکس کے اندر اس کے کردار کو محدود کیا بلکہ اس کی قیادت پر بھی سوال کھڑے کیے۔
اس تعطل کے باعث برکس کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اس وقت بھی نہیں جب کسی رکن ملک پر حملہ ہوا ہو یا اس کے رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا ہو۔ بیان کا مسودہ منظور نہ ہو سکا اور مذاکرات بھی رک گئے۔ اس تعطل میں ہندوستان کا کردار بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ صدر کے طور پر اس سے توقع تھی کہ وہ کوئی سمت دے گا، مگر اس کے برعکس اس نے غیر واضح راستہ اختیار کیا۔ کوئی ٹھوس موقف اپنانے میں ہندوستان کی ہچکچاہٹ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں موجود تضادات کو نمایاں کرتی ہے۔ جسے وزیر خارجہ ایس جے شنکر ’اسٹریٹجک خود مختاری‘ کہتے ہیں، اسی کے تحت ہندوستان نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی، دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کی ہیں؛ خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی اور توانائی کے تعلقات مضبوط کیے ہیں؛ اور ایران کے ساتھ ثقافتی و سفارتی تعاون برقرار رکھا ہے۔ جب جنگ کے باعث کسی ایک فریق کا انتخاب ناگزیر ہو گیا تو ہندوستان نے کسی کو ناراض کیے بغیر درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔
لیکن برکس کے لیے یہ غیر واضح پالیسی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس گروہ کے اندر ایک ایسا حلقہ موجود ہے جو امریکی بالادستی کے خلاف کھل کر موقف اختیار کرتا ہے۔ امریکہ، جو برکس کا سخت مخالف ہے اور برکس کے ہی ایک رکن کے درمیان جاری تنازع میں ہندوستان کا غیر جانبدار رہنا دانشمندی کے بجائے وابستگی کی کمی سمجھا جائے گا۔ ایران نے واضح طور پر توقع ظاہر کی ہے کہ برکس کے صدر کے طور پر ہندوستان اس کے حق میں گروہ کو متحد کرے گا؛ مگر نئی دہلی کے مفادات امریکہ-اسرائیل اتحاد سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ وہ ایسا کوئی خطرناک قدم نہیں اٹھا سکتا۔
اسی دوران اس گروہ میں چین کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ برکس کی توسیع، جسے اس کی عالمی مقبولیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، دراصل بیجنگ کی مرکزی حیثیت کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ نئے شامل ہونے والے کئی ممالک چین کے ساتھ ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ قریبی اسٹریٹجک ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ اس طرح برکس کے اندر طاقت کا توازن فیصلہ کن طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ہندوستان اب اس گروہ کا برابر کا ستون نہیں رہا بلکہ ایک ایسی ساخت میں ’غیر ضروری‘ کردار بنتا جا رہا ہے، جسے چین اپنے مطابق ڈھال رہا ہے۔
اس تبدیلی نے ہندوستان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چین کے ساتھ اس کے کشیدہ تعلقات—جو سرحدی تنازعات اور اسٹریٹجک رقابت سے جڑے ہیں—برکس کے اندر مؤثر تعاون کو محدود کرتے ہیں۔ صورتحال اس وقت اور پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ٹرمپ ان ممالک پر تعزیری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہیں جو برکس کے تحت متبادل تجارتی نظام اپنانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے محتاط مودی حکومت ایسا کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوگی جس کے نتیجے میں سخت جوابی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے۔
نتیجتاً نئی دہلی ان اقدامات کی حمایت سے گریز کرتا رہا ہے جنہیں امریکہ کے زیر اثر عالمی معاشی نظام کے لیے چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’ڈی ڈالرائزیشن‘ یعنی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کو دیکھ لیجیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برکس کے اندر ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ وہ معاشی اور سفارتی خطرات مول لیے بغیر اس گروہ کے زیادہ جارحانہ ایجنڈے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتا۔ تاہم پیچھے ہٹنے سے اس کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
برکس کے اندرونی تضادات پہلے کبھی اتنے واضح نہیں تھے۔ پہلی بار یہ گروہ ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں اس کے اراکین اپنے ہی کسی رکن سے جڑے فوجی تنازع پر تقسیم ہو گئے ہیں۔ اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکامی گہرے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
ہندوستان کی صدارت ایسے وقت میں ہو رہی ہے اور اس کی اپنی غیر واضح پالیسی نے اسے ان تضادات کو سنبھالنے میں غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ اس بحران نے دراصل ہندوستان کے اثر و رسوخ کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔ آئندہ سربراہی اجلاس کے نتائج زیادہ امید افزا نظر نہیں آتے۔ چین کے صدر کی شرکت کے امکانات کم ہیں، اختلافات حل نہیں ہوئے اور کوئی مشترکہ حکمت عملی بھی موجود نہیں۔ ایسے میں اس اجلاس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع کرنا بے معنی ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ ایسے محتاط بیانات سامنے آئیں گے جو متنازع مسائل سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ ’گلوبل ساؤتھ‘ کی قیادت کے لیے ہندوستان کے پاس نہ اختیار ہے اور نہ بنیاد۔
یہ صورتحال ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ مختلف اور ایک دوسرے کے متضاد عالمی دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ برکس کے اندر یہ حکمت عملی پہلے ہی ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان جتنا زیادہ محتاط ہوتا ہے، چین اتنی ہی زیادہ جگہ حاصل کرتا جاتا ہے۔ عالمی معاملات پر واضح موقف سے گریز ہندوستان کے اثر و رسوخ کو مزید کمزور کرتا جا رہا ہے۔
ایک متبادل عالمی نظام کے مرکز کے طور پر برکس کی ساکھ پہلے ہی کم ہو رہی تھی، مگر ہندوستان کی صدارت میں یہ کمزوری مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ گروہ تو پھیل رہا ہے اور نئے اراکین شامل ہو رہے ہیں، مگر اجتماعی اور مؤثر اقدام کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
اس گروہ کے اندر ہندوستان کے لیے واضح کردار طے کرنے میں مودی حکومت کی ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان برکس کی صدارت تو کر رہا ہے مگر اس پر اس کا حقیقی کنٹرول نہیں۔ وہ میزبانی تو کرے گا، مگر نتائج پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والا سربراہی اجلاس اس کی غیر اہمیت کو مزید نمایاں کر دے گا۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعہ کے پروفیسر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
