اوکھلا: ایک جنگل کے سجنے سنورنے کی داستان

تاریخ کے صفحات کو پلٹنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوکھلا بستی کے پھلنے پھولنے میں جمنا ندی کا کردار بہت اہم رہا ہے

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

تنویر احمد

’’میں دہلی میں 2004 سے مقیم ہوں۔ الگ الگ علاقوں میں رہ کر میں نے وہاں کے ماحول کو دیکھا اور کئی طرح کے تجربات سے گزرا ہوں۔ یہی سبب ہے کہ جب میری شادی ہوئی اور اپنی فیملی کے ساتھ دہلی میں رہنے کا ارادہ کیا تو کسی ایسے مقام کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا جہاں رہائشی اعتبار سے بنیادی سہولتیں بھی ہوں اور حفاظتی نقطہ نظر سے بھی بہتر ہو۔ میرے کچھ دوستوں نے اوکھلا کے بارے میں بتایا لیکن میں نے یہاں کی گندگی ،بجلی ا و رپانی کے مسائل سے متعلق سنا تھا۔ بہر حال اس سلسلے میں شاہین باغ، جامعہ نگر اور ابوالفضل انکلیو وغیرہ کے کچھ دوستوں سے تبادلہ خیال کیا اور پھر شاہین باغ میں مکان لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ فیملی کا تحفظ میرے لیے سب سے مقدم تھا۔ آج جب دہلی کے کسی بھی علاقے سے فرقہ واریت کی خبریں سنتا ہوں تو اطمینان ہوتا ہے کہ میری فیملی اوکھلا میں محفوظ ہے۔‘‘

یہ اظہار خیال شاہین باغ (اوکھلا) کے اکرم حق نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران کیا۔ فکّی (FICCI) میں سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکرم حق کی طرح ہی احمد فیض، آفتاب احمد اور محمد فہیم جیسی کئی شخصیات ہیں جنھوں نے اپنی فیملی کے تحفظ کا خیال کرتے ہوئے اوکھلا کے غفار منزل، نور نگر، ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس، ابوالفضل انکلیو، شاہین باغ جیسے علاقوں میں رہائش اختیار کی۔ لیکن کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ عصر کے بعد سے دیر رات تک چہل پہل والے اور مارکیٹنگ کے لحاظ سے خواتین کی پسند بن چکے ذاکر نگر، بٹلہ ہاؤس اور شاہین باغ جیسے علاقوں کی بنیاد کیسے پڑی اور کس طرح یہ دہلی کے مسلمانوں کے لیے بہترین آماجگاہ بن گی ہے۔

تاریخ کے صفحات کو پلٹنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوکھلا بستی کے پھلنے پھولنے میں جمنا ندی کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ 1874 میں انگریزوں نے آگرہ کنال (اسے اوکھلا کنال بھی کہتے ہیں) بنائی تھی جس میں جمنا ندی سے پانی آتا تھا۔ اس کے آس پاس مزدوروں کو بسایا گیا تھا جو زراعت بھی کرتے تھے۔ لیکن اس کی تاریخ کچھ اور پیچھے بھی ملتی ہے۔ ’والنٹئرس آف چینج‘ تنظیم کے کنوینر عبدالرشید اغوان کا کہنا ہے کہ ’’غالباً 1365 میں فیروز شاہ تغلق نے ’فیضی نہر‘ تعمیر کی تھی اور بعد میں اسی نہر کو دوبارہ انگریزوں نے 1874 میں شروع کر دیا اور اسے ہی ’آگرہ کنال‘ کا نام دیا۔‘‘ گویا کہ اوکھلا کی تاریخ تقریباً 650 سال قدیمی ہے۔ لیکن اوکھلا کے بسنے کے عمل میں تیزی 1935 کے بعد آئی جب جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی یونیورسٹی نے یہاں اپنا آشیانہ بنایا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ (تصویر قومی آواز)
جامعہ ملیہ اسلامیہ (تصویر قومی آواز)

دراصل جامعہ ملیہ اسلامیہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی تحریک آزادی کا بھی اہم مرکز تھا۔ چونکہ اس درسگاہ کی شروعات ایک جدید مدرسے کی شکل میں ہوئی تھی اس لیے یہاں مسلم طلباء اور مسلم اساتذہ کی تعداد زیادہ رہی۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اوکھلا کو کسی منصوبہ بندی کے تحت مسلم اکثریتی علاقہ نہیں بنایا گیا بلکہ ملک کی آزادی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا ءاور اساتذہ نے نظام الدین، مہارانی باغ اور پھر تیمور نگر، خضر آباد و جُلینا وغیرہ میں رہائش اختیار کی پھر دھیرے دھیرے آبادی بڑھتی گئی اور یہ آبادی اوکھلا کی وسعت کا سبب بنتی چلی گئی۔

کباب تیار کیے جانے کا منظر اور کباب کا مزہ لیتے ہوئے نوجوان لڑکے (تصویر قومی آواز)
کباب تیار کیے جانے کا منظر اور کباب کا مزہ لیتے ہوئے نوجوان لڑکے (تصویر قومی آواز)

آپ بوقت شام بٹلہ ہاؤس سیر کے لیے نکلیں گے تو چاروں طرف گہما گہمی نظر آئے گی۔ کہیں کباب اور پراٹھے کھاتے ہوئے لوگ نظر آئیں گے تو کہیں نوجوان چکن فرائی کا مزہ ل لے رہیں ہوں گے ، کہیں کپڑوں اور زیورات کی خریداری کرتی ہوئی خواتین نظر آئیں گی تو کہیں کھلونوں کی ضد کرتے ہوئے بچے دکھائی پڑیں گے۔ یہ اس علاقے کی آج کی تصویر ہے جہاں 70 کی دہائی میں جنگل ہوا کرتا تھا۔ آج کوئی اس بات پر یقین نہیں کرے گا کہ یہاں کبھی گیہوں اور چاول وغیرہ کی کھیتی ہواکرتی تھی۔ 55 سالہ یاسمین جو کہ 1972 میں ہی غفور نگر آ گئی تھیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’میں نے غفور نگر میں 500 روپے کی 75 گز زمین خریدی تھی۔ 12-13 سال کی عمر میں جب میں شادی کر کے یہاں آئی تھی تو بالکل سکون والا ماحول تھا۔ ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ میں دہلی میں ہوں۔‘‘

بوقت شام بٹلہ ہاؤس کی ایک دکان میں خریداری کرتی ہوئیں خواتین (تصویر قومی آواز)
بوقت شام بٹلہ ہاؤس کی ایک دکان میں خریداری کرتی ہوئیں خواتین (تصویر قومی آواز)

بڑھی ہوئی آبادی کے تعلق سے انھوں نے بتایا کہ ’’ 1976 میں جب ترکمان گیٹ کی جھگی جھونپڑیوں کو توڑا گیا اور وہاں سے لوگوں کو ہٹایا گیا تو کئی لوگوں نے اوکھلا میں پناہ لی۔ لیکن اوکھلا میں جن لوگوں نے اپنے گھر بنا رکھے تھے وہ ترکمان گیٹ معاملہ کے مدنظر بہت گھبرائے اور خوفزدہ ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جب ذاکر نگر میں زمین 5 روپے فی گز فروخت ہو رہی تھی تو کسی نے نہیں لی۔ انھیں خدشہ تھا کہ یہاں سے بھی لوگوں کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ ‘‘ بہر حال، کچھ وقت گزرنے کے بعد کچھ لوگوں نے سستی شرح پر زمین خرید کر گھر بنائے اور کچھ نے بغیر خریدے ہی چہار دیواری بنا کر غیر منظم انداز میں رہنا شروع کر دیا۔ بٹلہ ہاؤس، ذاکر نگر، غفور نگر اور اوکھلا کے دیگر علاقوں میں جتنی بھی بے ترتیب تعمیرات نظر آتی ہیں یہ سب غیر منظم اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کا ہی نتیجہ ہیں۔

بھیڑ، جو اوکھلا کی بڑھی ہوئی آبادی کا نظارہ پیش کر رہی ہے (تصویر قومی آواز)
بھیڑ، جو اوکھلا کی بڑھی ہوئی آبادی کا نظارہ پیش کر رہی ہے (تصویر قومی آواز)

1979-80 کا سال اوکھلا کی وسعت کے لحاظ سے انتہائی اہم ثابت ہوا کیونکہ ابوالفضل فاروقی نے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کیا جس نے بڑھتی ہوئی آبادی کو بسنے کے لیے ایک نئی جگہ فراہم کی۔ ابوالفضل انکلیو فاروقی صاحب کی سوچ کا ہی نتیجہ ہے۔ ’قومی آواز‘ نے جب ان سے تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے بتایا کہ ’’29 اکتوبر 1978 کا دن تھا جب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک سمینار کے دوران متفقہ طور پر یہ تجویز زیر غور آئی کہ ایک ایسی مسلم بستی بسائی جانی چاہیے جہاں وہ اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنے اقدار کے مطابق معاشرہ قائم کر سکیں۔ سمینار سے باہر نکل کر میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود ہی یہ کام کروں۔ پھر کسی سے کوئی مشورہ کیے بغیر خود ہی جمنا کے کنارے کی زمین کا جائزہ لیا اور الحمدللہ پلاٹنگ کے بعد فوراً فروخت کا کام بھی شروع ہو گیا۔‘‘ 77 سالہ فاروقی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ’’1980 میں جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ 99 پلاٹوں کو یکمشت خریدنا سنگ میل ثابت ہوا اور اس نے ابوالفضل انکلیو کو اہمیت کا حامل بنا دیا۔‘‘

اوکھلا کی وسعت کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا، بلکہ فاروقی صاحب کی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے کچھ دیگر لوگ بھی کھڑے ہو گئے اور ابوالفضل انکلیو پارٹ 2 یعنی شاہین باغ وغیرہ میں پلاٹنگ شروع ہو گئی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لے کر مرکز جماعت اسلامی ہند کے دفتر کے سامنے سے ہوتے ہوئے کالندی کنج تک اونچے اونچےفلیٹوں کی ایک لمبی قطار نظر آئے گی اور اب زمین کی کمی کی وجہ سے فلیٹوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اوکھلا کو ایک مثالی بستی بنانے کا خواب دیکھنے والے عبدالرشید اغوان کا کہنا ہے کہ ’’علاقہ منظور شدہ نہیں ہے اس لیے مکانات غیر منظم انداز میں تعمیر ہوئے ہیں۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اقلیتی طبقہ یہاں اپنے آپ کومحفوظ محسوس کرتا ہے اور اب تو بجلی، پانی، سڑک جیسی بنیادی سہولتیں بھی انھیں مہیا ہیں۔‘‘

ابوالفضل انکلیو میں موجود مشہور ریڈینس بلڈنگ (تصویر قومی آواز)
ابوالفضل انکلیو میں موجود مشہور ریڈینس بلڈنگ (تصویر قومی آواز)

اوکھلا کے ماضی اور حال پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس جنگل کو سجانے سنوارنے میں کئی مخلص اشخاص کا تعاون رہا ہے، لیکن منظور شدہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل ہنوز حل طلب ہیں۔ حالانکہ منظور شدہ ہونے کے عمل میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے لیکن راہیں اب بھی پرخار نظر آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود اوکھلا نے اپنی جو شناخت بنائی ہے، وہ دیگر علاقوں کے حصے میں نہیں آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس علاقے میں مرکز جماعت اسلامی ہند، مسلم پرسنل لاء بورڈ، اسلامک فقہ اکیڈمی، ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری اور میوزیم، مولانا ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم)، فاروس میڈیا اینڈ پبلشنگ سمیت درجنوں تعلیمی و تحقیقی ادارے اور طبی سہولیات سے مزین اسپتال موجود ہیں۔ ان سب کے باوجود یہاں کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جو اس علاقے کی شبیہ کو داغدار کرتے ہیں۔

اس سلسلے کی تفصیل آئندہ پیش کی جائے گی۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Sep 2017, 8:14 PM