دو ہزار روپے کے بند نوٹ کی پوری واپسی اب بھی ادھوری، 5 ہزار کروڑ سے زائد رقم لوگوں کے پاس

ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق دو ہزار روپے کے بند نوٹوں کی 98.41 فیصد واپسی ہو چکی ہے، مگر پانچ ہزار چھ سو انہتر کروڑ روپے کے نوٹ اب بھی عوام کے پاس ہیں اور واپسی کی رفتار خاصی سست ہے

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے سال 2023 میں سرکولیشن سے باہر کیے گئے دو ہزار روپے کے گلابی نوٹوں کی مکمل واپسی اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ ریزرو بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے اختتام تک ان نوٹوں کی 98.41 فیصد واپسی ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود 5669 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے نوٹ ابھی بھی عوام کے پاس موجود ہیں۔ یہ صورتِ حال اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ ریزرو بینک نے ان نوٹوں کی واپسی اور تبدیلی کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کی تھیں۔

ریزرو بینک نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان نوٹوں کو انیس مئی 2023 کو چلن سے باہر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت بازار میں 356000 کروڑ روپے مالیت کے دو ہزار کے نوٹ موجود تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی واپسی کا عمل جاری رہا، تاہم ابتدائی مہینوں کے بعد اس رفتار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 کے آخر میں مارکیٹ میں موجود ان نوٹوں کی مالیت 5817 کروڑ روپے تھی، جو دسمبر کے آخر تک گھٹ کر 5669 کروڑ روپے رہ گئی۔ یعنی دو مہینوں کے دوران محض 148 کروڑ روپے کے نوٹ ہی واپس آ سکے۔


ریزرو بینک نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ سرکولیشن سے باہر کیے جانے کے باوجود دو ہزار روپے کے یہ نوٹ مکمل واپسی تک قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کو اب بھی انہیں تبدیل یا جمع کرانے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، واپسی کی سست رفتار نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم اب بھی عوام کے پاس کیوں موجود ہے۔

دو ہزار روپے کے نوٹ دراصل نومبر 2016 میں متعارف کرائے گئے تھے، جب 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کیے گئے تھے۔ بعد ازاں دیگر مالیت کے نوٹوں کی مناسب دستیابی کے بعد ریزرو بینک نے اپنی کلین نوٹ پالیسی کے تحت 19 مئی 2023 کو ان نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

ابتدا میں تمام بینک شاخوں کے ذریعے تبدیلی کی سہولت دی گئی، لیکن سات اکتوبر 2023 کے بعد یہ عمل محدود کر کے ریزرو بینک کے منتخب دفاتر تک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈاک کے ذریعے بھی نوٹ بھیج کر تبدیلی کی سہولت دی جا رہی ہے، تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔