صنفی مساوات کی منزل ابھی بہت دور

اقوام متحدہ کے مطابق صنفی مساوات کی رفتار انتہائی سست ہے۔ خواتین کو قیادت، معاشی مواقع اور تحفظ میں رکاوٹیں درپیش ہیں، جبکہ تشدد اور جنگی حالات مسائل مزید سنگین بنا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں صنفی مساوات کا ہدف حاصل کرنے میں شدید تاخیر ہو رہی ہے اور موجودہ رفتار سے اس منزل تک پہنچنے میں 171 سال لگ سکتے ہیں۔ سیاسی ڈھانچے، اقتصادی شعبے اور اعلیٰ ترین قانونی عہدوں پر مردوں کا غلبہ برقرار ہے، جبکہ خواتین کو قیادت کے مساوی مواقع دینے کے بجائے نظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر میں خواتین کو گھریلو اور جنسی تشدد کے علاوہ کم عمری کی شادی اور جبری رسومات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن پر قابو پانے کے لیے مالیاتی وسائل میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں بھی خواتین کو غیر متناسب طور پر تشدد اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، حالانکہ وہ امن کے قیام اور بحرانوں سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا اصرار ہے کہ پائیدار امن، جمہوریت اور ترقی کے لیے خواتین کی مساوی شرکت ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کوئی احسان نہیں بلکہ انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے۔

مفروضوں پر مبنی صنفی مساوات

کیا عالمی برادری واقعی ایک ایسی دنیا کی تعمیر کی طرف گامزن ہے جہاں مردوں اور عورتوں کو مساوی حقوق، تحفظ اور مواقع میسر ہوں؟ عام طور پر یہ مفروضہ قائم کر لیا جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات کا حصول خود بخود ممکن ہو جائے گا، لیکن اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار اس خوش فہمی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ (جینڈر سنیپ شاٹ 2026) اور ہیگ میں 'انٹرنیشنل سول سوسائٹی ایکشن نیٹ ورک' کے زیراہتمام منعقدہ 'خواتین، امن اور سیکورٹی فورم 2026' سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کے ویڈیو خطاب نے عالمی برادری کی توجہ ایک تلخ حقیقت کی طرف مبذول کروائی ہے: عالمی سطح پر صنفی مساوات کے حصول کی پیشرفت نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ یہ خطرناک حد تک جامد ہو چکی ہے۔ موجودہ پیشرفت کی رفتار کو مدنظر رکھا جائے تو کامل صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے دنیا کو مزید 171سال کا طویل اور تکلیف دہ انتظار کرنا پڑے گا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے طے کردہ 'پائیدار ترقیاتی ہدف 5' جس کا مقصد 2030 تک صنفی عدم مساوات کا مکمل خاتمہ تھا—کا ایک بھی ہدف اپنے طے شدہ وقت پر پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں، بلکہ عالمی ترجیحات کا ہے۔


2030 کا ہدف اور تلخ حقیقت

پائیدار ترقیاتی اہداف میں خواتین کے خلاف ہر قسم کے قانونی و سماجی امتیازی سلوک کا خاتمہ، صنفی بنیاد پر تشدد کا سدِ باب، کم عمری کی زبردستی شادی اور جبری رسومات جیسے اقدامات کا خاتمہ، نیز معاشی، سیاسی اور جائیداد کے حقوق میں ان کی مکمل شرکت کو یقینی بنانا شامل تھا۔ لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ سے سامنے آنے والے حقائق انتہائی چشم کشا ہیں:

• قانون سازی کی ناکامی:دنیا کے 195 ممالک میں سے ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خواتین کو کامل قانونی مساوات حاصل ہو، جبکہ زیرِ مطالعہ 131 ممالک میں سے 51 فیصد میں شدید قانونی خلا موجود ہیں۔

• معاشی اور جائیداد کے حقوق سے محرومی: دنیا کے تقریباً دو تہائی ممالک میں خواتین کے جائیداد کے حقوق کا کوئی قانونی تحفظ میسر نہیں ہے، جبکہ 30 فیصد سے بھی کم ممالک جائیداد کی مشترکہ رجسٹریشن یا جائیداد کے انتظام و انصرام میں خواتین کی شرکت کو قانونی طور پر یقینی بناتے ہیں۔

• کم عمری کی شادیاں: عالمی سطح پر تقریباً پانچ میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔

• جسمانی تشدد اور مضر رسومات: دنیا بھر میں اس وقت 23 کروڑ سے زائد خواتین اور لڑکیاں تکلیف دہ رسم سے متاثرہ ہیں۔

• شریکِ حیات کا تشدد:دنیا بھر میں تقریباً 3 میں سے 1 عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے ۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے اقتصادی و سماجی امور، لی جونہوا نے رپورٹ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ 171 سال کا طویل عرصہ کوئی قدرتی تاخیر یا تاریخی حادثہ نہیں ہے، بلکہ یہ سیاسی سستی، پالیسی سازوں کے دانستہ فیصلوں اور فنڈز کی مسلسل کٹوتی کا مستقیم نتیجہ ہے۔

فیصلہ سازی میں مردوں کا غلبہ

سیاسی اور معاشی فیصلہ سازی کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں مردوں کا مکمل غلبہ صنفی مساوات کی راہ میں سب سے بڑی ساختار(اسٹرکچرل) رکاوٹ ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی اقتدار کا ترازو شدید حد تک غیر متوازن ہے۔دنیا کے ہر 7 میں سے 6 ممالک کی حکومت اس وقت مردوں کے ہاتھ میں ہے۔سیاست میں داخلے کی مالی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ بعض ممالک میں بھاری مالیاتی دیوار خواتین کو انتخابی دوڑ شروع ہونے سے پہلے ہی باہر کر دیتی ہے۔جو خواتین تمام تر مالی رکاوٹیں عبور کر کے آگے آتی ہیں، انہیں شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض ممالک میں انتخابی میدان میں اترنے والی 10 میں سے 8 خواتین کو عوامی زندگی میں تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


اگر خواتین حکومتوں میں شامل ہو بھی جائیں، تو انہیں سیکورٹی اور معاشی پاور رکھنے والے پورٹ فولیوز سے دور رکھا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تقریباً 10 میں سے 9 وزرائے دفاع اور 10 میں سے 8 سے زائد وزرائے خزانہ مرد ہیں۔کارپوریٹ دنیا اور عدالتی نظام کی حالت یہ ہے کہ عالمی سطح پر صرف 6 فیصد سی ای اوز خواتین ہیں، جبکہ دنیا کی اعلیٰ ترین عدالتوں کی سربراہی میں خواتین کا تناسب 20 فیصد سے بھی کم ہے۔

جب کسی معاشرے کی نصف آبادی کو ریاستی و معاشی فیصلوں سے دور رکھا جائے تو وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا کامل دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ جامع جمہوریت کی پہلی شرط ہی تمام شہریوں کی مساوی نمائندگی ہے۔

ترقیاتی امداد اور بجٹ میں کٹوتیاں

ایک طرف جہاں عالمی بحرانوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف صنفی مساوات کے لیے مختص مالی وسائل کو بے دردی سے واپس لیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ترقیاتی امداد میں مجموعی کٹوتیوں کے باعث صنفی عدم مساوات کا مقابلہ کرنے والے پروگراموں کے لیے فنڈنگ 2021 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ فنڈز کی اس شدید قلت کی وجہ سے اقوام متحدہ کے 42 فیصد اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی صنفی مساوات کے لیے کی جانے والی کوششیں براہِ راست متاثر اور کمزور ہوئی ہیں۔یہ کٹوتیاں دراصل پورے '2030 ایجنڈا' کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، کیونکہ صنفی مساوات کوئی ثانوی یا اضافی خرچ نہیں، بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی معاشی و سماجی پائیداری کی بنیادی شرط ہے۔

امن اور جنگ میں نیا زاویہ

وولکر ترک نے مسلح تنازعات میں خواتین کے کردار اور ان پر پڑنے والے اثرات کا ازسرنو جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق،67.6 کروڑ خواتین اور لڑکیاں فعال جنگی علاقوں کے 50 کلومیٹر کے دائرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھیں، جو کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ خواتین جنگی ریپ، اغوا، انسانی تسکری اور جنسی غلامی کا سب سے زیادہ شکار بنتی ہیں۔ تاہم، وولکر ترک نے خواتین کو محض "مظلوم" یا "شکار" کے طور پر پیش کرنے کے رواجی رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "خواتین محض شکار نہیں ہیں... اس کے برعکس: پوری دنیا میں، سخت ترین اور پرتشدد ماحول میں بھی، خواتین قیادت، تنظیم، ثالثی اور خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

وولکر ترک نے قومی سیکورٹی کے روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہوئے اسے نیا زاویہ دیا۔ ان کے مطابق، حقیقی اور پائیدار سیکورٹی فوجی بجٹ میں بے تحاشا اضافے سے حاصل نہیں ہوتی—جو عوام کی صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کا بجٹ نگل جاتے ہیں—بلکہ حقیقی سیکورٹی کی بنیاد مساوات اور عدم تفریق، عدل و انصاف پر مبنی غیر جانبدار اور جوابدہ ادارے، معاشی اور سماجی انصاف، پرامن ثالثی اور انسانی حقوق کی احترام پر مبنی حکمرانی جیسےاصولوں پر استوار ہوتی ہے۔


دنیا غلط سمت میں گامزن

171سال کا متوقع انتظار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اس وقت ایک غلط سمت میں سفر کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ ڈیٹا ثابت کرتا ہے کہ صنفی مساوات کا حصول محض وقت کا گزرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری حکومتوں، اداروں اور سیاسی رہنماؤں کے انتخاب کا نام ہے۔ وولکر ترک کا یہ قول عالمی برادری کے لیے ایک بنیادی مشعلِ راہ ہے کہ " صنفی مساوات کوئی ایسا احسان نہیں ہے جو مرد عورتوں پر کر رہے ہیں۔ یہ انسانیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا فائدہ ہر ایک کو ہوتا ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔