بے ادبی قانون پر گھری پنجاب حکومت...ہرجندر
پنجاب میں بے ادبی کے خلاف سخت قانون لاکر بھگوت مان نے سیاسی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اکال تخت اور سکھ مذہبی حلقوں کی شدید ناراضگی نے حکومت کو نئے بحران میں دھکیل دیا

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگوت مان نے 13 اپریل، بیساکھی کے دن، پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا، جس کا واحد مقصد ’جاگت جوت شری گرو گرنتھ صاحب ستکار (ترمیمی) بل 2026‘ کو منظور کرانا تھا۔ اس قانون کے ذریعے گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کے معاملات میں پہلے سے کہیں زیادہ سخت سزاؤں کا انتظام کیا گیا۔ مان کو یقین تھا کہ یہ قدم ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی کارنامہ ثابت ہوگا۔
دراصل، یہ ترمیم 2008 کے اُس قانون کی توسیع ہے جو بنیادی طور پر گرو گرنتھ صاحب کی اشاعت، حفاظت اور رکھ رکھاؤ سے متعلق تھا۔ پنجاب میں بے ادبی کا مسئلہ نہایت حساس اور جذباتی مانا جاتا ہے، اسی لیے بھگوت مان نے بیساکھی جیسے مذہبی طور پر اہم دن پر خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جو وہ کام کر رہا ہے جس کا وعدہ برسوں سے دوسری حکومتیں کرتی رہی تھیں۔
نئے قانون میں کم از کم دس سال قید سے لے کر عمر قید تک کی سزا رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے تک جرمانے کا بھی التزام کیا گیا ہے۔ جرم کو ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولیس بنایا گیا، جبکہ سازش کرنے والوں کی جائیداد ضبط کرنے کا اختیار بھی انتظامیہ کو دے دیا گیا۔
پنجاب کی سیاست میں کوئی بھی جماعت ایسے قانون کی کھل کر مخالفت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ یہی وجہ رہی کہ عام آدمی پارٹی، کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی سمیت تمام بڑی جماعتوں نے بل کی حمایت کی اور اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ گورنر گلاب چند کٹاریا نے بھی فوری طور پر اپنی منظوری دے دی۔
لیکن یہ سیاسی کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چوبیس گھنٹے کے اندر ہی مختلف سیاسی جماعتوں نے قانون کے طریقۂ کار اور عجلت میں منظوری پر سوال اٹھانے شروع کر دیے۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ اراکین اسمبلی کو بل کی نقول پہلے سے فراہم نہیں کی گئیں۔ سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی اکال تخت نے بھی سخت اعتراضات ظاہر کیے۔ جتھہ دار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج نے کہا کہ بل کا مسودہ 11 اپریل کی رات تک تیار کیا جا رہا تھا۔
پنجاب کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس جلد بازی نے یہ تاثر دیا کہ حکومت وسیع مشاورت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں تھی۔ 14 اپریل تک مختلف سیاسی رہنماؤں نے سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ قانون سازی سے پہلے مذہبی اداروں اور قانونی ماہرین سے مناسب مشورہ کیوں نہیں لیا گیا۔ کانگریس نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی، جبکہ بی جے پی رہنماؤں نے مذہبی تنظیموں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اکالی دل کے بعض حلقے بھی مذہبی اعتراضات کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔
اسی دوران بھگوت مان حکومت نے اس قانون کی تشہیر کے لیے ریاست بھر میں ’شکرانہ یاترا‘ شروع کر دی، مگر اکال تخت نے قانون کی کئی اہم دفعات کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا۔ اکال تخت کا موقف تھا کہ گرو گرنتھ صاحب کی حرمت اور مذہبی ضابطوں سے متعلق فیصلے کرنے کا حق صرف اکال تخت اور شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی جیسے مذہبی اداروں کو حاصل ہے، اسمبلی کو نہیں۔
سب سے زیادہ تنازعہ اُس شق پر پیدا ہوا جس کے تحت گرو گرنتھ صاحب کی ہر ’بیڑ‘ کے لیے ڈیجیٹل رجسٹری اور منفرد شناختی نمبر لازمی قرار دیا گیا تھا۔ کئی مذہبی حلقوں نے کہا کہ مقدس گرنتھ کو شناختی نمبر دینا بھی بے ادبی کے مترادف ہے۔
اسی طرح ’نگراں‘ یا ’سرپرست‘ یعنی گرنتھیوں، پاٹھیوں اور گرودوارہ کمیٹیوں سے متعلق دفعات پر بھی شدید ناراضگی سامنے آئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ قانون ان افراد کو تحفظ دینے کے بجائے خود انہیں قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جس سے مذہبی خدمت انجام دینے والے افراد مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔
قانون میں استعمال ہونے والی بعض اصطلاحات بھی تنازعہ کا سبب بن گئیں۔ سکھ علما نے ’بیڑ‘ کے بجائے ’سروپ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر اعتراض کیا، جبکہ ’اسٹوریج‘ اور ’سپلائی‘ جیسے الفاظ کو مقدس گرنتھ کے لیے نامناسب قرار دیا گیا۔ گرو نانک دیو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جگروپ سنگھ سیکھوں نے بھی اس معاملے میں حکومت کے کردار پر تنقید کی۔ ان کے مطابق پنجاب میں بے ادبی اب ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے، جہاں ہر سیاسی جماعت خود کو سکھ مذہب کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ترلوچن سنگھ کا کہنا ہے کہ سکھ مذہب میں ’شبد‘ ہی گرو ہے اور خدا کے کلام کو کسی حکومت یا قانون کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ اقدام دراصل ووٹ بینک کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔
اکال تخت نے معاملے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں کو طلب کیا۔ بعد ازاں جتھہ دار نے پنجاب حکومت کو 15 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام دفعات واپس لی جائیں جو سکھ جذبات کے خلاف سمجھی جا رہی ہیں۔ اکال تخت نے بھگوت مان کی ’شکرانہ یاترا‘ کو ’تکبر یاترا‘ قرار دیا۔
گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران بے ادبی پنجاب کا نہایت حساس اور دھماکہ خیز مسئلہ بن چکی ہے۔ 2015 کے برگاڑی بے ادبی معاملے، جس میں گرو گرنتھ صاحب کے پھٹے ہوئے صفحات ملے تھے، نے پنجاب کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد بہبل کلاں اور کوٹکپورہ میں پولیس فائرنگ کے واقعات، جن میں دو مظاہرین مارے گئے، نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا اور اُس وقت کی اکالی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا۔
اسی کے بعد سے ہر سیاسی جماعت خود کو سکھ عقیدے کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں بے ادبی سے متعلق تقریباً 597 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ اس معاملے میں پنجاب ملک میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق گوا دوسرے نمبر پر ہے، لیکن کافی پیچھے۔ اس کے باوجود ان معاملات میں سزا کی شرح صرف 7 سے 9 فیصد کے درمیان رہی ہے۔
بھگوت مان نے جس اقدام کو اپنی سیاسی کامیابی اور ’ماسٹر اسٹروک‘ سمجھا تھا، وہ اب الٹا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس قانون نے پنجاب حکومت اور سکھ مذہبی قیادت کے درمیان ایک نئی خلیج پیدا کر دی ہے۔ پنجاب کی حالیہ سیاسی تاریخ کو دیکھیں تو یہ ایسی جنگ ہے جس میں اب تک کوئی بھی حکومت آسانی سے فتحیاب نہیں ہو سکی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
