کشمیر میں نامساعد حالات کے چلتے مقامی بیت المال متحرک

نوگام سے تعلق رکھنے والے محمد یونس نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں قائم بیت المال کو مزید متحرک اور مستحکم کیا گیا ہے تاکہ مستحقین کی بھر پور مالی معاونت کی جاسکے۔

تصویر یو این آئی
i
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے بیچ لوگوں نے اپنی فراخدلی اور جذبہ ایثار و ہمدردی اور مہمان نوازی کی قدیم روایت کو قائم ودائم رکھتے ہوئے مستحقین و مجبور افراد کی مالی معاونت کے لئے 'بیت المال' اور دیگر فلاحی اداروں کو متحرک کیا ہے اور بعض علاقوں میں نئے بیت المال قائم کیے جا رہے ہیں۔

بتادیں کہ وادی میں قریب دو ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث کثیر آبادی بے روزگار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ نوگام سری نگر سے تعلق رکھنے والے محمد یونس نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں قائم بیت المال کو مزید متحرک اور مستحکم کیا گیا ہے تاکہ مستحقین کی بھر پور مالی معاونت کی جاسکے۔


انہوں نے کہا کہ 'ہمارے علاقے میں پہلے ہی بیت المال قائم تھا لیکن وادی میں جاری نامساعد حالات کے بیچ اس کو مزید مستحکم اور متحرک کیا گیا ہے اور مستحقین کی بھر پور مالی معاونت کی جارہی ہے'۔ سری نگر کے ہی محمد اشرف نامی ایک شہری نے بتایا کہ مساجد میں بیت المال کو مستحکم و متحرک کرنے کے لئے باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے اور صاحبان ثروت سے بھر پور مالی معاونت کی اپیل کی جاتی ہے۔

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں بھی مختلف علاقوں میں قائم بیت المال اور دیگر فلاحی ادارے متحرک کیے گئے ہیں اور مستحقین اور مجبور افراد کی مدد کی جارہی ہے۔ کفایت حسین نامی ایک بیت المال انتظامیہ کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ صاحبان ثروت بھی بھر پور مدد کرتے ہیں اور باقی لوگ بھی حسب استطاعت مدد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں جس سے مستحقین کی مدد کی جارہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بیت المال کے ذریعے صرف مقامی مستحقین کی ہی مدد نہیں کی جارہی ہے بلکہ لوگ یہاں مقیم مزدروں و دیگر پیشوں سے وابستہ غیر ریاستی لوگوں کی بھی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔


بریانی دکان چلانے والے ایک غیر ریاستی دکاندار جو یہاں ہی ٹھہرا ہے، نے بتایا کہ اس کو کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے نہ اپنے خرچے کے لئے پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'میری یہاں بریانی کی دکان ہے وہ مسلسل بند ہے لیکن میرے مکان و دکان مالک نے مجھ سے کہا کہ ان مہنیوں کا کرایہ بھی معاف ہے اور آپ کے خرچے کھانے پینے وغیرہ کا بوجھ بھی ہم اٹھائیں گے'۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں قریب دو ماہ سے جاری غیریقینی صورتحال کے چلتے لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ عام ایام میں یومیہ مزدوری اور مختلف پیشہ ورانہ کام انجام دے کر لوگ اپنا اور اپنے اہل و عیال کے لئے دو وقت کی روٹی جٹا پاتے تھے، تاہم مرکزی سرکار کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی، مسلسل بندشوں کے بعد ایسے افراد کا روزگار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کے سبب مقامی بیت المال پر ایسے افراد کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے۔


دریں اثنا وادی میں دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کے خلاف بدھ کے روز مسلسل 59 ویں دن بھی ہڑتال رہی جس دوران گرمائی دارالحکومت سری نگر اور دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں و تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل رہی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔