افغانستان: انسانی حقوق اور مہاجرین کا سنگین بحران
افغان خواتین کو ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا جا رہا ہے، آئی سی سی نے چار طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے ہیں، اور لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی نے معاشی بحران مزید بڑھا دیا ہے

افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین کو لباس کے قوانین کی خلاف ورزی پر مسلسل حراست میں لیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی ریکارڈ وطن واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔یہ لوگ بے روزگاری اور رہائش جیسی سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے تناظر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم ظلم و ستم پر طالبان کے چار اعلیٰ ترین رہنماؤں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں۔ جبکہ، افغانستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں نے پائیدار امداد، بحالی کے اقدامات اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
شدید انسانی بحران
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان شدید انسانی حقوق اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ اور آئی سی سی کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ پیش رفتوں نے ملک میں جاری اس دوہرے بحران کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں ایک طرف خواتین پر اندرونی پابندیاں انتہائی سخت کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف پڑوسی ممالک سے لاکھوں مہاجرین کی واپسی کا ایک نیا چیلنج سامنے آ چکا ہے۔ آئی سی سی اور اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس افغانستان کی موجودہ صورتحال، قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔
صنفی بنیادوں پر مظالم
آئی سی سی نے 5اکتوبر 2026 کو طالبان کے چار سینئر رہنماؤں کے خلاف گرفتاری وارنٹ عام کر دیے۔ ان رہنماؤں میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم شامل ہیں۔ عدالت نے ان چاروں افراد کو انسانیت کے خلاف جرم یعنی "صنفی بنیادوں پر مظالم" کا مجرم قرار دینے کے معقول دلائل پائے ہیں۔ عدالت کی تحقیقات کے مطابق، یہ جرائم 15 اگست 2021 (طالبان کے اقتدار سنبھالنے) سے لے کر کم از کم 20 جنوری 2025 کے درمیان کیے گئے۔ آئی سی سی کے ججز نے نشان دہی کی کہ طالبان کا یہ نظام اور پالیسی بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی شدید خلاف ورزیوں سے جڑی ہے، جس میں قتل، قید، تشدد، ریپ اور جبرًا گمشدگی جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
اس قانونی پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آئی سی سی نے نہ صرف خواتین، لڑکیوں اور طالبان کی صنفی پالیسیوں کی پاسداری نہ کرنے والے افراد پر مظالم کو نشانہ بنایا، بلکہ "خواتین اور لڑکیوں کے حامیوں"کو بھی سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ روم اسٹیٹیوٹ (منشور) میں صنفی مظالم کی تعریف محض حیاتیاتی جنس تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں سماجی طور پر طے شدہ کردار، توقعات، اور درجہ بندی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صنفی مظالم میں صرف براہ راست تشدد ہی نہیں بلکہ نظامی اور ادارہ جاتی مظالم اور امتیازی سماجی ضوابط کا نفاذ بھی شامل ہے۔
لباس پر گرفتاریوں کا سلسلہ
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن(یوناما) نے 8 اکتوبر 2026 کو تصدیق کی کہ جولائی اور ستمبر کے درمیان ہرات اور کابل میں کم از کم 52خواتین اور ایک لڑکی کو طالبان حکام نے گرفتار یا حراست میں لیا، جبکہ دیگر خواتین کو گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں۔ خوف اور بدنامی کے باعث حقیقتاً یہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ گرفتاریوں کی بنیادی وجوہات میں چادر نہ اوڑھنا یا بال نظر آنا، رنگ برنگے اسکارف یا میک اپ کا استعمال کرنا، محرم (مرد سرپرست) کے بغیر عوامی مقامات پر جانا شامل ہیں۔
حراست میں لی گئی خواتین کو چند گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم اس دوران بدکلامی، تشدد اور دھمکیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں خاتون دکانداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ مشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خواتین کی آزادانہ نقل وحرکت، اظہارِ رائے اور ذاتی خودمختاری کی سخت خلاف ورزی ہیں۔یہ طالبان حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنانے والے امتیازی نفاذ کے طریقوں کو فوری طور پر بند کریں، تمام افغانوں کے انسانی حقوق اور وقار کا احترام یقینی بنائیں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت افغانستان کی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
لاکھوں مہاجرین کی واپسی
خواتین پر اندرونی پابندیوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کو مہاجرین کی واپسی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے اب تک ایران اور پاکستان سے تقریباً 65لاکھ افغان باشندے واپس لوٹ چکے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں واپسی جہاں حقوق سلب ہیں، حالات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ آئی او ایم کی رپورٹ کے اہم شماریاتی حقائق درج ذیل ہیں:
• 82 فیصد لوٹنے والے افراد مکمل خاندانوں کی صورت میں واپس آئے، جن کے کنبے کا اوسط سائز 6.1افراد پر مشتمل ہے۔
• 58 فیصد لوٹنے والے افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
• 53 فیصد (14 سال یا اس سے زائد عمر کے) افراد نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ہے، جبکہ 50 فیصد لوگ کسی بھی مخصوص تجربے یا ہنر سے بالکل محروم ہیں۔
• 77 فیصد افراد عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں جبکہ 51 فیصد کے پاس رہنے کی کافی جگہ موجود نہیں ہے۔
• 43 فیصد افراد کے پاس ضروری بنیادی خدمات تک رسائی کے لیے درکار دستاویزات کا فقدان ہے۔ صرف 21 فیصد خاندانوں کے تمام افراد کے پاس مکمل دستاویزات موجود ہیں۔
آئی او ایم کی کنٹری چیف میہیونگ پارک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مہاجرین کی واپسی جس پیمانے اور رفتار سے ہو رہی ہے، اس کے لیے مسلسل امداد کی ضرورت ہے۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے لوٹنے والے افراد یہیں رہنے اور اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ان کی یہ صلاحیت روزگار، محفوظ پناہ گاہ، دستاویزات اور بنیادی خدمات تک رسائی پر منحصر ہے۔
استحکام اور اجتماعی ترقی
افغانستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نظام کے تحت کیے جانے والے انسانی حقوق کی پامالی اور 65 لاکھ سے زائد مہاجرین کا شدید معاشی و انسانی بحران ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایک طرف خواتین کو بنیادی شہری و تعلیمی حقوق سے محروم کر کے معاشرے سے الگ تھلگ کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف غیر تعلیم یافتہ نوجوان نسل اور ہنر سے محروم افراد کی اتنی بڑی تعداد میں وطن واپسی ملک کے وسائل پر شدید بوجھ ڈال رہی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بین الاقوامی قانونی اقدامات اور عارضی امداد کے ساتھ، انسانی حقوق اور خواتین کی آزادیوں کو بحال کرنا ہوگا تبھی افغانستان میں پائیدار استحکام اور اجتماعی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
