بنگال میں بی جے پی کے آتے ہی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی چاندی...سہیل انجم

بنگال میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد متنازعہ بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی واپسی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ یکم اگست کے اجلاس کو ان کی ممکنہ مستقل واپسی کے پیش خیمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>تسلیمہ نسرین / Getty Images / AI</p></div>
i

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ گھر واپسی کا آر ایس ایس اور بی جے پی کا نظریہ اب بنگلہ دیش پہنچنے والا ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی جو کہ 1994 سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، گھر واپسی ہونے والی ہے۔ اگرچہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی لیکن قیاس آرائی ضرور کی جا سکتی ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ بنے گی مغربی بنگال میں قائم ہونے والی بی جے پی کی حکومت۔ ابھی سردست اس کا ریہرسل ہونے جا رہا ہے۔ یکم اگست کو کلکتہ کے رابندر سدن میں مبینہ مذہبی بنیاد پرستوں کے خلاف ہونے والے ایک اجلاس میں وہ شرکت کرنے جا رہی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی شرکت کا بھی قوی امکان ہے۔

اس اجلاس کا انعقاد سیکولر مشن، پشچم بانگر پوکھے اور ہیومن رائٹس بنگلہ بک فیئر فورم (ایچ آر بی ایف ایف) کے زیر اہتمام ہو رہا ہے۔ سیکولر مشن کے ایک عہدے دار کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک وکیل عثمان ملک کے مطابق تسلیمہ نسرین تمام مخالفین کو شکست دے کر کلکتہ آرہی ہیں۔ اس اجلاس کا انعقاد غیر سرکاری طور پر ہو رہا ہے لیکن اس میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ کابینہ کے متعدد ارکان کی شرکت کا بھی امکان ہے۔ بلا شبہ ریاستی وزیر اعلیٰ اور وزرا کی شرکت سے ایک پیغام جائے گا جو صرف اندرون ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ سرحد پار یعنی بنگلہ دیش تک بھی جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنیاد پرستوں یا یوں کہہ لیں اسلام پسندوں کے خلاف قدم اٹھا رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ تسلیمہ نسرین کی جانب بنگال حکومت کے جھکاو کا نتیجہ اس شکل میں برآمد ہو سکتا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت بھی نرم رویے کا مظاہرہ کرے۔ سردست تسلیمہ کے دورے کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے البتہ بائیں بازو اور ٹی ایم سی نے اس دورے کی مخالفت کی ہے۔


واضح رہے کہ تسلیمہ ایک ایسی آزاد خیال مصنفہ ہیں جنھوں نے اپنے ناولوں سے اسلامی شریعت کی مخالفت کی ہے اور اس کا مذاق اڑایا ہے۔ وہ دوسرے مذاہب کے رسوم و رواج کی بھی مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناقدین صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی ہیں۔ وہ بزعم خود خواتین کے حقوق کی چمپئن ہیں۔ انھوں نے ہندو مذہب میں موجود متعدد رسوم و رواج کو برا بھلا کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاہب میں برداشت کا مادہ نہیں ہوتا۔ وہ خواتین کے حقوق کے بھی مخالف ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بنگال کے ہندو ووٹروں میں کیا ردعمل ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ چونکہ وہ مسلمانوں کے نشانے پر زیادہ رہی ہیں اس لیے ان طبقات کی جانب سے جو کسی بھی معاملے کو ہندو مسلم چشمے سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں، کوئی مخالفت نہیں کی جائے گی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کلکتہ میں منعقد ہونے والے اجلاس پر بنگلہ دیش حکومت کی نظر رہے گی اور وہ یہ دیکھنا چاہے گی کہ تسلیمہ کا کیسا اور کتنا خیرمقدم ہوتا ہے۔ ان کو مبینہ طور پر خواتین کے حقوق، مذہبی بنیاد پرستی اور سیکولرازم جیسے موضوعات پر ان کی تحریروں نے مخالفین کی ایک فوج پیدا کر دی ہے۔ 1993 میں آنے والے ان کے ناول لجا کی اشاعت کے نتیجے میں ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں 1994 میں انھیں بنگلہ دیش چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ انھوں نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد بنگلہ دیش میں ہونے والے فسادات کو ہندوؤں کے خلاف اسلامی بنیاد پرستوں کا تشدد قرار دیا تھا۔ 1994 میں متعدد مذہبی تنظیموں اور جماعتوں نے ان کے خلاف مہم چلائی اور ان کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت کی خالدہ ضیا حکومت نے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے الزام میں انھیں گرفتار کر لیا۔ ضمانت ملنے کے بعد انھوں نے بنگلہ دیش کو خیرباد کہا اور سویڈن چلی گئیں جہاں ان کو پناہ دے دی گئی۔


وہ کینسر کی مریضہ اپنی والدہ کے ہمراہ 1994 میں بنگلہ دیش واپس آئیں لیکن ابھی چند ہی ماہ ہوئے تھے کہ ان کے خلاف پھر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اس وقت کی شیخ حسینہ حکومت پر ان کی گرفتاری کے لیے دباؤ پڑنے لگا۔ اس کے بعد وہ ہندوستان آئیں اور انھوں نے کلکتہ میں قیام کیا۔ لیکن کلکتہ بھی ان کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ 2003 میں ان کا ناول ”دویکھنڈیتا“ آیا۔ جس پر مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں پابندی عاید کر دی گئی۔ 2005 میں یہ پابندی تو ہٹ گئی لیکن ان کے خلاف احتجاج جاری رہا جس کے سبب کلکتہ میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ فوج طلب کرنی پڑی اور نسرین کو کلکتہ چھوڑنا پڑا۔بنگال میں ممتا بنرجی کی حکومت کے قیام کے بعد تسلیمہ کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جانے لگی لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ لیکن اب جبکہ بی جے پی کی حکومت قائم ہو گئی ہے ان کی گھر واپسی کا امکان قوی ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کی گھر واپسی اس لیے ممکن نظر آ رہی ہے کہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کے جذبات کی کوئی پروا نہیں کر رہی ہے اور وہ چاہے گی کہ ایسا قدم اٹھائے جس سے مسلمانوں کو زک پہنچے۔ اگر سوویندو ادھیکاری تسلیمہ کو کلکتہ آنے سے روکیں گے تو اس کا یہ پیغام جائے گا کہ وہ بھی مذہبی انتہاپسندوں کے دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں۔ اور اگر انھوں نے اس کے برعکس قدم اٹھایا جیسا کہ وہ اٹھانے جا رہے ہیں تو اسے بنیاد پرستی مخالف قدم قرار دیا جائے گا۔ موجودہ بی جے پی حکومت نے ایسے متعدد اقدامات کیے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ لہٰذا اگر ریاستی حکومت بنگلہ دیش کو کوئی سگنل دے تو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ وہاں کی موجودہ حکومت کا تسلیمہ نسرین کے تعلق سے کیا موقف رہے گا ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف مذہبی طبقے کی جانب سے احتجاج نے ہی ان کی حکومت کا خاتمہ کرویا اور انھیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ لیکن طارق رحمان کی حکومت کی جانب سے اس بارے میں اپنی پوزیشن صاف نہیں کی گئی ہے۔


یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کی حکومت میں سردست امن و امان ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو حکومت مذہبی طبقے کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے یا پھر یہ طبقہ کمزور پڑ گیا ہے۔ ابھی وہاں کے مذہبی طبقے کی جانب سے بھی کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بھی بنگلہ دیش واپس جانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ دونوں خواتین واپس جانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بلا شبہ یہ ایک اہم واقعہ ہوگا۔ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی چاندی ہو گئی ہے اور ان کی گھر واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔