یو پی آئی پر مجوزہ چارج کے خلاف تاجروں کا احتجاج، مدھیہ پردیش میں آج ’نو یو پی آئی ڈے‘ کا اہتمام

مدھیہ پردیش میں تاجر تنظیموں کی اپیل پر آج ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا جا رہا ہے۔ تاجروں نے 2000 روپے سے زائد یو پی آئی ادائیگیوں پر مجوزہ چارج کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

بھوپال: مدھیہ پردیش میں یو پی آئی کے ذریعے 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر مجوزہ چارج کے خلاف تاجر آج ’نو یو پی آئی ڈے‘ منا رہے ہیں۔ ریاست کے بڑے تجارتی مراکز بھوپال اور اندور سمیت مختلف شہروں میں تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے مجوزہ چارج واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ ’نو یو پی آئی ڈے‘ آل انڈیا انڈسٹری ٹریڈ بورڈ، مدھیہ پردیش کی اپیل پر منایا جا رہا ہے۔ تاجر تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی یو پی آئی کے ذریعے قبول نہیں کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ یو پی آئی ڈیجیٹل ادائیگی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، لیکن بڑے لین دین پر اضافی چارج عائد ہونے سے کاروباری افراد پر مالی بوجھ بڑھے گا۔

ریاستی سطح پر تاجر تنظیم کے جنرل سکریٹری انوپم اگروال نے مجوزہ فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ قدم تاجروں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنے گا۔ ان کے مطابق تھوک کاروبار میں عام طور پر 2000 روپے سے زیادہ کے لین دین ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہر لین دین پر چارج ادا کرنا پڑا تو تاجروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ چارج کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یو پی آئی یا ڈیجیٹل ادائیگی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن بڑے لین دین پر اضافی چارج عائد کرنے کی تجویز قابل قبول نہیں ہے۔


ریاست کے سب سے بڑے تجارتی شہر اندور میں بھی تاجروں نے اس معاملے کے خلاف احتجاج کیا۔ مختلف تجارتی تنظیموں سے وابستہ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یو پی آئی کے ذریعے ادائیگیوں پر مجوزہ چارج کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ تاجر تنظیموں کے مطابق احتجاج کا مقصد حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ چارج نافذ کیا گیا تو خاص طور پر تھوک اور بڑے کاروباری لین دین میں تاجروں کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔

ادھر ریاست کے پٹرول پمپ ڈیلروں نے بھی اس معاملے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے تقریباً 4700 پٹرول پمپوں نے فیصلہ کیا ہے کہ 16 اکتوبر سے 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی یو پی آئی کے ذریعے قبول نہیں کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 15 اکتوبر سے 2000 روپے سے زیادہ کے مخصوص یو پی آئی مرچنٹ لین دین پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر عائد کرنے کی تجویز کے بعد تاجروں اور دیگر کاروباری شعبوں میں اس کے خلاف مخالفت سامنے آئی ہے۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس تجویز پر نظرثانی کرے اور چارج عائد کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔