سونے کی قیمتوں میں تیز چھلانگ، چاندی دوبارہ 2.27 لاکھ روپے فی کلو کی حد پار
اس ہفتے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سونا 3,600 روپے سے زائد مہنگا ہوا جبکہ چاندی 6,000 روپے سے زیادہ بڑھ کر دوبارہ 2.27 لاکھ روپے فی کلو کی سطح عبور کر گئی

نئی دہلی: ملک میں اس ہفتے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جس نے سرمایہ کاروں اور خریداروں دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 3600 سے زیادہ کا اضافہ ہوا، جبکہ چاندی بھی چھ ہزار روپے سے زائد مہنگی ہو گئی۔
انڈیا بلین جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 کیریٹ سونے کی قیمت بڑھ کر 146608 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ہفتے 142942 روپے تھی۔ اس طرح سونے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 3666 روپے فی 10 گرام کا اضافہ درج کیا گیا۔
اسی طرح 22 کیریٹ سونے کی قیمت 164293 روپے فی دس گرام ہو گئی، جبکہ 18 کیریٹ سونا بھی بڑھ کر 109130 روپے فی دس گرام تک پہنچ گیا۔ اس اضافے نے زیورات کے خریداروں کے لیے اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی مسلسل تیزی برقرار رہی۔ ایک ہفتے کے اندر چاندی 6166 روپے مہنگی ہو کر 227813 روپے فی کلو تک جا پہنچی۔ گزشتہ ہفتے اس کی قیمت 221647 روپے فی کلو تھی۔
ہفتے کے دوران اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔ یکم اپریل کو 24 کیریٹ سونے نے 150853 روپے فی دس گرام کی بلند ترین سطح حاصل کی، جبکہ دو اپریل کو اس کی کم ترین قیمت ایک 146608 روپے رہی۔ اسی طرح چاندی نے یکم اپریل کو 239836 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح چھوئی، جبکہ دو اپریل کو اس کی کم ترین قیمت 224660 روپے رہی۔
بازار کی سرگرمیوں پر تعطیلات کا بھی اثر پڑا۔ اکتیس مارچ کو مہاویر جینتی اور تین اپریل کو گڈ فرائیڈے کے باعث بلین مارکیٹ دو دن بند رہی، جس سے لین دین میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی رجحان تیزی کا ہی رہا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی قیمتی دھاتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 4702 ڈالر فی اونس جبکہ چاندی تہتر ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جس کا اثر مقامی بازاروں پر بھی صاف نظر آیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاری کے محفوظ ذرائع کی تلاش اور مانگ میں اضافہ وہ اہم عوامل ہیں جو سونے اور چاندی کی قیمتوں کو اوپر لے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں بھی ان دھاتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔