عبدالعزیز انصاری: تحریکِ آزادی کا گمنام مجاہد، جس نے وطن سے وفاداری کی مثال قائم کی...شاہد صدیقی علیگ
عبدالعزیز انصاری مجاہدِ آزادی، قانون داں اور سماجی مصلح تھے۔ انہوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور تقسیم کے بعد پاکستان کی پیشکش ٹھکرا کر ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی

ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں بہت سی ایسی شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا جن کی قربانیوں اور خدمات کو تاریخ کے صفحات میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھیں۔ عبدالعزیز انصاری بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ تعلیم، قانون، انتظامیہ، سیاست اور سماجی اصلاح کے میدانوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
عبدالعزیز انصاری کی ولادت 3 نومبر 1889ء کو غازی پور کی مردم خیز سرزمین کے قصبے یوسف پور میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام مولوی عبدالکریم انصاری اور والدہ کا نام احمدی بی بی تھا۔ ان کا خاندان مشہور مجاہدِ آزادی اور انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر ڈاکٹر مختار احمد انصاری سے قریبی رشتہ داری رکھتا تھا۔ عبدالعزیز کی پرورش ایک ایسے علمی، ادبی اور مذہبی ماحول میں ہوئی جس نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم غازی پور میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (ایم اے او کالج)، علی گڑھ میں داخلہ لیا۔ سرسید احمد خان کی قائم کردہ اس درس گاہ نے ان کی علمی استعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر سماجی خدمت اور سیاسی شعور کو بھی پروان چڑھایا۔ انہوں نے انگریزی میں ایم اے اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ضلع بارہ بنکی میں وکالت کا آغاز کیا۔
1912ء میں جب یورپی طاقتوں کی پشت پناہی سے بلقان کی ریاستوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ چھیڑی تو ہندوستانی مسلمانوں میں ترکی کی حمایت میں زبردست جذبات پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری کی قیادت میں ایک طبی امدادی وفد 10 دسمبر 1912ء کو ترکی روانہ ہوا۔ عبدالعزیز انصاری بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ اس مشن میں ان کی شرکت ان کے انسانی جذبے اور بین الاقوامی حالات سے وابستگی کی عکاس تھی۔
1921ء میں تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون کے دوران انہوں نے سرگرمی سے حصہ لیا۔ انگریز حکومت نے ان کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں گرفتار کر لیا اور ایک سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ میانوالی جیل میں ان کی ملاقات پاجا خان سے ہوئی، جو بعد میں سرحدی گاندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔ رہائی کے بعد عبدالعزیز انصاری نے دوبارہ وکالت شروع کی۔
1930ء میں ان کی قانونی قابلیت، ذہانت اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ریاست رام پور میں جج مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے کلکتہ میں ایسٹرن فیڈرل یونین انشورنس کمپنی کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ یہ ملک کی ابتدائی مسلم انشورنس کمپنیوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کمپٹرولر آف انشورنس کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔
تقسیمِ ہند کے وقت عبدالعزیز انصاری کی حب الوطنی کا ایک اہم پہلو سامنے آیا۔ محمد علی جناح نے انہیں ذاتی طور پر پاکستان آنے اور وہاں خدمات انجام دینے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنے آبائی وطن ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ان کا یہ فیصلہ اس بات کا اظہار تھا کہ ان کے لیے وطن سے وابستگی کسی سیاسی یا مذہبی تقسیم سے بالاتر تھی۔
1953ء سے 1955ء تک وہ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ کلکتہ کے ایک تعلیمی مسلم ادارے کی سربراہی بھی کی۔ سرکاری اور انتظامی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد کچھ عرصہ علی گڑھ میں گزارا اور پھر اپنے آبائی وطن یوسف پور واپس آگئے۔ یہاں انہوں نے اپنی زندگی کو سماجی، دینی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔
1958ء میں انہوں نے ڈاکٹر مختار احمد انصاری میموریل سوسائٹی قائم کی۔ ان کی اس کوشش کا نتیجہ ڈاکٹر ایم اے انصاری انٹر کالج کے قیام کی صورت میں سامنے آیا، جو علاقے میں تعلیمی فروغ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا۔
عبدالعزیز انصاری نے اپنی زندگی کے تقریباً 96 برس گزارے۔ 10 جون 1985ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں دیانت داری، اصول پسندی اور خدمتِ خلق کی مثال قائم کی۔
ان کی یہ روشن روایت ان کی اولاد نے بھی آگے بڑھائی۔ ان کے صاحبزادوں میں محمد حامد انصاری، سابق نائب صدر جمہوریہ ہند، خالد انصاری، آئی اے ایس افسر اور آندھرا پردیش کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، نیز حارث انصاری، سابق وائس چیئرمین انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آئی آر ڈی اے) شامل ہیں۔ ان شخصیات نے بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دیں۔
عبدالعزیز انصاری کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تحریکِ آزادی کی تاریخ صرف چند معروف رہنماؤں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایسے بے شمار گمنام کردار بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتیں، وقت اور زندگی ملک کے لیے وقف کر دی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی قربانیوں اور خدمات کو تاریخ میں مناسب مقام دیا جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
