بنگال سیکھ رہا ہے پوجا کا ’درست‘ طریقہ... چندرل بھٹاچاریہ
تہوار پر پابندی لگا دیجیے، کرفیو یا لاک ڈاؤن لگا دیجیے، اور دُرگا پوجا کے ان 5 دنوں کے لیے سب کو گھر میں بند رکھیے۔ دیوی سب کچھ جانتی ہیں۔ جانتی ہیں کہ بنگالیوں کو فکر کے لیے تنہائی کی ضرورت ہے۔
.jpg?rect=0%2C0%2C3600%2C2025&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
شیر کو تو بدلنا ہی پڑے گا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ درگا ایک خونخوار گوشت خور جانور پر سوار ہوں اور بھکتوں سے کہا جائے کہ وہ سخت سبزی خور بنے رہیں؟ اور ماں درگا جیسی پاک دیوی ایسے جانور کی سواری ہی کیوں کریں جو گوشت کھاتا ہو؟ وہ کسی کدو یا بینگن پر کیوں نہ بیٹھیں؟ ہاں، کچھ ستوتیوں میں رد و بدل ضرور کرنا پڑے گا، لیکن سنسکرت سمجھتا ہی کون ہے؟ کسی مولی کی تعریف اگر بھاری بھرکم شلوک میں کر دی جائے، چھند کچھ ٹیڑھا ہی کیوں نہ ہو، تو شکایت کون کرے گا؟
شروع میں دیوی ناراض ضرور ہوں گی۔ انہیں ایسی سواری کی عادت نہیں جو ان کے اشارے پر آگے ہی نہ بڑھے۔ لیکن اعلیٰ اخلاقی معیاروں کے آگے تو انہیں بھی سر جھکانا ہوگا۔ اور اگر وہ روٹھ ہی جائیں، تو کسی اودھم مچانے والے گینڈے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یا پھر کسی دیوہیکل میمتھ کے بارے میں؟ گنیش کو تو یہ قطعی پسند نہیں آئے گا اور دیویوں کی پوری کوریوگرافی بگڑ جائے گی۔ لیکن درگا کو شاید ایسا کام کرنے والا سبزی خور مل جائے جس پر وہ بھروسہ کر سکیں۔ جو جارح بھی ہو اور شاہانہ مزاج بھی۔ جو اپنی سونڈ میں مہیشاسُر کو جکڑ لے، اسے اٹھا کر پٹخ دے، پیروں تلے روند دے اور اپنے دانت اس بدکار ’اسُر‘ کے سینے میں اتار دے۔ واہ، کیا شاندار منظر ہوگا! اور ویسے بھی، کیا اب اس پرانی سواری کو بدل دینے کا وقت نہیں آ گیا ہے؟ بات ان ضدی بنگالیوں تک پہنچتی ہے۔
بنگالی بڑی عجیب قوم ہیں۔ جسم اور ذہن دونوں سے نہایت سست، خاص طور پر ذہن سے۔ ان کے دماغ میں اس سوچ کی کوئی جگہ نہیں کہ وقت کے ساتھ ہر چیز بدلنی چاہیے... بنگالیت بھی۔ تہوار کیوں اسی گھسے پٹے انداز میں منائے جائیں؟ انہیں یہ کیوں نہیں دکھائی دیتا کہ ان کی عقیدت خود احتسابی سے کوسوں دور ہے؟ انہیں لوگوں نے ایک نئی پارٹی کو منتخب کیا ہے، اور جب یہ پارٹی پورے جوش سے ایک نئے بنگال کی تخلیق میں مصروف ہے، تو ان کا جی متلا رہا ہے۔ کتنی کند اور ناشکری سوچ ہے!
اگر کسی نسل کو ایسا لگے کہ ان کی شناخت خالص گوشت خور ہونے پر قائم ہے، تو ان پر لگام کسنی ہوگی اور ضرورت پڑے تو ’جین ایڈیٹنگ‘ کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے۔ کتنے لوگ بنگالیوں کے طور طریقوں کو سدھارنے میں لگے ہیں... گالیاں دے کر، علم بگھار کر، فرمان سنا کر، ٹرول کر کے... لیکن بنگالی ہیں کہ کندھے اچکاتے ہیں اور انہی پرانے منتروں کا جاپ کرتے رہتے ہیں... ’کھانے کی آزادی‘، ’سوچ کی آزادی‘، ’آزادی کی آزادی‘، وغیرہ وغیرہ! لیکن کسی اخلاقی شہری کو وہی رائے ظاہر کرنی چاہیے جس پر حکومت کی مہر ہو۔ آزادی بس اتنی۔ یاد رکھیے، اب آپ ’ڈبل انجن‘ سے فیض یاب ہیں، اس لیے زیادہ الگ ہونے کا غرور نہ کریں۔
اگر آپ ہندوستانی ہیں، اور اگر اکثریتی ہندوستانی پوجا پاٹھ کے دنوں میں سبزی خور کھانا کھاتے ہیں، تو آپ کی ہمت کیسے ہوئی ایگ چکن رول چبانے کی؟ اس سے ’پرارتھنا‘ آلودہ ہوتی ہے، چڑھاوا بیکار جاتا ہے اور مرے ہوئے جانوروں کی اجتماعی بددعا جی ڈی پی کو ’پاتال‘ میں دھکیل دیتی ہے۔ وشو ہندو پریشد تو اتنی فیاض ہے کہ وہ پوجا کے دنوں میں ’نان ویج‘ پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی نہیں کر رہی۔ وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ پوجا پنڈالوں کے آس پاس کی جگہ تلے، ابلے یا کچے گوشت مچھلی کے نظارے سے آلودہ نہ ہو۔ ضابطہ واضح ہے: پوجا پنڈال کے 200 میٹر کے اندر ’تندوری پرون‘ نہیں فروخت کیا جائے گا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کھانے کے اسٹال لگانے والوں کو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس پنڈال سے 200 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں، جب 3 یا اس سے زیادہ پنڈال ایک دوسرے سے 200 میٹر سے کم فاصلے پر ہوں۔
تو کون ہٹے؟ پنڈال، دکانیں یا فرمان؟ اور اگر کھانے کا اسٹال مناسب فاصلے پر ہو، لیکن رسیلے کبابوں کا لطف لیتا کوئی گاہک کھاتے کھاتے پنڈال یا دیوی کے قریب پہنچ جائے تو؟ جواب آسان ہے: مت کھائیے، کھانے کے بارے میں سوچیے بھی مت۔ آخر یہ بھکتی اور آتما شدھی کا وقت ہے۔ بہتر ہوگا کہ دیوی کے سامنے دیش بھکتی سے بھری درخواستیں پیش کیجیے (ہندوستان چین کو پیچھے چھوڑ دے، یا ٹرمپ کا دل جیت لے، وغیرہ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بنگالی درگا پوجا کو ذائقے کی لالچ سے نجات اور ذاتی خواہشات سے توبہ کا موقع سمجھیں۔ مگر کسی بنگالی سے یہ کہہ کر تو دیکھیے) تقریباً طے ہے کہ آپ کو پلٹ کر منہ بھر ’میں کیا کھاؤں/ پہنوں/ سوچوں، میری مرضی‘ کا علم ہی ملے گا۔
---
پنڈال کی سجاوٹ میں آخر ’تھیم‘ کی کیا ضرورت؟ پوجا میں تخیل کی پرواز کب سے ضروری ہو گئی؟ پوجا میں ’تھیم‘ کا تصور اتنا اہم کیوں؟ پوجا میں سادگی سے سر جھکا دینا کافی نہیں؟ تخیل، تشریح، تجزیے کو روحانی سپردگی کے درمیان آنے کی کیا ضرورت؟
کیوں نہ اس سال ’سفید درگا پوجا‘ منائی جائے... رنگوں کی مدہوشی سے بالکل اچھوتی؟ سارے پنڈال سفید ہوں، مورتیاں اور روشنیاں بھی سفید، اور ان کی سنگت کرتی پاکیزہ، پرسکون بانسری... جس سے پوجا کی پاکیزگی کا احساس ہو۔ لیکن بنگالی پھر بھی بڑبڑائیں گے، ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ وہ پوجا کو اپنی صلاحیت دکھانے کا اسٹیج سمجھتے ہیں۔ وہ عصری واقعات پر اپنی بات بھی پوجا کے فن میں سرایت کر دینا چاہتے ہیں، عقیدت کی حدود سے بے پروا۔ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا!
تو سیدھے سیدھے کیوں نہ کہہ دیں کہ بنگال میں درگا پوجا دراصل مذہبی تہوار ہی نہیں، بلکہ یہ کئی دن تک جاری رہنے والی ایک پکنک ہے، ایک ایسی طویل چھٹی جب لوگ اپنی پریشانیاں بھول کر یار دوستوں سے ملنے، نئے کپڑوں میں سجنے سنورنے، گھومنے، گھر سے باہر کھانے اور بے مطلب اڈہ لگانے کا لطف لینا چاہتے ہیں۔ درگا پوجا تخلیقی توانائی سے دھڑکتی ایک عظیم فن نمائش بھی ہے، 5 دن کا میلہ۔ خوشی کا عظیم تہوار۔ یہی مسئلہ ہے! پوجا کا خوشی سے کیا لینا دینا؟ یہ خیال ہی بے وقوفانہ ہے۔ اور جہاں تک اس غرور کا سوال ہے کہ یہ فن دکھانے کا اسٹیج ہے، تو فن کے لیے میوزیم اور گیلریاں ہیں۔ اس سے زیادہ روحانیت مخالف اور کیا ہو سکتا ہے؟ توجہ بھٹکانے والے اس سارے ’فن‘ کو رگڑ رگڑ کر مٹا دینا چاہیے تاکہ پوجا وہ بن سکے جو مناسب ہے... سادہ، صاف ستھری، روحانی۔
اس ضدی بنگالی کو سمجھنا ہوگا کہ پوجا ’میں‘ کو مٹانے کا نام ہے، عیش و عشرت کا نہیں۔ مغربی بنگال کے سب سے بڑے تہوار کی تعریف کو اب سختی سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ بنگالیوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ آخر پوجا ہے کیا؟ عاجزی کے ساتھ دولت اور ثروت کی خواہش کرنا درست ہے، یا اپنے دشمنوں کی بے حرمتی کی خواہش بھی۔ لیکن لہجہ سنجیدہ ہونا چاہیے... کسی شوخ خرگوش کی طرح اچھلتے کودتے ہوئے نہیں!
پوجا کی اصل روح کیا ہے؟ وہ کیفیت جس میں آپ عقیدت اور سادگی کے تال میل کو سمجھیں، جب آپ کے دل میں سونا خریدنے، بیرون ملک گھومنے جیسی ترغیبات کا عیب نہ ہو۔ ان بنگالیوں کو کیا سزا دی جائے جنہوں نے اس واضح حقیقت کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا؟ تہوار پر پابندی لگا دیجیے۔ کرفیو لگا دیجیے، یا لاک ڈاؤن بھی، اور درگا پوجا کے ان 5 دنوں کے لیے سب کو گھروں میں بند رکھیے۔ دیوی سب کچھ جانتی ہیں، وہ جانتی ہیں کہ بنگالیوں کو غور و فکر کے لیے وقت اور تنہائی کی ضرورت ہے۔ خالی وقت میں وہ مکمل وندے ماترم بھی رٹ سکتے ہیں۔
(مضمون نگار چندرل بھٹاچاریہ کولکاتا میں مقیم نغمہ نگار، شاعر اور فلم ساز ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
