خواتین ریزرویشن کے لبادے میں بڑی سازش، وفاقی ڈھانچے کی بنیادیں ہلانے کی کوشش...ہرجندر

اگر حکومت واقعی میں وفاقی توازن برقرار رکھتے ہوئے خواتین کے تئیں انصاف کے لیے پرعزم ہے، تو قانون میں واضح دفعات شامل کی جانی چاہیے تھیں۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

ہرجندر

یہ بات شاید طویل عرصے تک ایک پہیلی بنی رہے کہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ خواتین ریزرویشن کے لبادے میں جو حد بندی بل پیش کیا گیا، اس کا پارلیمنٹ میں گر جانا تقریباً طے تھا، پھر بھی حکومت نے اس کے لیے اتنا بڑا اہتمام کیوں کیا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے اندر ملک بھر میں جو کچھ ہوا، اسے ہم بھول نہیں سکتے۔ جنوبی ہندوستان، بالخصوص تمل ناڈو میں جو ہوا اور جس طرح سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جس طرح سے ملک کے مختلف حصوں میں ایک دوسرے کے تئیں عدم اعتماد بڑھتا ہوا دکھائی دیا، وہ بتاتا ہے کہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا حد بندی بل اگر واقعی میں منظور ہو جاتا تو کتنے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر کس حد تک جا سکتی ہے۔

جمعرات، 16 اپریل کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مجوزہ حد بندی بل کی ایک کاپی جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا تھا اور سیاہ جھنڈا لہرا کر ریاست گیر احتجاج کا اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے اسے ’کالا قانون‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تملوں کو ’اپنے ہی ملک میں پناہ گزیں‘ بنا دے گا۔ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ جنوبی ریاستیں اس مسئلے پر متحد ہو کر احتجاج کر رہی ہیں، اور یہ تشویش اب شمالی ہندوستان تک پھیل رہی ہے۔ شرومنی اکالی دل کے لیڈر سکھبیر سنگھ بادل نے بھی اسے ’انتہائی امتیازی‘ قرار دیا۔


سب سے پہلے کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے عوامی سطح پر حکومت کے اصل ایجنڈے پر سوال اٹھایا تھا۔ ایک تلخ مضمون (دی ہندو، 16 اپریل 2026) میں انہوں نے لکھا کہ اصل تنازعہ خواتین ریزرویشن نہیں بلکہ حدبندی کا ہے۔ یہ منصوبہ انتہائی خطرناک ہے جو خود آئین پر حملہ ہے۔ اس مداخلت نے قومی بحث کو نام نہاد خواتین کے انصاف سے ہٹا کر جمہوری نمائندگی کے بنیادی سوال پر لا کھڑا کیا۔ جمعہ، 17 اپریل کو پارلیمنٹ نے اس بل پر ووٹنگ کی۔ نتیجہ وہی رہا جو یوگیندر یادو (’ناری وندن‘ کے بہانے قومی اتحاد پر حملہ، اب سمتوں میں بانٹنے کی سازش!) نے کہا تھا کہ حکومت کو پہلے سے ہی علم تھا کہ اس بل کا دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا انتہائی مشکل ہے، تو پھر یہ پورا کھیل کیا ہے؟ لوگ اور سیاسی جماعتیں ایسی حکومت پر کیسے بھروسہ کریں جو کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ اور ہے؟

پہلی نظر میں 2029 کے عام انتخاب سے قبل خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے کی حکومت کی پہل، اگرچہ دیر سے کی گئی، لیکن خوش آئند لگی۔ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا، فوری ضرورت کا حوالہ دیا گیا اور خواتین کے حقوق کی ایک کہانی گھڑی گئی۔ جیسے جیسے اس کی باریک دفعات پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی، یہ صاف ہوتا گیا کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ اسے ترقی پسند اصلاح کے طور پر پیش کیا گیا، جو جلد ہی چالبازی، آئین کے ساتھ کھلواڑ اور ایک تفرقہ انگیز کوشش کے طور پر دیکھا جانے لگا۔


بل کیا کہتا ہے، اس سے بڑی بات یہ بن گئی ہے کہ وہ کیا نہیں کہتا۔

گزشتہ مرتبہ حد بندی بل کی دفعہ 8 میں یہ واضح التزام تھا کہ انتخابی حلقوں کی حدود کا تعین 2001 کی مردم شماری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی، اس نے وفاقی توازن کا تحفظ کرتے ہوئے یہ بھی یقینی بنایا تھا کہ لوک سبھا میں ہر ریاست کے لیے مختص نشستوں کی کل تعداد 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر برقرار رہے گی۔ یہ محض ایک تکنیکی دفعہ نہیں تھی۔ یہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کی سیاسی اور اخلاقی بنیاد تھی۔ سوچ تھی کہ جن ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے کی پالیسیوں کو کامیابی سے نافذ کیا ہے، انہیں پارلیمنٹ میں نمائندگی کم کر کے سزا نہیں دی جائے گی۔ اس بار یہ التزام غائب تھا۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر مرکزی وزراء نے وعدے کرنے اور ضمانتیں دینے کی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان توازن، نشستوں کی تعداد اور ان کا تناسب جوں کا توں رہے گا۔ وزیر اعظم نے سمجھایا کی کہ کوئی بھی ریاست اپنی نشستیں نہیں کھوئے گی۔ مسئلہ یہ تھا کہ بل میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اس چوک کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نظر انداز نہیں کیا گیا۔ تمل ناڈو اور تلنگانہ میں لوگ جس طرح مشتعل ہوئے، اس سے اسے سمجھا جا سکتا ہے۔ قانونی نظریہ کہتا ہے کہ جو قانون میں درج نہیں ہوتا، وہ اکثر زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہیں سے من مانی اور من چاہی تشریحات کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ زبانی یقین دہانیاں، خواہ کتنی ہی پختہ کیوں نہ ہوں، قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ وہ نہ تو مستقبل کی حکومتوں کو پابند کر سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں قانونی طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں اپوزیشن کی تنقید کو تقویت ملتی ہے۔

کئی رہنماؤں کی دلیل ہے کہ یہ کچھ اور نہیں بلکہ خواتین ریزرویشن کے لبادے میں حد بندی ہے۔ یہ الزام محض بیان بازی نہیں ہے، بل کی نوعیت کا تجزیہ اسی نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے براہ راست سوال اٹھایا کہ اتنی تاخیر کیوں، اور اتنی غیر شفافیت کیوں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے مسئلے کو ’تکنیکی معاملہ‘ قرار دے کر ٹال رہی ہے۔


تنقید صرف نیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بل کے مسودے تک بھی جاتی ہے۔

چندی گڑھ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے کہا کہ اس کا خاکہ بہت غلط طریقے سے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر پارلیمنٹ کی طرح اسمبلیوں میں بھی 50 فیصد نشستیں بڑھائی جاتی ہیں تو اتر پردیش اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہو جائے گی۔ آئین کا آرٹیکل 170 کہتا ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 60 سے کم اور 500 سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ حکومت نے آرٹیکل 170 میں ترمیم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی ہے۔ ویسے، بل میں 50 فیصد نشستیں بڑھانے کا کوئی التزام نہیں تھا۔ یہ بات بھی صرف زبانی طور پر حکومت کے کچھ وزراء اور بی جے پی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ نے ہی کہی۔ اس سے ایک قانونی تضاد پیدا ہوتا ہے، یا تو مجوزہ توسیع غیر حقیقی تھی، یا پھر بل نامکمل تھا۔ دونوں ہی صورتوں میں، وضاحت کی کمی قانون سازی کی تیاری اور آئینی تعمیل پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

ان تکنیکی پہلوؤں کے علاوہ، ایک بڑا اور زیادہ اہم مسئلہ ہے، ہندوستان کے وفاقی توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش۔ دہائیوں تک یہ سیاسی اتفاق رائے رہا کہ حد بندی جب کبھی بھی کی جائے گی، ریاستوں کے درمیان توازن کو نہیں بگاڑنا چاہیے۔ یہ سمجھ ایک متنوع ملک کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی تھی، جہاں مختلف خطوں میں آبادیاتی رجحانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔


اب وہ اتفاق رائے ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

خاص طور پر جنوبی ریاستوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ اندیشہ محض نظریاتی نہیں ہے، بلکہ اس خوف پر مبنی ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی ازسر نو تقسیم قومی سطح پر فیصلے سازی کے عمل میں ان کی آواز کو کمزور کر دے گی، جبکہ انہوں نے نظم و نسق اور سماجی اشاریوں میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ فکر اوڈیشہ، ہماچل پردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں میں بھی مختلف شکلوں میں نظر آتی ہے، جنہیں نمائندگی میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حد بندی محض حدود کے تکنیکی تعین کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ نمائندگی، انصاف پسندی اور وفاقیت کے مفہوم پر جاری سیاسی جدوجہد کا مرکز بن گیا ہے۔

ان خدشات کو پوری کارروائی کی غیر شفافیت مزید گہرا بنا دیتی ہے۔ حد بندی کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں، اور اس کے فیصلے عدالتی نظرثانی سے بالاتر ہوتے ہیں۔ نشستوں کی تقسیم کے لیے اپنایا جانے والا طریقہ کار کافی حد تک عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، اور اس کے اندرونی مذاکرات بھی عام عوام کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔ جمہوریت میں اس طرح کی غیر شفافیت تشویشناک ہے۔ جب ایسے فیصلے، جو ہر شہری کے ووٹ کی اہمیت کا تعین کرتے ہیں، شفافیت کے بغیر لیے جاتے ہیں، تو جوابدہی دھندلی پڑ جاتی ہے۔ واضح قانونی ضوابط کی عدم موجودگی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اسی لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث نے اس بات کو بے نقاب کر دیا ہے جسے اصلاحات کی زبان کے پیچھے پہلے ہی چھپا دیا گیا تھا کہ حد بندی محض خواتین کی نمائندگی کا سوال نہیں ہے، بلکہ یہ اقتدار کی ازسر نو تقسیم کا معاملہ ہے۔ اقتدار ایک بار ہاتھ سے نکل جانے کے بعد، شاید ہی کبھی جدوجہد کے بغیر واپس ملتا ہے۔


اگر حکومت واقعی وفاقی توازن برقرار رکھتے ہوئے خواتین کے ساتھ انصاف کے لیے پرعزم ہے، تو قانون میں واضح دفعات شامل کی جانی چاہیے تھیں، اور نشستوں کی توسیع کے ڈھانچے کو واضح کرنے کے علاوہ آئینی تضادات کو بھی دور کرنا چاہیے تھا۔ اس سے کم کچھ بھی، طویل عرصے سے رکی ہوئی اس تبدیلی کو عدم اعتماد کے دائرے میں ڈال سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ حد بندی ہونی چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس طرح کی جائے گی کہ وفاق مضبوط ہو، یا یہ خاموشی سے اس کی بنیادوں کو ہلا دے۔