ایک سخت گیر آمرانہ ریاست کو بالآخر ہمارے نوجوانوں کی پُرجوش عوامی مزاحمت کا سامنا... آکار پٹیل

حکومت کو سیاہ زرعی قوانین بالآخر منسوخ کرنے میں پورا ایک سال لگ گیا، اور یہ مہینے اس لیے ضائع ہوئے کہ بادشاہ عوام کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا دکھائی نہیں دینا چاہتا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>مظاہرہ کے لیے نکلے نوجوان کو پکڑتی ہوئی دہلی پولیس، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i

ہمارے پاس جمہوریت کے 3 ذرائع ہیں: ووٹ، عدالت اور احتجاج۔ ان میں سے واحد ذریعہ جس پر ہندوستانی عوام کا حقیقی اختیار ہے، وہ احتجاج ہے۔ ووٹ ڈالنے کو جمہوریت کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے، گویا انتخابات کے درمیان جمہوریت ختم ہو جاتی ہے۔ کئی دہائیوں تک ہندوستان میں انتخابی عمل کی ساکھ اور وقار میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، لیکن وہ دور اب ہمارے پیچھے رہ گیا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ 18 سال سے زیادہ عمر کا ہر ہندوستانی، جو ’اس آئین یا مناسب مقننہ کے بنائے ہوئے کسی قانون کے تحت غیر رہائش، ذہنی عدم توازن، جرم یا بدعنوانی یا غیر قانونی عمل کی بنیاد پر نااہل قرار نہ دیا گیا ہو‘، وہ کسی بھی انتخاب میں ووٹر کے طور پر درج ہونے کا حق دار ہوگا۔

موجودہ انتخابی کمیشن کے لیے یہ ہدایت کسی تجویز سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اس نے، یقیناً حکومت کے حکم پر، یہ فرض کر لیا کہ کروڑوں لوگوں کو بلاوجہ ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کی اس کی مشق بلا روک ٹوک جاری رہے گی۔ گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران اس نے جتنی بار اپنے فیصلوں کو واپس لیا اور وضاحتیں جاری کیں، ان کا جائزہ لینے سے تقریباً ایک درجن اقدامات کی فہرست سامنے آتی ہے۔


ان میں گزشتہ خصوصی حق رائے دہی سے محروم کرنے کی مہم میں چھوٹ جانے والے لوگوں کو شامل کرنے کے لیے ’خصوصی اندراج مہم‘ بھی شامل ہے۔ پھر بعض لوگوں کا نام اعلانیہ طور پر ختم کرنا، دوسرے لوگوں کو ذاتی طور پر حاضر ہونے سے استثنا دینا، خامیوں والے سافٹ ویئر کا جائزہ لینا، ووٹروں کے خلاف تیسرے فریق کے افراد کی جانب سے اعتراضات دائر کرنے کے بدنیتی پر مبنی عمل کو محدود کرنا، لیکن مکمل طور پر ختم نہ کرنا، شامل ہے۔ اور یقیناً ان میں متاثرین بیشتر مسلمان ہی ہیں۔ اس کے بعد ریڈیبل ووٹر لسٹ متعارف کرانے کا معاملہ ہے، حالانکہ اب تک محض شفافیت کے فقدان کی وجہ سے ان کی مخالفت کی جاتی رہی۔ اور اب نجی اسکولوں کے اساتذہ سے وہ اضافی کام کرایا جا رہا ہے جو بے بس سرکاری اسکولوں کے اہلکار گھر گھر جا کر کر رہے تھے، اور اس کے علاوہ بھی کئی کام ہیں۔

ان اقدامات کی تعداد اس عجلت اور لاپروائی کو ظاہر کرتی ہے جس کے ساتھ یہ مہم شروع کی گئی تھی۔ جس تیزی سے یہ اقدامات سامنے آ رہے ہیں، وہ گھبراہٹ کو عیاں کرتی ہے۔ اس انکشاف سے بھی شاید ہی کسی کو حیرت ہوئی ہو کہ فیصلے کرتے وقت کمیشن کی اکثریت کی رائے کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ کیا بعد میں کی گئی یہ اصلاحات، فیصلوں سے دست برداری اور نظرثانی اس گڑبڑ کو دور کر دیں گی؟ ہرگز نہیں۔ ہم پہلے ہی ہندوستانی شہریوں کی کئی سطحوں میں تقسیم ہو چکے ہیں: کچھ ووٹر ہیں، کچھ کے نام فہرست سے کاٹ دیے گئے ہیں، کچھ اپیل کے مرحلے میں ہیں، کچھ کو اپنی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، کچھ کی کسی کو پروا نہیں اور کچھ فیصلے کے منتظر ہیں۔


گندگی کے اس ڈھیر کو مکمل طور پر اس عمل کو واپس لیے بغیر کسی اور طریقے سے صاف نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کہ اب جبکہ انتخابات ہو چکے ہیں، اس اقدام سے بھی انتخابی جواز کے مسائل پیدا ہوں گے، مثلاً بنگال میں۔ یہ گڑبڑ اس قدر وسیع ہے کہ اسے صرف ’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘ کے معمار ہی کھڑا کر سکتے تھے۔

ہمارے پاس جمہوریت کا دوسرا ذریعہ عدالت ہے۔ آئین کا آرٹیکل 32 کہتا ہے کہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا ہمارا حق ’ضمانت یافتہ ہے‘۔ غور کیجیے کہ جس چیز کی ضمانت دی گئی ہے، وہ عدالت سے رجوع کرنے کی آزادی ہے۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی میں کیا ہوتا ہے، اسے ہم اس ملک میں روزانہ دیکھ سکتے ہیں اور اس پر مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ ہمارے بہترین وکلا پہلے ہی صورت حال پر اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ انتخابی کمیشن کی طرح یہاں بھی زوال آیا ہے۔


جمہوریت کا تیسرا ذریعہ (واحد ذریعہ جس پر ہمارا حقیقی اختیار ہے) احتجاج ہے۔ احتجاج سے ہمارا مقصد ہوتا ہے سامنے آ کر ریاست کو بتانا کہ ہمارے حقوق پامال ہوئے ہیں اور اسے یہ سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ حکومت ہمارے ووٹ کے ساتھ کھلواڑ کر سکتی ہے، جیسا کہ وہ کر رہی ہے، اور عدالتی نظام بھی انتظامیہ کی خدمت میں ہمارے ساتھ کھیل کھیل سکتا ہے، جیسا کہ وہ کرتا ہے۔ لیکن ہمارے جسموں پر زبردستی اپنا اختیار مسلط کرنا اس کے لیے زیادہ مشکل ہے، اگرچہ وہ اس کی کوشش کرتا ہے۔ ریاست کو اس کے غلط رویے سے روکنے کے لیے احتجاج ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت احتجاج کو روکنے، محدود کرنے اور اس کا گلا گھونٹنے کی کوششوں پر اتنی توانائی صرف کرتی ہے۔

زرعی قوانین اس وقت ختم ہو چکے تھے جب ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی متحرک ہو کر دہلی پہنچے۔ حکومت کو ان قوانین کو بالآخر منسوخ کرنے میں پورا ایک سال لگ گیا، اور یہ مہینے اس لیے ضائع ہوئے کہ بادشاہ عوام کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا دکھائی نہیں دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب عوامی صف بندی ہوئی تو اسی لمحے بہت سے لوگوں پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ جیت عوام کی ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فتح کے ساتھ معافی بھی شامل تھی۔ یہ معافی مشروط تھی، جیسا کہ معافی مانگنے والے شخص سے توقع کی جا سکتی ہے، لیکن بہرحال وہ معافی تھی۔


قومی رجسٹر برائے شہری (این آر سی) کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے والی بہادر مسلم خواتین اس کوشش کو روکنے میں کامیاب ہوئیں کہ آسام میں جو کچھ ہوا، وہ ہندوستان کے دوسرے حصوں میں بھی ہو۔ ہاں، یہ درست ہے کہ اس خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) نے ہمیں جس راستے پر ڈال دیا ہے، وہ بالآخر ہمیں اسی منزل تک لے جاتا ہے، لیکن حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، چاہے بی جے پی کی قیادت کروڑوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم، حقوق سے بے دخل اور حراست میں دیکھنے کے خیال سے کتنی ہی خوش کیوں نہ ہو رہی ہو۔

پُرامن اجتماع (آرٹیکل 19) ایک بنیادی حق ہے، یعنی ایسا حق جسے حکومت کی جانب سے پامالی کے خلاف اعلیٰ درجے کا تحفظ حاصل ہے۔ لیکن عملی طور پر گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس حق پر پابندیاں آزادی کے دائرے سے کہیں آگے نکل گئی ہیں۔ اور یہ پابندیاں اسی طرح برقرار رہیں گی، جہاں احتجاج کو مخصوص مقامات تک محدود اور حکومت کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ الا یہ کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کیا جائے، جیسا کہ آج دہلی کی سڑکوں پر نوجوان خواتین اور مرد کر رہے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے ہمارے عہد کی سب سے حوصلہ افزا بات یہی ہے۔ ایک سخت گیر آمرانہ ریاست کو بالآخر ہمارے نوجوانوں کی پُرجوش عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔