عامر سلیم خان: شریف النفس صحافی، عالم و فاضل اور ایک کہنہ مشق شاعر

جہاں اردو صحافیوں کا معاملہ محض خبر تک محدود رہا کرتا ہے اس کے برعکس عامر سلیم مذہبی گفتگو، صحافت، شاعری سے لیکر سیمناروں میں مقالات تک پیش کیا کرتے تھے، ان کا اسلوب سادہ تھا لیکن تہہ داری تھی

مشہور نوجوان صحافی عامر سلیم خان کی فائل تصویر
مشہور نوجوان صحافی عامر سلیم خان کی فائل تصویر
user

سید عینین علی حق

کچھ لمحات وہ ہوتے ہیں جس میں آپ کا وجود مکمل طور پر فالج زدہ محسوس ہوتا ہے اور آپ کچھ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ راقم الحروف کے وجود میں گھنی تاریکیوں کا بسیرا ہے اور ہمیشہ کے لیے ناپید ہو چکی عامر سلیم بھائی کی دلکش مسکراہٹیں۔ عامر سلیم کو دلی گیٹ کے قریب واقع تاریخی قبرستان مہدیان میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔ یہ وہی قبرستان ہے جس میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپ کے والد حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی، مملوک علی نانوتوی، مجاہد آزادی علامہ حفظ الرحمن سیوہاروی، عتیق الرحمن عثمانی اور شاعر تغزل مومن خان مومنؔ کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں علماء، صوفیاء اور علم و ادب کی ناقابل فراموش شخصیات دفن ہیں۔

یہ ایام عامر سلیم کے چاہنے والوں کے لیے کافی سخت ہیں، ان کے گھر والوں کی کیا حالت ہوگی، تصور کیا جا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ جاں کنی کی صورت حال یہ ہے کہ عامر سلیم کی اہلیہ اور ان کے چھوٹے چھوٹے تین بچے 'ابان'، 'امان'، اور 'ایان'، جن میں سب سے بڑا بیٹا قریب چودہ برس کا ہوگا۔ کسی کی ساری زندگی مدد تو نہیں کی جا سکتی البتہ اپنے خلوص و محبت کا اظہار کرتے ہوئے کچھ کوششیں ضرور کی جا سکتی ہیں تاکہ عامر بھائی کے بچوں کی تعلیم کے راستے آسان ہو سکیں۔ اردو صحافیوں کے مالی حالات کیا ہوتے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات تو ہے نہیں۔ عامر سلیم خان کے والد چودھری سلیم خان بھی گزشتہ ایک ماہ قبل دہلی میں ہی میں انتقال کر گئے تھے اور اب تک عامر بھائی اس صدمے سے نکل نہیں سکے تھے۔ 9 دسمبر رات تقریباً 11 بجے عامر بھائی کو دل کا دورہ پڑا اور دہلی کے جی بی پنت اسپتال میں داخل کرائے گیے، تبھی سے وہ وینٹلی لیٹر پہ تھے، آخر کار آج 12دسمبر بروز پیر دوپہر تقریباً ایک بجے انہوں نے آخری سانس لی اور اپنے چاہنے والوں کو روتا بلکتا ہوا چھوڑ گیے۔


عامر سلیم خان کی مختصر زندگی پر روشنی ڈالی جائے تو وہ 1974 میں اتر پردیش کے ضلع بستی میں واقع قصبہ 'کوہڑا' میں پیدا ہوئے اور اعلی تعلیم کی غرض سے غالباً 1987 میں دہلی کا رخ کیا۔ جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی اور مدرسہ ریاض العلوم، جامع مسجد دہلی سے فضیلت کی سند حاصل کی۔ میدان صحافت میں بھی ایک طویل عرصہ گزارا۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ ہندوستان ایکسپریس میں 2006 سے 2008 تک رہے۔ اس کے بعد 2008 سے تاحال روزنامہ 'ہمارا سماج' میں صحافتی ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ رپورٹر سے لیکر ایڈیٹر تک کا سفر طے کیا۔ ساتھ ہی عامر سلیم کی یہ سعادت رہی کہ انہوں نے مدرسہ رحیمیہ مہدیان، دہلی میں استاذ کے فرائض انجام دیے اور دفتر انچارج بھی رہے۔ مدرسہ رحیمیہ دہلی کی وہ قدیمی درس گاہ ہے جس کی بنیاد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے والد محترم حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی نے اورنگزیب کے دور حکومت میں رکھی تھی۔ والد کے انتقال کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ اور آپ کے صاحبزادے شاہ عبدلعزیز محدث دہلوی بھی اس درس گاہ میں تعلیم دیا کرتے تھے۔

عامر سلیم کی حیثیت محض ایک صحافی کی نہیں تھی بلکہ وہ ایک عالم و فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کہنہ مشق شاعر بھی تھے اور سادہ سلیس شستہ نثر بھی لکھتے تھے۔ ان کی شاعری پر صحافتی رنگ غالب تھا۔ سیاسی شخصیات اور انتظامیہ پر ان کا طنزیہ لہجہ قابل توجہ ہوا کرتا تھا، نمونے کے طور پر ان کا ایک شعر ملاحظہ کریں:

میں عدلیہ کی دو رنگی پہ اب بھی حیراں ہوں

سزا مجھے ہے ملی جب کہ جرم اس نے کیا

عامر سلیم سہل ممتنع میں اپنے کلام کہا کرتے اور سماج کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ عامر سلیم بھائی نے نعت گوئی میں بھی طبع آزمائی کی، ان کی نعت کا ایک مصرع:

جب نعت لکھوں حضرت حسان کی صورت

ہر لفظ میں تاثیر ہو قرآن کی صورت


عامر سلیم اپنے مزاج کے منفرد انسان تھے، وہ دوسروں کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کی خوش مزاجی کا نتیجہ ہی تھا کہ ان کا ہر ساتھی ان سے ہنسی مزاق کے موقعے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے کبھی سینئر اور جونیئر کی تفریق نہیں رکھی، ورنہ صحافیوں کے حالات تو یہ ہیں کہ کچھ دن جرنلزم میں گزرنے کے بعد یا عہدے ملنے کے بعد اپنے سابقہ ساتھیوں کو پہنچانا تک گوارہ نہیں کرتے۔ لیکن عامر سلیم اس فطرت کے قطعی نہیں تھے۔ ان کے ساتھیوں کی طویل فہرست ہے، کیوں کہ ان کا کوئی دشمن تھا ہی نہیں۔ ان کی خوش اخلاقی کا عالم یہ تھا کہ کوئی ایک بار ان سے ملتا تو ان کا گرویدہ ہو جایا کرتا تھا۔ عامر سلیم مسلکی اختلافات سے پرہیز کیا کرتے تھے۔ بلکہ جن باتوں سے اختلافات کا شائبہ بھی محسوس ہوتا اسے نظر انداز کر دیا کرتے۔ دراصل لکھنے کے معاملے میں عامر بھائی توازن برتتے تھے لیکن اپنی بات کہنے سے گریز نہیں کرتے، اشاروں کنایوں میں اپنی بات کہہ دیا کرتے تھے، ان کی تحریروں کا وصف طنزیہ لہجہ تھا اور حکومتوں کے خلاف تو کھل کر لکھا کرتے تھے۔ ان کی آخری رپورٹ ’یکساں سول کوڈ‘ کے تعلق سے قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس ارون مشرا کے موقف کے حوالے سے ہے، جس میں ان کی خبر نگاری کا لہجہ دیکھا جاسکتا ہے۔

جہاں اردو صحافیوں کا معاملہ محض خبر تک محدود رہا کرتا ہے اس کے برعکس عامر سلیم مذہبی گفتگو، صحافت، شاعری سے لیکر سیمناروں میں مقالات تک پیش کیا کرتے تھے، ان کا اسلوب سادہ تھا لیکن تہہ داری تھی۔ انہیں مختلف تقریبات میں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جن میں اردو پریس کلب صحافت کے سرتاج ایوارڈ، دہلی حج کمیٹی وغیرہ شامل ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔