ڈالر کے مقابلے روپیہ تاریخی گراوٹ کا شکار، پہلی بار پہنچا 92 کی سطح سے نیچے

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں تیزی اور غیر ملکی سرمایہ کے اخراج کے خدشات کے درمیان ہندوستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور پہلی بار 92 کا ہندسہ عبور کر گیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مالیاتی منڈیوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ بدھ کے روز ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور پہلی بار 92 کی سطح سے نیچے چلا گیا۔

خبر لکھے جانے تک دن کے دوران روپے کی قدر میں تقریباً 0.8 فیصد تک کمی درج کی گئی اور یہ ڈالر کے مقابلے تقریباً 92.30 پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ اس سے قبل روپے کی سب سے کم سطح 91.875 تھی، جو اسی سال کے آغاز میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق روپے میں اس گراوٹ کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی ہے، جس کے سبب عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے اور تجارتی خسارے میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ابھرتی ہوئی معیشتوں سے اپنا سرمایہ نکال سکتے ہیں، جس کا دباؤ روپے پر پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں کچے تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث گزشتہ دو دنوں میں کچے تیل کی قیمت تقریباً 12 سے 13 فیصد بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں نمایاں تصور کیا جا رہا ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد خام تیل بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اس وجہ سے عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا براہ راست اثر ملک کے درآمدی بل پر پڑتا ہے۔ اقتصادی اندازوں کے مطابق کچے تیل کی قیمت میں ہر ایک ڈالر کے اضافے سے ملک کے درآمدی بل میں تقریباً دو ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

مالیاتی تجزیہ کاروں نے درآمد کنندگان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈالر خریدنے کے لیے روپے میں ممکنہ بہتری کا انتظار کریں اور ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیا کی ممکنہ مداخلت پر بھی گہری نظر رکھیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے تیل اور گیس کی تنصیبات پر جوابی حملوں کے خدشات نے بھی منڈیوں کو پریشان کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تہران نے سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی روکنے کی دھمکی دی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی روپے پر بھی مزید دباؤ کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔