دہلی ایس آئی آر پر بڑا سوال: 11 لاکھ ووٹر فہرست میں کیوں شامل نہیں کیے گئے؟
دہلی میں ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام خارج ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کانگریس رہنما چھتر سنگھ نے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے شفافیت اور اہل ووٹروں کو دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے

دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرِ ثانی یعنی ایس آئی آر کے بعد سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر تقریباً 11 لاکھ ووٹروں کو انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے عمل سے باہر کیوں رکھا گیا؟ اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس سے پہلے ہی بڑی تعداد میں ووٹروں کے ناموں کی جانچ اور میپنگ کا عمل شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران کئی ناموں پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
پہلی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سامنے آنے کے بعد صورت حال مزید دلچسپ ہو گئی۔ دعویٰ ہے کہ تقریباً 47 لاکھ ووٹروں کے نام پہلے ڈرافٹ میں شامل نہیں کیے گئے، کیونکہ ان کے کاغذات یا تفصیلات میں کسی نہ کسی طرح کی کمی پائی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کا ووٹ کا حق کس بنیاد پر متاثر ہوا اور کیا انہیں اپنی تفصیلات درست کرانے اور دوبارہ فہرست میں شامل ہونے کا مناسب موقع دیا جائے گا؟
کانگریس کے سینئر رہنما چھتر سنگھ اس پورے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابی فہرست میں تبدیلی کا یہ عمل بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ تاہم یہ الزام سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
چھتر سنگھ کا دعویٰ ہے کہ بعض اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں کم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جہاں سے بی جے پی کامیاب ہوئی یعنی نریلا اسمبلی حلقے میں تقریباً 15 فیصد، تیمارپور میں تقریباً پونے نو فیصد اور آدرش نگر میں تقریباً ساڑھے چوبیس فیصد ووٹر کم ہوئے ہیں۔ براڑی اسمبلی حلقے میں، جہاں عام آدمی پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا تھا، ان کے مطابق یہ کمی بہت معمولی سی رہ جاتی ہے یعنی صفر عشاریہ 48 فیصد۔ ان کا الزام ہے کہ یہ سب سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بی جے پی جہاں سے کامیاب ہوئی وہاں ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے تو انہوں نے بتایا کہ اپنی جیت کو یقینی کرنے کے لئے انہوں نے ایسا کیا ہے۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ چھتر سنگھ کے مطابق گزشتہ اسمبلی انتخابات میں دہلی میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 56 لاکھ 26 ہزار 736 ووٹر تھے، جبکہ خصوصی گہری نظرِ ثانی کے دائرے میں آنے والے ووٹروں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 45 لاکھ 10 ہزار 299 تھی۔ ان میں سے بھی تقریباً 47 لاکھ نام پہلی ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں تھے۔ چھتر سنگھ کا سوال ہے کہ اگر ووٹروں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں نام کم کیسے ہو گئے؟
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کہ اگر گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہ لوگ ووٹر تھے تو اب ان میں سے اتنی بڑی تعداد کو نئی فہرست میں شامل نہ کیے جانے کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا ان تمام افراد کو اپنی شہریت، رہائش یا دیگر ضروری دستاویزات پیش کرنے کا یکساں اور شفاف موقع ملا ہے؟
اتنی بڑی تعداد میں ناموں کے متاثر ہونے کے باوجود عام لوگوں میں وہ بے چینی دکھائی نہیں دے رہی جس کی توقع کی جا سکتی تھی۔ چھتر سنگھ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عوامی سطح پر اس معاملے پر ابھی وہ ردعمل نہیں آیا، جس کی ایک وجہ وہ لوگوں کی روزمرہ کی مصروفیات کو قرار دیتے ہیں۔
دہلی کی آبادی میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 1941 میں دہلی کی آبادی تقریباً نو لاکھ تھی، جو 1951 میں بڑھ کر تقریباً 17 لاکھ ہو گئی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ محاجرین کی بڑی تعداد نے دہلی میں پناہ لی تھی۔ 2011 کی مردم شماری میں دہلی کی آبادی ایک کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ تھی۔ ایسے میں انتخابی فہرست میں ہونے والی کسی بھی بڑی تبدیلی کی شفافیت انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔
چھتر سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم آبادی والے علاقوں میں نسبتاً کم نام حذف ہوئے ہیں، جسے وہ ان علاقوں میں ووٹروں کی بیداری سے جوڑتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی اعداد و شمار کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
انتظار اب دوسری ڈرافٹ لسٹ کا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جن لوگوں کے نام پہلی فہرست میں شامل نہیں تھے، ان میں سے کتنے افراد دوبارہ ووٹر لسٹ میں جگہ بنا پاتے ہیں۔ کیونکہ معاملہ صرف 11 لاکھ یا 47 لاکھ ناموں کا نہیں، بلکہ ہر اہل شہری کے ووٹ کے حق اور انتخابی عمل کی شفافیت کا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
