سپریم فیصلے سے بی جے پی کی ’دکان‘ بند!

یہ اسکیم 2 جنوری 2018 کو بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت لائی تھی جس پر شروع سے ہی اعتراض کیا جا رہا تھا اور کئی بار اس کی خامیوں کی طرف بھی نشاندہی کی گئی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

user

نواب علی اختر

انتخابی بانڈز اسکیم جسے الیکٹورل بانڈ اسکیم بھی کہا جاتا ہے، اس پر پابندی لگانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ فوری اور طویل مدتی نقطہ نظر سے کافی اہم ہے۔ اس فیصلے کا نہ صرف سیاسی جماعتوں کو ملنے والے عطیات اور اس کے طریقوں پر فوری اثر پڑے گا بلکہ اس نے سیاست میں شفافیت اور جمہوریت میں عوام کے حق معلومات کی اہمیت کو بھی واضح کر دیا ہے۔ یہ اسکیم 2 جنوری 2018 کو بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت لائی تھی جس پر شروع سے ہی اعتراض کیا جا رہا تھا اور کئی بار اس کی خامیوں کی طرف بھی نشاندہی کی گئی مگر مودی حکومت معترضین کو خاطر میں لانے کو ہرگز تیار نہیں تھی اور ہمیشہ اسکیم کا دفاع کیا کیونکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہی ہو رہا تھا۔

حالانکہ اس اسکیم میں سیاسی جماعتوں کو فنڈ دینے کے عمل میں غیر شفافیت کا عنصر صاف طور پر جھلک رہا تھا۔ اس میں کارپوریشنوں اور افراد کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے الیکٹورل بانڈ خرید کر سیاسی پارٹیوں کو گمنام طریقے سے رقم عطیہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ مودی حکومت نے اس اسکیم کی راہ ہموار کرنے کے لئے مختلف قوانین جیسے عوامی نمائندہ ایکٹ 1951، کمپنی ایکٹ 2013، انکم ٹیکس ایکٹ 1961 اور ایف سی آر اے 2010 میں ترمیم کی۔ ترمیم سے قبل کسی بھی کمپنی کو اپنے منافع کی زیادہ سے زیادہ حد 7.5 فیصد ہی بطور بانڈز عطیہ کرنے کی اجازت تھی مگر اس میں ترمیم کر کے اس کی حد بڑھا کر منافع کا 100 فیصد عطیہ کرنے کی اجازت دی گئی۔


حکومت کے اس اقدام سے غیر قانونی عطیات کی حوصلہ افزائی اور کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے فرضی کمپنیوں کے وجود میں آنے کی راہیں کھلنے کے امکانات بڑھ گئے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کواور شاید یہی واحد وجہ بنی کہ بی جے پی سب سے زیادہ عطیات حاصل کرنے والی پارٹی بن گئی۔ مگر اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتخابی بانڈز کو بینک نہ فروخت کر سکیں گے اور نہ ہی جمع کر سکیں گے۔ جن بینکوں میں کسی کا اکاونٹ ہے وہ اب پارٹیوں کے کھاتوں میں انتخابی چندہ جمع نہیں کر سکیں گے۔ ایس بی آئی کو سیاسی جماعتوں کے ذریعے کیش کیے گئے انتخابی بانڈز کی تفصیلات پیش کرنا ہوں گی۔ وہیں کیش نہیں کرائے گئے انتخابی بانڈز کا بیورا بھی جمع کرانا ہوگا۔

لوک سبھا انتخابات سے عین قبل آئے اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے انتخابی بانڈ متعارف کرانے کے لیے قوانین میں کی گئی تبدیلیوں کونہ صرف غیر آئینی قرار دیا ہے بلکہ ان التزامات کے اثر کو کم کرنے والے اقدامات کے ساتھ وقت کی حد بھی مقرر کر دی ہے۔ فیصلے کے مطابق 12 اپریل 2019 کے بعد الیکٹورل بانڈز کے ذریعے موصول ہونے والے عطیات سے متعلق تمام تفصیلات 13 مارچ 2024 تک الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر عام ہوجانا چاہئے۔ اس طرح بانڈز جاری کرنے والے ایس بی آئی کو اپریل 2019 سے اب تک کتنے لوگوں نے کتنے روپے کے انتخابی بانڈ خریدے ہیں، اس کی معلومات تین ہفتوں میں دینا ہوگی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن اس معلومات کو عوام تک پہنچائے گا۔


انتخابی بانڈز جمع کرنے کے لیے ملک بھر میں ایس بی آئی کی کل 29 مجاز شاخیں ہیں۔ جہاں کوئی بھی الیکٹورل بانڈ خرید سکتا ہے اور سیاسی جماعتوں کو فنڈ دے سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے جاری کرنے والے بینک (ایس بی آئی) کو فوری طور پر انتخابی بانڈ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ یعنی اب مودی حکومت کی اس اسکیم پر بریک لگ گیا ہے۔ اس سے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا وہیں بی جے پی کو زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے چونکہ عام انتخابات قریب ہیں اور پارٹیوں کو انتخابی عطیات کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس فیصلے کا اپریل مئی میں ہونے والے ممکنہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کے انداز پر براہ راست یا بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

دراصل حکومت کی جانب سے انتخابی بانڈز کو آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے پر لوگوں کو زیادہ اعتراض تھا۔ حکومت کے فیصلے عام لوگ آر ٹی آئی کے تحت الیکٹورل بانڈز سے متعلق معلومات نہیں مانگ سکتے تھے جبکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ رائے دہندگان کو پارٹیوں کے فنڈز کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی انتخابی بانڈز سے متعلق معلومات اپنی ویب سائٹ پر عام کرنا ہو گی۔ فیصلے کی زیادہ اہمیت اس حقیقت میں ہے کہ اس نے ایک بار پھر انتخابی اصلاحات کے رہنما اصولوں کو واضح کر دیا ہے۔ انتخابی بانڈ اسکیم کے حق میں حکومت کی دلیل تھی کہ کالے دھن اور سیاسی فنڈنگ میں بے ضابطگیوں کو روکا جاسکے گا۔ وہیں عدالت کا کہنا تھا کہ کالے دھن کو روکنے کے اور بھی طریقے ہیں۔


اس فیصلے سے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ہی عام لوگ بھی کافی خوش نظر آ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انتخابی بانڈ اسکیم فنڈز کے بہاو کو حکمراں پارٹی کی طرف موڑنے اور ان کے ذرائع کو بند کرنے کے مقصد سے نافذ کی گئی تھی۔ اسی وجہ سے حکومت نے ریزرو بینک اور الیکشن کمیشن کی رائے کو نظر انداز کیا۔ 2017 میں ریزرو بینک نے خبردار کیا تھا کہ شیل کمپنیاں منی لانڈرنگ کے لیے انتخابی بانڈز کا غلط استعمال کر سکتی ہیں۔ 2019 میں الیکشن کمیشن نے بھی اس اسکیم کو عطیات میں شفافیت کے معاملے میں پیچھے دھکیلنے والا قدم قرار دیا تھا مگر مخالف سیاسی پارٹیوں کی راہیں مسدود کرنے کی کوششوں میں مصروف مودی حکومت نے کسی بھی آئینی ادارے کے تحفظات کو ماننے سے انکار کردیا۔

اب جبکہ سپریم کورٹ نے انتخابی بانڈز کو ختم کردیا ہے، سیاسی جماعتوں کو مل کر ایسا قانون بنانا چاہئے جو انتخابات میں پیسوں کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے نمٹنے اور منصفانہ و شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے میں معاون ہو۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو چاہئے کہ سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینے کے تعلق سے شفافیت کو حتمی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اور سیاسی پارٹیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے بینک کھاتوں کوعام کریں۔ ہم عنقریب پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہورہے ہیں، لہٰذا اپنی جمہوریت کو بچائے رکھنے کے لئے تمام انتخابی سرگرمیوں کو پیسے اور طاقت کے بے جا استعمال سے پاک رکھنا تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔