گاڑیوں کی صنعت کے لئے راحت بھری خبر

مسافر گاڑیوں کی تھوک فروخت میں 14 فیصد اور دوپہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تین فیصد کا اضافہ درج کیا گیا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: پانچ ماہ سے کووِڈ-19 وبا کے سبب خستہ حال گاڑیوں کی صنعت کے لیے اگست کا مہینہ قدرے راحت رساں پایا گیا، کیونکہ اس مدت میں مسافر گاڑیوں کی تھوک فروخت میں 14 فیصد اور دوپہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تین فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ گاڑی بنانے والی کمپنیوں کی تنظیم سیام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں مسافر گاڑیوں کی گھریلو فروخت ایک سال پہلے کے مقابلے 14.16 فیصد بڑھ کر 2,15,916 پر پہنچ گئی۔

گذشتہ برس اگست میں یہ اعداد و شمار 1,89,129 تھے۔ اس میں کاروں کی فروخت 14.13 فیصد بڑھ کر 1,24,715 یونٹ، قابل استعمال گاڑیوں کی فروخت 15.54 فیصد بڑھ کر 81,842 یونٹ اور وین کی فروخت 3.82 فیصد کے اضافے کے ساتھ 9,359 یونٹ رہی۔

گھریلو بازار میں رواں برس اگست میں کل 15,59,665 دوپیہیہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ اگست 2019 میں یہ اعداد و شمار 15,14,196 یونٹ تھے۔ اس میں موٹر سائیکل کی فروخت 10.13 فیصد بڑھ کر 10,32,476 پر پہنچ گئی جبکہ اسکوٹر کی فروخت 12.30 فیصد کم ہو کر 4,56,848 رہ گئی۔ موپیڈ کی فروخت 25.65 فیصد بڑھ کر 70,126 یونٹ پر پہنچ گئی۔ علاوہ ازیں 215 الیکٹرک گاڑیاں بھی فروخت ہوئیں۔

کووِڈ۔19 کے مد نظر 24 مارچ سے پورے ملک میں نافذلاک ڈاؤن کی وجہ سے مارچ سے جولائی تک گاڑیوں کی فروخت متاثر تھی۔ رواں برس اپریل میں پہلی بار ایسا ہوا جب ملک میں کوئی گاڑی نہیں فروخت ہوئی۔ تیوہار کے موسم سے قبل گاڑی کے فروخت اور بائک کی فروخت کے رفتار پکڑنے سے گاڑی کی صنعت کو بڑی راحت ملی ہے۔

سیام۔صدر کینِچی آیوکاوا نے کہا،’(فروخت میں) اضافہ نظر آنا شروع ہو گیا ہے جس سے اس صنعت میں اعتماد کی لہر دوڑ گئی ہے بالخصوص دوپیہیہ (بائک) اور مسافر گاڑیوں کی کٹیگری میں۔ ایک سال پہلے کے مقابلے اگست میں فروخت بڑھی ہے لیکن اگست 2019 میں فروخت میں زبردست کمی تھی۔ اس وقت مسافر گاڑیوں کی فروخت 32 فیصد اور دوپیہیہ گاڑیوں کی فروخت 22 فیصد کم ہوئی تھی۔ اس میں کچھ کووِڈ۔19 کے سبب رکی ہوئی ڈیمانڈ اور تیوہار کے موسم کی ڈیمانڈ کی حصہ داری بھی ہے۔ علاوہ ازیں اگست کے اعداد و شمار بہتر اشارے دے رہے ہیں‘۔

سیام کے اعداد و شمار کے مطابق تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں سستی قائم ہے۔ ان کی فروخت 14,534 یونٹ رہی جو ایک برس قبل کے مقابلے 75.29 فیصد کم ہے۔ اس میں مسافر ٹرانسپورٹ والی گاڑیوں میں 84.27 فیصد اور مال ڈھلائی والی گاڑیوں میں 21.32 فیصد کی کمی درج کی گئی۔

رواں مالی سال میں اپریل سے اگست تک مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 49.41 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ گذشتہ برس کی اسی مدت میں 10,91,928 مسافر گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں جن کی تعداد کم ہو کر 5,52,429 رہ گئی ہے۔ اسی مدت میں دو پیہیہ گاڑیوں کی فروخت 48.57 فیصد کم ہو کر 41,34,132 یونٹ اور تین پیہیہ گاڑیوں کی 84.86 فیصد کم ہو کر 40,022 یونٹ پر رہی ۔

گاڑی کی کمپنیوں کو اگست میں برآمد (ایکسپورٹ) کے محاذ پر کساد بازاری کا سامنا رہا۔ کئی ملکوں میں لاک ڈاؤن اور مالی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہونے کے سبب گاڑیوں کی (برآمد) 45.17 فیصد کم ہو کر 38,116 یونٹ پر رہ گئی۔ گذشتہ برس اگست میں 69,516 مسافر گاڑیوں کی برآمد کی گئی تھی۔

دو پیہیہ گاڑیوں کی برآمد 14.23 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 2,55,842 یونٹ پر رہی۔ موٹر سائیکل کی برآمد میں 7.08 فیصد اور اسکوٹر کے ایکسپورٹ میں 62.89 فیصد کی تخفیف درج کی گئی۔ تین پیہیہ گاڑیوں کی برآمد 13.61 فیصد کم ہو کر 39,636 یونٹ پر آ گئی۔

    next