مصنوعی ذہانت اور تخلیقیت کا بحران... شیلندر چوہان

اگر انسان اپنی حساسیت، تجسس اور سماجی عزائم کو زندہ رکھتا ہے تو کوئی مشین اس کی تخلیقیت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اگر وہ ’زندگی‘ سے کٹ جاتا ہے تو اس کی تخلیقیت بغیر اے آئی کے بھی ختم ہو جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

مصنوعی ذہانت نے ہمارے عہد میں جتنی بحثیں پیدا کی ہیں، شاید ہی کسی دوسری ٹیکنالوجی نے پیدا کی ہوں۔ ایک طرف اسے انسانی تہذیب کی سب سے بڑی تکنیکی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، دوسری طرف اسے انسان کی فکری آزادی اور تخلیقی صلاحیت کے لیے سب سے بڑے بحران کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ہر شعبے میں یہ سوال موجود ہے کہ جب مشینیں لکھنے، تصویر بنانے، موسیقی تخلیق کرنے اور گفتگو کرنے لگی ہیں، تو انسان کی تخلیقی صلاحیت کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر کسی مصنف، فن کار یا مفکر کی تخلیقی توانائی ماند پڑ گئی ہے، تو کیا مصنوعی ذہانت اس کے لیے احیا کا ذریعہ بن سکتی ہے؟

اسے سمجھنے کے لیے تخلیق کی نوعیت، ٹیکنالوجی کی تاریخ اور انسان کی ذہنی ساخت کو ساتھ ساتھ دیکھنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آئی، اس کے ساتھ اندیشے بھی آئے۔ پرنٹنگ مشین کی ایجاد کے وقت کہا گیا کہ کتابیں ہاتھ سے لکھی ہوئی قلمی تحریروں کی عظمت کو ختم کر دیں گی۔ ٹائپ رائٹر آیا تو لگا کہ ہاتھ کی تحریر کو اپنانا ختم ہو جائے گا۔ کمپیوٹر آیا تو کہا گیا کہ انسان کی یادداشت کمزور ہو جائے گی۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ پر یہ تشویش ظاہر کی گئی کہ کتابیں غیر متعلق ہو جائیں گی۔ لیکن ان تمام ٹیکنالوجیز نے آخرکار اظہار کے نئے راستے کھولے۔ انہوں نے انسان کی تخلیقی صلاحیت کا خاتمہ نہیں کیا، بلکہ اس کی صورتیں بدل دیں۔


مصنوعی ذہانت ان سب سے مختلف ہے کیونکہ وہ محض ایک آلہ نہیں ہے۔ وہ زبان کی نقالی کرتی ہے، اسلوب کی نقل کرتی ہے، حوالوں کو جوڑتی ہے اور ایسے جوابات تیار کرتی ہے جو پہلی نظر میں انسان کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادیب، استاد، محقق اور صحافی سب سے زیادہ بے چین نظر آتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ برسوں کی مشق سے حاصل کیا گیا تحریری ہنر اب چند لمحوں میں مشین کے ذریعہ دہرایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تحریر اور تخلیق ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ الفاظ کا امتزاج تخلیق نہیں ہے۔ زبان کا بہاؤ بھی تخلیق نہیں ہے۔ تخلیق وہاں شروع ہوتی ہے جہاں تجربہ تخئیل سے ملتا ہے اور احساس فکر کی شکل اختیار کرتی ہے۔ کسی نظم، کہانی یا ناول کی پیدائش صرف الفاظ سے نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے زندگی کے بے شمار تجربات، یادیں، جدوجہد، شکستیں، محبت، تنہائی، امید اور مزاحمت کام کرتی ہیں۔ یہی وہ میدان ہے جہاں مصنوعی ذہانت اب بھی انسان کا متبادل نہیں بن سکتی۔


مصنوعی ذہانت کے پاس معلومات کا وسیع ذخیرہ ہے، لیکن اس کا اپنا کوئی بچپن نہیں، کوئی یادداشت نہیں، کوئی ذاتی دکھ نہیں۔ اس نے کبھی بھوک نہیں دیکھی، بے دخلی نہیں جھیلی، محبت میں ناکام نہیں ہوئی، کسی عزیز کی موت کا غم نہیں سہا، کسی سماجی ناانصافی کے خلاف خطرہ مول لے کر جدوجہد نہیں کی۔ وہ دستیاب مواد کی بنیاد پر ممکنہ زبان تخلیق کرتی ہے۔ اسی لیے اس کی تحریر عموماً منظم، قواعد و زبان سے بھرپور اور متاثر کن ہوتی ہے، لیکن اس میں وہ تپش نہیں ہوتی جو انسان کے زندہ تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔

پھر بھی یہ کہنا کہ مصنوعی ذہانت صرف تخلیقی صلاحیت کو تباہ کرے گی، حقیقت کو سادہ بنا دینا ہوگا۔ ادب کی تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً ہر مصنف ایسے دور سے گزرتا ہے جب اس کی تخلیقی صلاحیت جیسے رک جاتی ہے۔ انگریزی میں اسے ’رائٹرز بلاک‘ کہا جاتا ہے۔ اردو میں اسے ’تخلیقی رکاوٹ‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ صرف نئے مصنفین کا مسئلہ نہیں ہے۔ عالمی ادب کے بہت سے بڑے تخلیق کاروں نے طویل خاموشی کے ادوار دیکھے ہیں۔


اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ ذہنی تھکن، سماجی تنہائی، معاشی دباؤ، خاندانی کشیدگی، خود اعتمادی کا زوال، زندگی کے تجربات کی تکرار، بیماری، بڑھتی عمر یا یہ احساس کہ جو کہنا تھا وہ پہلے ہی کہا جا چکا ہے۔ کئی بار مصنف اپنی ہی کامیابیوں کا قیدی بن جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ تحریروں سے آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔

ایسے وقت میں مصنوعی ذہانت حریف نہیں، معاون بن سکتی ہے۔ اگر مصنف کے اندر خیالات موجود ہیں، لیکن انہیں منظم کرنے کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے، تو مصنوعی ذہانت ابتدائی خاکہ تیار کرنے، مواد جمع کرنے، حوالوں کی طرف اشارہ کرنے، متبادل ساختیں تجویز کرنے، زبان کو سنوارنے اور دلائل کو ترتیب دینے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے بڑا خطرہ بھی چھپا ہوا ہے۔ اگر مصنف مصنوعی ذہانت کو معاون کے بجائے اپنا متبادل بنا لیتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کی انفرادیت کم ہونے لگے گی۔ ایسی صورت حال میں زبان خواہ خوب صورت رہے، لیکن اس کے اندر زندگی کی دھڑکن ختم ہو جائے گی۔ ادب کی سب سے بڑی طاقت اس کی صداقت ہے۔ اگر تخلیقات صرف شماریاتی امکانات پر مبنی زبان سازی بن کر رہ جائیں گی، تو وہ معلومات تو دیں گی، لیکن انسان کے اندر تبدیلی کا عمل پیدا نہیں کر پائیں گی۔


مصنوعی ذہانت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اظہار کو جمہوری بنانے میں معاون ہو سکتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے پاس خیالات تو ہوتے ہیں، لیکن زبان پر کافی عبور نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ جسمانی معذوری، بصارت کی کمزوری یا لسانی دشواریوں کے باعث اپنی بات مؤثر طریقے سے نہیں لکھ پاتے۔ مصنوعی ذہانت ان کے لیے معاون آلہ بن سکتی ہے۔ اس سے ادب اور علم کی دنیا میں ایسی بہت سی نئی آوازیں شامل ہو سکتی ہیں جنہیں پہلے موقع نہیں مل پاتا تھا۔

آنے والے وقت میں ادب کے سامنے ایک نیا اخلاقی سوال بھی کھڑا ہوگا۔ قاری صرف یہ نہیں پوچھے گا کہ تخلیق اچھی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی جاننا چاہے گا کہ اس میں مصنف کی حقیقی شراکت کتنی ہے۔ آخرکار سوال مصنوعی ذہانت کا نہیں، انسان کا ہے۔ اگر انسان اپنی حساسیت، تجسس اور سماجی عزائم کو زندہ رکھتا ہے، تو کوئی مشین اس کی تخلیقی صلاحیت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اگر وہ خود تجربہ کرنا چھوڑ دیتا ہے، پڑھنا چھوڑ دیتا ہے اور زندگی سے کٹ جاتا ہے، تو اس کی تخلیقی صلاحیت مصنوعی ذہانت کے بغیر بھی کمزور ہو جائے گی۔


مصنوعی ذہانت دراصل مصنف کے سامنے ایک چیلنج رکھتی ہے۔ وہ اس سے پوچھتی ہے کہ تمھارے پاس ایسا کیا ہے جو کسی الگوردم کے پاس کبھی نہیں ہو سکتا؟ اس کا جواب زبان نہیں ہے، کیونکہ زبان کی نقالی ممکن ہے۔ جواب اسلوب بھی نہیں ہے، کیونکہ اسلوب کی نقل کی جا سکتی ہے۔ جواب ہے... زندگی کا حاصل کردہ تجربہ، اخلاقی بصیرت، تخئیل کی آزاد پرواز، انسانی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور مستقبل کا خواب دیکھنے کی صلاحیت۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی عظیم تخلیق کو جنم دیتے ہیں۔

اس لیے مصنوعی ذہانت کو خوف یا جوش، دونوں انتہاؤں سے بچ کر دیکھنا چاہیے۔ نہ وہ ادب کی دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ وہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اسے کون اور کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ایک باشعور مصنف کے ہاتھوں میں وہ مطالعہ، تحقیق، تدوین اور نظرثانی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن ایک سست مصنف کے ہاتھوں میں یہی ذریعہ انفرادیت کے زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


جن مصنفین کی تخلیقی صلاحیت ماند پڑ گئی ہے، ان کے لیے مصنوعی ذہانت احیا کا مفید ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن احیا کا حقیقی سرچشمہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں سے رہا ہے... زندگی کا گہرا مشاہدہ، مسلسل مطالعہ، خود سے جدوجہد، معاشرے کے تئیں ذمہ داری اور انسان کے لیے اٹوٹ حساسیت۔ مصنوعی ذہانت مصنف کو دوبارہ لکھنے کی تحریک دے سکتی ہے، اس کے خیالات کو منظم کر سکتی ہے اور اس کے فکری افق کو وسیع کر سکتی ہے، لیکن کسی تخلیق میں جان ڈالنے کا کام آج بھی صرف انسان کا زندہ تجربہ ہی کر سکتا ہے۔ یہی تجربہ ادب کو ادب بناتا ہے اور یہی وہ میدان ہے جہاں انسان کی تخلیقی صلاحیت اب بھی منفرد، ناقابل تغیر اور ناقابل شکست ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔