ایران-اسرائیل کشیدگی: سونے چاندی کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل-ایران کشیدگی اور امریکہ کی شمولیت کے بعد محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ بڑھی، جس سے سونے-چاندی کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد تیزی آئی اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی میں اضافہ ہوا

ممبئی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی فضا گہری ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے پیر کے روز قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ تیزی درج کی گئی۔
ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر اپریل وایا سونا کاروبار کے دوران تین فیصد سے زائد بڑھ کر ایک لاکھ 67 ہزار 915 روپے فی دس گرام کی یومیہ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح مارچ وایا چاندی بھی تین فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ دو لاکھ 85 ہزار 978 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی، جو دن کی بلند ترین قیمت رہی۔
خبر لکھے جانے تک صبح تقریباً 10 بج کر 46 منٹ پر اپریل ایکسپائری والا سونا چار ہزار 612 روپے یعنی 2.85 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 66 ہزار 716 روپے فی دس گرام پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ پانچ مارچ ایکسپائری والی چاندی دو اعشاریہ 66 فیصد یا سات ہزار 311 روپے کی تیزی کے ساتھ دو لاکھ 82 ہزار 309 روپے فی کلوگرام پر کاروبار کر رہی تھی۔
تہران میں کمان مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسرائیلی علاقوں اور خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں پر جوابی میزائل حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اتوار کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا، جس سے وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی رسد متاثر ہونے کی اندیشے نے بھی منڈیوں کو محتاط بنا دیا ہے۔
مو تیل لال اوسوال فنانشل سروسز لمیٹڈ کے کموڈیٹی تجزیہ کار منو مودی نے کہا کہ امریکہ۔ایران جنگ کے ماحول میں سونے نے گزشتہ ہفتے کی تیزی کو آگے بڑھایا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات پالیسی سے متعلق غیر یقینی نے بھی عالمی اقتصادی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
ڈالر انڈیکس صفر اعشاریہ 24 فیصد بڑھ کر 97 اعشاریہ 85 پر پہنچ گیا، جس سے ڈالر میں خریداری کرنے والوں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا اور قیمتوں کی رفتار پر جزوی دباؤ آیا۔ ادھر خام تیل کی قیمتوں میں بھی سات فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
سرمایہ کار اب بڑی معیشتوں کے مینوفیکچرنگ پی ایم آئی اعداد و شمار اور امریکی لیبر مارکیٹ کے ڈیٹا پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سال 2025 میں سونے کی قیمت میں 64 فیصد اضافے کے بعد موجودہ تیزی کو مرکزی بینکوں کی خرید، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری اور امریکی مالیاتی پالیسی میں نرمی کی توقعات سے تقویت ملی ہے۔ جے پی مورگن اور بینک آف امریکہ نے آئندہ برسوں میں سونے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔